سائبر حملوں سے دنیا بھر کے 86 فیصد چھوٹے کاروبار متاثر

فشنگ، رینسم ویئر اور مالویئر بڑے خطرات، 22 فیصد اداروں کو سنگین سائبر واقعے سے مالی نقصان کا سامنا، کیسپرسکی

جمعرات 10 ستمبر 2026 17:38

سائبر حملوں سے دنیا بھر کے 86 فیصد چھوٹے کاروبار متاثر
ْکراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 ستمبر2026ء) کیسپرسکی کے ایک نئے عالمی سروے کے مطابق دنیا بھر میں 86 فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم ایک سائبر حملے یا سائبر سیکیورٹی واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔سروے کے مطابق ایس ایم ایز کو درپیش سب سے زیادہ نقصان دہ خطرات میں فشنگ حملے، سافٹ ویئر اور ویب ایپلی کیشنز کی خامیوں سے فائدہ اٹھانے والے حملے، بڑے پیمانے پر پھیلنے والا مالویئر، رینسم ویئر، بیرونی ریموٹ رسائی اور مصنوعی ذہانت کی کمزوریوں کو نشانہ بنانے والے حملے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنگین ترین سائبر واقعے کے نتیجے میں 22 فیصد اداروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ دیگر نقصانات میں صارفین کے ڈیٹا کی چوری، ویب سائٹس اور آن لائن اسٹورز جیسی خدمات میں عارضی تعطل، آئی ٹی نظام پر کنٹرول کا خاتمہ اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل شامل رہا۔

(جاری ہے)

اعداد و شمار کے مطابق سائبر حملوں میں سب سے زیادہ صارفین کا ڈیٹا متاثر ہوا، جس کی شرح 32 فیصد رہی، جبکہ حساس اندرونی معلومات بشمول مالی اور قانونی دستاویزات 28 فیصد، ملازمین کی اسناد 25 فیصد اور کاروباری حکمت عملی سے متعلق معلومات 23 فیصد حملوں کا نشانہ بنیں۔

سروے کے مطابق شدید نوعیت کے حملوں میں 50 فیصد آئی ٹی شعبوں اور 46 فیصد آئی ٹی سیکیورٹی شعبوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اکاؤنٹنگ اور مالیاتی شعبے 24 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ چھوٹے کاروباری اداروں کے کسٹمر سروس چینلز بھی خاص طور پر متاثر ہوئے، جہاں حملوں کی شرح 21 فیصد ریکارڈ کی گئی۔سائبر گورننس کے ماہر اسد الرحمٰن نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی اب صرف بڑے کاروباری اداروں کا مسئلہ نہیں رہی، پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی تیزی سے سائبر خطرات کی زد میں آ رہے ہیں۔

ان کے مطابق ایس ایم ایز کے پاس محدود وسائل ہونے کے باعث سائبر حملوں کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں، اس لیے سائبر سیکیورٹی میں سرمایہ کاری کو محض آئی ٹی اخراجات کے بجائے کاروباری تسلسل اور صارفین کے اعتماد کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام سمجھنا چاہیے۔کیسپرسکی کے یونیفائیڈ پلیٹ فارم پروڈکٹ لائن کے سربراہ ایلیا مارکلوف نے کہا کہ سائبر حملے بعض اوقات محدود وسائل رکھنے والے چھوٹے کاروباری اداروں کی بقا کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں، اس لیے انہیں اپنی ضروریات اور کاروباری حجم کے مطابق قابل توسیع سیکیورٹی نظام اختیار کرنا چاہیے۔

کیسپرسکی نے کاروباری اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بجٹ اور صنعت کی ضروریات کے مطابق سیکیورٹی حل اپنائیں، ملازمین کے آلات پر سیکیورٹی سافٹ ویئر نصب کریں اور عملے کی سائبر سیکیورٹی سے متعلق تربیت پر توجہ دیں۔ کمپنی نے چھوٹے کاروباروں کے لیے اپنے سیکیورٹی حل اور ملازمین میں سائبر سیکیورٹی سے متعلق بہتر عادات پیدا کرنے کے لیے خودکار آگاہی پروگرام استعمال کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔