دھمکی آمیز خطوط نے کشمیری پنڈتوں کے خدشات تازہ کر دیے

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 10 ستمبر 2026 18:00

دھمکی آمیز خطوط نے کشمیری پنڈتوں کے خدشات تازہ کر دیے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 ستمبر 2026ء) بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو موصول ہونے والی نئی دھمکیوں نے وادی واپس آنے والوں کے تحفظ سے متعلق خدشات ایک بار پھر بڑھا دیے ہیں۔

کشمیری پنڈت 1990 کی دہائی میں مسلح شورش کے دوران مسلم اکثریتی وادی کشمیر سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ بعد ازاں بھارت کی وفاقی حکومت کی بحالی اسکیم کے تحت ان میں سے بعض افراد سرکاری ملازم کی حیثیت سے دوبارہ وادی میں آ کر آباد ہوئے۔

اگست کے آخری ہفتے میں منظر عام پر آنے والے ان خطوط میں متعدد سرکاری ملازمین کے نام درج تھے۔ ساتھ ہی ان کے جموں میں واقع گھروں کے پتے، گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر اور فون نمبرز بھی شامل تھے، جس سے ان کے تحفظ کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

(جاری ہے)

ذاتی معلومات افشا

سرکاری ملازم انیل کول نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معلومات افشا ہونے کی وجوہات کی تحقیقات کی جائیں۔

انیل کول نے مزید کہا، ''اس نوعیت کے دھمکی آمیز خطوط اگست کے آغاز میں بھی سامنے آئے تھے لیکن تازہ خطوط میں جموں میں ہمارے رہائشی پتے، گاڑیوں کی تفصیلات اور فون نمبرز بھی شامل ہیں، جو سوشل میڈیا پر بھی پھیلائے جا چکے ہیں۔‘‘

یہ خطوط ایک نسبتاً غیر معروف گروپ ''یونائیٹڈ لبریشن کونسل‘‘ کے نام سے منسوب کیے جا رہے ہیں۔

بعض سکیورٹی حکام کے مطابق اس گروپ کے پاکستان میں قائم تنظیم لشکر طیبہ سے ممکنہ روابط ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

رپورٹس کے مطابق یہ گروپ پہلی بار جولائی میں منظرعام پر آیا تھا، تب اس نے ایک سابق عسکریت پسند کمانڈر کی برسی کے موقع پر ایک پوسٹر جاری کیا تھا۔ تاہم حکام نے تاحال نہ تو ان خطوط کی صداقت کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی ان کے پیچھے موجود گروپ کے وجود کی۔

تازہ خطوط میں ان کشمیری پنڈتوں اور بحالی اسکیم کے تحت وادی آنے والے ملازمین کے درمیان تفریق کی گئی ہے۔ خطوط میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ بحالی اسکیم کے تحت آنے والے بعض افراد کشمیر سے باہر موجود عناصر کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

ان نئی دھمکیوں نے سیاسی سطح پر بھی ایک تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے ان دھمکی آمیز خطوط کو ایک ''سازش‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے بقول اس کا مقصد علاقے کی اُس ریاستی حیثیت کی بحالی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنا یا تاخیر پیدا کرنا ہے، جو 2019 میں ختم کر دی گئی تھی۔

فاروق عبداللہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ خطے سے باہر کے ہندو افسران کو ایسی دھمکیوں کا سامنا کیوں نہیں کرنا پڑ رہا۔

ان کے اس بیان پر کشمیری پنڈت تنظیموں اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سخت تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ان کا یہ مؤقف کشمیری پنڈت برادری کے خوف اور سکیورٹی خدشات کے بارے میں غیر حساس رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

مانوس خدشات

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1990 سے اب تک سلامتی کے خدشات کے باعث نقل مکانی کرنے والے 44,167 کشمیری خاندانوں کا اندراج کیا گیا، جن میں 39,782 خاندان ہندو برادری سے تعلق رکھتے تھے۔

تاہم کشمیری پنڈت برادری کے نمائندوں کے نزدیک تازہ دھمکیاں ایک طویل عرصے سے جاری سکیورٹی خدشات کا ہی تسلسل ہیں۔

کشمیری پنڈت اسٹرگل کمیٹی (KPSS) کے صدر سنجے ٹکو کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں کو وادی میں تعینات کشمیری پنڈت سرکاری ملازمین کو درپیش ٹارگٹ کلنگز اور مسلسل سکیورٹی خدشات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سکیورٹی میں خامیاں بدستور موجود ہیں اور 2022 میں قتل کے واقعات کی لہر کے بعد حکام کے ساتھ ہونے والی متعدد ملاقاتیں بھی ان خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

سنجے ٹکو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،'' 2022 سے اب تک ہونے والی ملاقاتوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔‘‘ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ دھمکیاں دینے والوں کو سرکاری ملازمین کی ذاتی معلومات کیسے حاصل ہوئیں۔ ان کے بقول، ''یہ معلومات سوشل میڈیا تک کیسے پہنچ رہی ہیں؟‘‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے واقعات وقفے وقفے سے پیش آتے رہے ہیں۔

2020 سے 2022 کے درمیان تشدد میں اضافے کے دوران کم از کم سات کشمیری پنڈت عسکریت پسندانہ حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

ان واقعات میں سب سے نمایاں واقعہ راہول بھٹ کا تھا، جو محکمہ مال کے ایک کشمیری پنڈت اہلکار تھے اور مئی 2022 میں ضلع بڈگام میں اپنے سرکاری دفتر کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دیے گئے تھے۔

کشمیری پنڈت برادری کے کسی فرد کی آخری تصدیق شدہ ٹارگٹ کلنگ اکتوبر 2022 میں سامنے آئی تھی، تب ضلع شوپیاں میں باغات کے مالک پورن کرشن بھٹ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

جموں و کشمیر پولیس کے سابق سربراہ ایس پی وید کے مطابق تازہ دھمکیاں ایک ایسے طرز عمل کا حصہ ہیں، جو ماضی میں بھی عسکریت پسند گروہوں سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ''اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘

ایس پی وید کے مطابق ماضی میں وادی میں کام کرنے والے مہاجر مزدوروں کو بھی اسی نوعیت کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس بار نمایاں فرق دھمکیوں کے طریقہ کار میں دیکھا جا رہا ہے۔ خطوط میں شامل ایسی ذاتی معلومات، جن تک عام طور پر آسانی سے رسائی نہیں ہونی چاہیے، منظر عام پر آ چکی ہیں۔ تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ معلومات کس ذریعے سے لیک ہوئیں یا ان کے افشا کرنے کا ذمہ دار کون ہے۔

واپسی کا مشکل فیصلہ

کشمیر پنڈت سنگھرش سمیتی (KPSS) کے اندازوں کے مطابق تقریباً 6,500 کشمیری پنڈت ایسے ہیں، جو وادی سے کبھی نہیں گئے جبکہ وفاقی حکومت کی بحالی اسکیم کے تحت سرکاری ملازم کی حیثیت سے واپس آنے والے مزید 4,000 کے قریب کشمیری پنڈت بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مقیم ہیں۔

تاہم تین دہائیاں قبل وادی چھوڑنے والوں کی واپسی اور دوبارہ انضمام کا عمل آسان ثابت نہیں ہوا۔

Our Moon Has Blood Clots: A Memoir of a Lost Home in Kashmir کے مصنف اور صحافی راہول پنڈیتا کے مطابق کشمیری پنڈتوں کی بحالی کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پاس کشمیری ہندوؤں کی بحالی کے لیے کوئی جامع پالیسی نہیں ہے۔

‘‘

ان کے بقول وادی میں تعینات سرکاری ملازمین دراصل سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور حکومت میں متعارف کرائی گئی اسکیم کے تحت واپس آئے تھے۔

راہول پنڈیتا نے کہا کہ بعض لوگوں کو ان کی زمینیں واپس ملی ہیں اور قتل کے کچھ واقعات کی تحقیقات بھی کی گئی ہیں لیکن ان کے بقول ''یہ اقدامات بہت کم اور بہت تاخیر سے کیے گئے ہیں۔

‘‘ ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی حکومت کشمیری پنڈتوں کی بڑے پیمانے پر واپسی کے لیے مکمل طور پر محفوظ ماحول کی ضمانت نہیں دے سکتی۔

انہوں نے مزید کہا، ''حکومت چاہے جتنے بھی اقدامات کرے، حالات کبھی اتنے سازگار نہیں ہوں گے کہ کشمیری پنڈت بلا خوف و خطر واپس آ سکیں۔‘‘

پنڈیتا کے مطابق جب تک خطے میں اسلام پسند عسکریت پسندی موجود ہے، کشمیری ہندو نشانہ بننے کے خدشات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا، ''پھر یہ خود کشمیری پنڈتوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ ایسا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔‘‘

راہول پنڈیتا کے مطابق سرکاری ملازمین کے علاوہ بعض کشمیری پنڈت ایسے بھی ہیں جو واپس آ کر وادی میں کاروبار قائم کر رہے ہیں اور نسبتاً خاموشی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے بقول، ''وادی کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کے لیے فی الحال شاید یہی سب سے بہتر ممکنہ صورتحال ہے۔

‘‘

تحفظ، جو صرف سکیورٹی سے ممکن نہیں

سینٹر فار ڈائیلاگ اینڈ ریکنسیلی ایشن کی ایگزیکٹیو سکریٹری سشوبھا باروے کے مطابق حالیہ دھمکیاں ایک وسیع تر سکیورٹی تضاد کو بے نقاب کرتی ہیں۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ''معمولات کی بحالی کے دعوؤں کے باوجود، سرگرم عسکریت پسندوں کا ایک نہایت چھوٹا گروہ مہاجر خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

خوف اور ہراس کے اس سلسلے کو توڑنا ناگزیر ہے۔‘‘

باروے کے مطابق جموں و کشمیر کو ریاستی حیثیت واپس دینے میں تاخیر پر سیاسی بے چینی بھی بڑھ رہی ہے اور یہ احساس محرومی پورے خطے میں پایا جاتا ہے۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر امیتابھ متو کہتے ہیں کہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے جب وہ محفوظ ہوں۔

کشمیر امور کے ماہر متو نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی سلامتی کو یقینی بنائے اور ان کی املاک، ثقافتی ورثے اور دیگر جائز حقوق کا تحفظ کرے۔ تاہم صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔‘‘

متو کے مطابق کشمیری پنڈتوں کی محفوظ واپسی کے لیے صبر آزما مفاہمتی عمل، مقامی سول سوسائٹی کے ساتھ مسلسل رابطہ اور مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد، سماجی روابط اور معاشی تعلقات کی بتدریج بحالی بھی ضروری ہے۔