آسٹریلیا کے سات سابق کپتانوں کی جانب سے عمران خان کے لیے انسانی بنیادوں پر اپیل

سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کو عمران خان کی صحت، خاص طور پر دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی اطلاعات کا مکمل اور آزادانہ جائزہ لینے کی اجازت دی جائے : سابق کپتان

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب منگل 15 ستمبر 2026 11:24

آسٹریلیا کے سات سابق کپتانوں کی جانب سے عمران خان کے لیے انسانی بنیادوں ..
سڈنی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 15 ستمبر 2026ء ) آسٹریلیا کے کرکٹ ٹیم کے سات سابق کپتانوں نے پاکستان میں عمران خان کی حراست کے حوالے سے انسانی بنیادوں پر اپنے خدشات کا اظہار کرنے کے لیے آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ سے رابطہ کیا ہے۔
آسٹریلین وزیر خارجہ کو بھیجے گئے خط پر دستخط کرنے والوں میں ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کم ہیوز، مارک ٹیلر اور اسٹیو وا شامل ہیں۔

 
انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ "سفارت کاروں یا سیاسی شخصیات کے طور پر نہیں بلکہ ایسے سابق کپتانوں کے طور پر لکھ رہے ہیں جنہوں نے آواز اٹھانا اپنا فرض سمجھا"۔ 
خط میں گروپ نے واضح کیا ہے کہ وہ "عمران خان کے خلاف قانونی یا سیاسی مقدمے پر کوئی موقف اختیار نہیں کر رہے" اور اسے پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔

(جاری ہے)

 

انہوں نے لکھا ہے کہ ان کا تعلق حراست میں موجود کسی بھی شخص کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے ہے، اور اسے "بنیادی انسانیت کا معاملہ" قرار دیا ہے، قطع نظر اس کے کہ متعلقہ شخص کی سیاست کیا ہے۔

 
یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وزیر اعظم عمران خان کے حق میں نامور سابق بین الاقوامی کرکٹرز کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین اپیل ہے۔ 
دنیا بھر سے 22 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے 23 اگست کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کے لیے بہتر طبی سہولیات کا مطالبہ کیا تھا۔ 
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ طبی سہولیات سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق نہیں ہیں۔

 
خط میں تین مخصوص مطالبات کیے گئے تھے: 
1. سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کو — جس میں عمران خان کے اپنے ڈاکٹر بھی شامل ہیں — ان کی صحت، خاص طور پر دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی اطلاعات، کا مکمل اور آزادانہ جائزہ لینے کی اجازت دی جائے 
2. عدالت کی جانب سے بحال کی گئی ہفتہ وار خاندانی ملاقاتوں کو بغیر کسی رکاوٹ یا انتظامی تاخیر کے یقینی بنایا جائے 
3. طبی جائزے کا نتیجہ کچھ بھی ہو اس کے تحت تجویز کردہ علاج بلا تاخیر فراہم کیا جائے۔

 
یہ اقدام اس پہلے خط کے بعد کیا گیا ہے جو رواں سال فروری میں 14 سابق بین الاقوامی کپتانوں کے دستخطوں کے ساتھ لکھا گیا تھا۔ 
اس کے بعد سے پاکستان کے سابق کرکٹرز میں جاوید میانداد، وسیم اکرم اور معین خان، نیز آسٹریلیا کے موجودہ کپتان پیٹ کمنز بھی اس معاملے پر آواز اٹھا چکے ہیں۔
تازہ ترین خط میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ عمران خان کے بیٹے اور بہنیں کئی ماہ سے عوامی سطح پر ان کی صحت اور حراست کے دوران کیے جانے والے سلوک بشمول محدود طبی سہولیات، خاندان سے رابطے پر پابندی اور قانونی مشیر تک انتہائی محدود رسائی کے بارے میں خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

 
گریگ چیپل نے بھی گزشتہ ماہ گروپ کی جانب سے اس معاملے پر بات چیت کے لیے وزیر خارجہ وونگ سے ملاقات کی درخواست کی تھی لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔