Live Updates

وفاقی کابینہ میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر بالکل غور ہوا ہے

اسمارٹ لاک ڈاؤن سے تیل کے استعمال اور حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے گی، اسمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان جلد متوقع ہے، اختیار ولی کی تصدیق

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 15 ستمبر 2026 22:41

وفاقی کابینہ میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر بالکل غور ہوا ہے
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 15 ستمبر 2026ء ) وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ میں اسمارٹ لاک ڈاؤن پر غور ہوا ہے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے علاوہ بھی 2 سے 3 فیصلوں پر کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی آئیڈیل صورتحال سے نہیں گزر رہا، آئی ایم ایف کا پروگرام اور ڈالر ریٹ کا اوپر جانا ، عالمی مارکیٹ میں پیٹرول مہنگا ہونا یہ ساری چیزیں آئیڈیل نہیں ہیں، حکومت نے اس سے پہلے بھی ڈیڑھ سو ارب روپے کی سبسڈی دی تھی، موجودہ حالات کے تناطر میں جیسا کہ 270روپے فی لیٹرتیل کا ریٹ ہے۔

ساری چیزوں کا سوچنا ہوتا ہے، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر غور ہوا ہے، پیٹرول ڈیزل کا استعمال کم ہوجائے، حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان ہوجائے گا، چار دن دفاترز اور تعلیمی اداروں میں کام کیا جائے اور تین دن چھٹی دی جائے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے علاوہ بھی دو تین فیصلوں پر کام ہورہا ہے ،حکومت چاہتی ہے عوام پر بوجھ کم ازکم پڑے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاﺅن کی تجویز زیر غور نہیں آئی اور نہ ہی اسلام آباد بند ہونے جا رہا ہے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاﺅن کی بات نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں تبادلہ خیال نہیں ہوا اور نہ ایسی کوئی بات میرے علم میں ہے. انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی زیرصدارت پیٹرولیم مصنوعات پر بحث ہوئی ہے اور تین مہینوں کے لیے تھری ویلر، 800 سی سی گاڑی کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تمام عوامی نمائندوں کی ڈیوٹی لگا رہے ہیں کہ وہ لوگوں کو آگاہی فراہم کریں قبل ازیں نجی چینلزاور دیگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حکومتی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور قومی اخراجات میں کمی لانے کے لیے ہفتے میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹی کی تجویز زیرغور ہے، جس کا اطلاق سرکاری اور نجی سطح پر دفاتر اور تعلیمی اداروں پر ہوگا. ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حکام نے تمام متعلقہ محکموں کو نئے شیڈول کی تیاری اور ضابطہ کار وضع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، نئے نظام میں چند عملے کو دفتری حاضری جبکہ دیگر کو ورک فرام ہوم کی سہولت دی جائے گی۔

 
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات