تنخواہوں میں عدم اضافہ ،نیوٹرل ڈاکٹر فورم کا خیبر پختونخوا میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان

بدھ 23 ستمبر 2026 18:52

تنخواہوں میں عدم اضافہ ،نیوٹرل ڈاکٹر فورم  کا خیبر پختونخوا میں قلم ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 ستمبر2026ء) نیوٹرل ڈاکٹر فورم کے چیئرمین ڈاکٹر عدنان آفریدی نے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں عدم اضافے کے خلاف قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، یہ ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک خیبرپختونخوا حکومت ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ نہ کر یں۔اس بات کا اعلان انہوں نے بدھ کوپشاور پریس کلب میں دیگر عہدیداروں کے ساتھ پریس کانفرنس میں کیا۔

ڈاکٹر عدنان آ فریدی نے کہا کہ پورے صوبے میں 6 ہزار ڈاکٹر گزشتہ 17 دنوں سے ہڑتال پر ہیں تاہم باقاعدہ سے ہسپتالوں میں ایمرجنسی اور اوپی ٹی کور دیا جا رہا ہے اور ہڑتال کے باعث ایمرجنسی اور او پی ڈی میں ڈاکٹروں کی تعداد بھی بڑھائی گئی ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تنخواہیں بڑھانے اور ہماری جاری ہڑتال کے بارے میں کسی نے رابطہ نہیں کیا اور اس سلسلے میں ہم نے جب محکمہ صحت سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈاکٹروں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں نیوٹرل ڈاکٹر فورم نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعرات سے خیبر پختونخواکے تمام ہسپتالوں میں قلم چھوڑ ہڑتال کی جائے گی اور صرف ایمرجنسی کور دی جائے گی۔یہاں دہائیوں سے ڈاکٹروں کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جا رہی اور ڈاکٹروں کو اپنا مستقبل خیبر پختونخوا میں تاریک ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ڈاکٹر عدنان افریدی نے کہا کہ یہ وہی ڈاکٹر ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا کو کورونا جیسی وبا میں اپنی جان کی بازی لگا کے مریضوں کی خدمت کے لیے حاضر رہتے تھے، صوبے کے مختلف علاقوں میں جب سیلاب آیا تو اسی ڈاکٹروں نے اپنی جان کی بازی لگا کر پرخطر علاقوں میں لوگوں کو اپنے خدمات فراہم کی اور گزشتہ روز جب کوہاٹ میں خودکش دھماکہ ہوا تو ہم نے اپنی ہڑتال معطل کر کے کوہاٹ کے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی لیکن خیبرپختونخوا حکومت ڈاکٹروں کو کوئی توجہ نہیں دے رہی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیوٹرل ڈاکٹر فورم قلم چھوڑ ہڑتال کے سلسلے میں لیڈی ریڈنگ پشاور میں مرکزی احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2017 کے بعد ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا اور مہنگائی کی چکی میں سفید پوش ڈاکٹر طبقہ اسی طرح پس رہا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جب بھی اپنی تنخواہ بڑھانے کی صوبائی حکومت اور محکمہ صحت سے بات کی تو اگے سے ہمیں یہ کہہ کر ٹرخا دیا جاتا ہے کہ بجٹ میں ڈاکٹروں کے لیے فنڈ نہیں ہے ۔ڈاکٹر عدنان افریدی نے کہا کہ جمعرات سے پورے صوبے میں صوبائی حکومت کے ظالمانہ رویے اور تنخواہوں میں عدم اضافے کے خلاف ہڑتال ہو گی جو ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کے نوٹیفیکیشن کے بعد ہی ختم ہوگی۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر کسی بھی ڈاکٹر کو ہڑتال کی وجہ سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا یا انہیں دھمکی دی گئی تو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔