ڈویژن بھر میں جاری منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ان کی مستقل مینٹیننس اور آپریشنل نظام بھی یقینی بنایا جائے، کمشنر

جمعرات 24 ستمبر 2026 17:44

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2026ء) کمشنر ملتان عامر کریم خاں نے ڈویژن بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ان کی مستقل مینٹیننس اور آپریشنل نظام بھی یقینی بنانے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا ہے کہ بیوٹیفکیشن اور بحالی کے منصوبوں پر کام کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے معیار اور پائیداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، شہریوں کو بہتر ماحول اور معیاری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ محکمے مؤثر رابطے کے ساتھ کام کریں،ڈویژن کے مختلف شہروں میں جاری خوبصورتی منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ان کی مستقل مینٹیننس کا مو ثر نظام بھی تشکیل دیا جائے، تاکہ شہری سہولیات اور خوبصورتی کے کام طویل عرصے تک برقرار رہیں۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روزیہاں کمشنر ملتان عامرکریم خاں کی زیر صدارت ڈویژن بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ملتان ڈ ویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز شریک ہوئے اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران شریک ہوئے۔

(جاری ہے)

دوران اجلاس ڈپٹی کمشنر ملتان نے بریفننگ میں بتایا کہ شہر اولیاءکے برانڈز روڈ کی اپ گریڈیشن کے 360 ملین روپے مالیت کے منصوبے کی فزیکل پیش رفت 83 فیصد ہے اور بجلی کے خصوصی ٹرانسفارمرز اور تاریں آتے ہی اسے مکمل کرلیا جائے گا، منصوبے میں 0.61 کلومیٹر یونیفارم ٹف پیور، کار پارکنگ، زیرِ زمین بجلی کا نظام اور دیگر شہری سہولیات شامل ہیں، برانڈز روڈ پر 317 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش رکھی گئی ہے،برانڈز روڈ منصوبے میں 3700 رننگ فٹ ڈرین، 2200 رننگ فٹ WASA لائن و کنکشنز اور 116,200 مربع فٹ ٹف پیور کا کام شامل ہے، 3392 رننگ فٹ ڈرین اور 2200 رننگ فٹ واسا لائن و کنکشنز مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ ٹف پیور کا 66,310 مربع فٹ کام مکمل کیا جاچکا ہے، زیرِ زمین بجلی کے منصوبے میں میپکو کی جانب سے نئے ٹرانسفارمرز ملتے ہی تنصیب شروع کردی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر ملتان نے مزید بتایا کہ گھنٹہ گھر سے حسین آگاہی تک اپ گریڈیشن اور بحالی منصوبے کی مالیت 222 ملین روپے اور فزیکل پیش رفت 90 فیصد ہے، منصوبے میں سڑک کی ٹف ٹائلز سے پختگی، پارکنگ ایریا، زیرِ زمین کیبل کوریڈور، فٹ پاتھ، لائٹنگ اور یکساں سائن بورڈز سمیت مختلف کام شامل ہیں۔ ڈی سی ملتان ڈاکٹر فیصل سلیم نے بتایا کہ حسین آگاہی روڈ فساڈ ری ہیبلیٹیشن کے منصوبے میں تقریباً 1800 فٹ طویل کوریڈور اور 226 پراپرٹیز شامل ہیں، ان میں 68 قدیم تاریخی عمارات، 125 نئی عمارات، 4 پلازے، 6 مساجد، 2 مزارات اور 21 خطرناک و دیگر عمارات شامل ہیں، منصوبے کے تحت عمارات کے فساڈ کی بحالی، سائن بورڈز کی یکسانیت، بجلی و کیبلز کی زیرِ زمین منتقلی، لائٹنگ، فٹ پاتھ، ڈرینج اور ساختی مرمت کے کام شامل ہیں۔

ڈپٹی کمشنر خانیوال نے خانیوال میں وزیراعلیٰ پنجاب کی بیوٹیفکیشن اسکیموں کے تحت ماڈل اللہ داد بازار جہانیاں، پیڈسٹرین ماڈل بازار میاں چنوں اور پیڈسٹرین ماڈل بازار خانیوال پر بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ لودھراں کے مین بازار نزد ریلوے چوک کی بیوٹیفکیشن اسکیم کی مالیت 85.64 ملین روپے ہے، منصوبے کی لمبائی 700 رننگ فٹ جبکہ فزیکل پیش رفت 100 فیصد ہے، منصوبے میں مین انٹری گیٹ، دکانوں کی تزئین، ٹینسائل شیڈ، ٹف ٹائلز، اسٹریٹ لائٹس، واپڈا ورک، بینچز اور پلانٹرز سمیت مختلف کام مکمل کیے جاچکے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر وہاڑی نے بتایا کہ وہاڑی کے ریلوے بازار اور گول چوک کی بحالی و بہتری کے منصوبے کی منظور شدہ لاگت 150 ملین روپے ہے اور منصوبے کی فزیکل پیش رفت 100 فیصد درج ہے، منصوبے کے تحت ریلوے بازار اور گول چوک کی بحالی، فساڈ امپروومنٹ، پیدل راستوں، لینڈ اسکیپنگ، فواروں، آرائشی لائٹنگ، نشستوں اور دیگر شہری سہولیات پر کام کیا گیا ہے۔

اس موقع پرکمشنر ملتان نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ملتان ڈویژن کے چاروں اضلاع میں بیوٹیفکیشن، بحالی اور شہری سہولیات کی بہتری کے منصو بوں پر کام جاری ہے،بیوٹیفکیشن منصوبوں کی تکمیل کیساتھ ان کی مستقل مینٹیننس اور آپریشنل نظام بھی یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا مکمل ہونے والے بازاروں میں صفائی، پارکنگ، پیدل راستوں اور دیگر سہولیات کی حفاظت کے لیے باقاعدہ عملہ تعینات کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مکمل ہونے والے بازاروں اور عوامی مقامات کی مینٹیننس کے لیے متعلقہ ٹھیکیداروں اور بلدیاتی اداروں کے تعاون سے باقا عدہ عملہ تعینات کرنے کے امکان کا جائزہ لیا جائے، بازاروں میں صفائی، پیدل راستوں، پارکنگ اور دیگر تیار شدہ سہولیات کی حفاظت کے لیے شفٹوں میں عملہ موجود ہو، تاکہ شہریوں کی جانب سے سہو لیات کونقصان پہنچانے کی روک تھام بھی کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جن مقامات پر پارکنگ ایریاز بنائے گئے ہیں وہاں پارکنگ لائنز اور مقررہ زاویے کے مطابق گاڑیوں کی پارکنگ یقینی بنانے کے لیے ابتدائی عرصے میں باقاعدہ عملہ تعینات کیا جائے،بازاروں کےتاجروں اورمتعلقہ کاروباری افراد کےتعاون سے پارکنگ مینجمنٹ کا نظام بھی وضع کیاجا سکتا ہے۔کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ مکمل ہونے والے منصوبوں کے آپریشنل نظام پر بھی کام ساتھ ساتھ جاری رکھا جائے، خصوصاً ایسے مقامات جہاں کیفے، واش رومز یا دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ان کے لیے آپریشن اور مینٹیننس کا نظام منصو بے کی تکمیل سے قبل ہی طے کیا جائے۔

انہوں نے حسین آگاہی اور دیگر تاریخی و تجارتی علاقوں میں جاری فساڈ اپ گریڈیشن، فٹ پاتھ، پارکنگ اور دیگر بحالی کے کاموں کے ڈیزائن کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ شہریوں، پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی آمدورفت کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے۔علاوہ ازیں کمشنر ملتان عامر کریم خاں ڈویڑنل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 6 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی، جن کی مجموعی مالیت 1,395.417 ملین روپے ہے جن میں ملتان کے چارمنصوبے، خانیوال کا ایک منصوبہ اوروہاڑی کا ایک منصوبہ شامل ہے۔

ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹیوں کے ذریعے 27 منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن کی مجموعی مالیت 1,272.242 ملین روپے ہے۔ضلع وار تفصیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر ملتان نے8 منصوبوں کی منظوری دی، جن کی مالیت 495 ملین روپے ہے،ڈپٹی کمشنرخانیوال نے8 منصوبوں کی منظوری دی، جن کی مالیت 359.379 ملین روپے ہے، ڈپٹی کمشنر وہاڑی نے پانچ منصوبوں کی منظوری دی، جن کی مالیت 208.793 ملین روپے ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر لودھراں نے چھ منصوبوں کی منظوری دی، جن کی مالیت 209.070 ملین روپے ہے،باقی چار منصوبےتاحال منظوری کے مراحل میں ہیں،جن میں ایک منصوبہ ڈویژنل ڈو یلپمنٹ ورکنگ پارٹی اور تین منصوبے محکمانہ ڈویلپمنٹ کمیٹی کے مرحلے میں ہیں۔

کمشنر نے کہا ہے کہ ملتان ڈویژن میں مجموعی طور پر 37 ترقیاتی منصو بے پرپیش رفت جاری ہے، جن کی مجموعی تخمینہ لاگت 5,049 ملین روپے ہے، ان میں سے 33 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ چار منصوبے منظوری کے مراحل میں ہیں، حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور تکمیل کے عمل کو مقررہ ٹائم لائن کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے۔