شرجیل میمن کے بیان پر علی خورشیدی کا ردعمل، سندھ حکومت سے کارکردگی کا حساب مانگ لیا

جمعرات 24 ستمبر 2026 22:01

شرجیل میمن کے بیان پر علی خورشیدی کا ردعمل، سندھ حکومت سے کارکردگی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 ستمبر2026ء) سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے شرجیل انعام میمن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کے الزامات کی آڑ میں موجودہ سندھ حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ صوبے کے عوام کو بسوں کی سہولت فراہم کرنے میں ناکام رہے، اس لیے انہیں ایم کیو ایم پر تنقید کے بجائے اپنی کارکردگی کا حساب دینا چاہیے۔

کراچی کے عوام کو ماضی کی کہانیوں کے بجائے آج پانی، بجلی، سڑکوں، سیوریج اور روزگار کے مسائل کا حل چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹ کا قیام سندھ کے عوام کی ضرورت بن چکا ہے، اسی وجہ سے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں میں بے چینی دکھائی دے رہی ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ شہید بینظیر آباد اور لاڑکانہ کے عوام کو بھی اپنے جائز اختیارات اور وسائل ملنے چاہئیں۔

اپوزیشن لیڈر سندھ نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم پر سنگین جرائم کے شواہد موجود ہیں تو انہیں سیاسی بیانات کے بجائے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ کسی سیاسی جماعت کے تمام کارکنوں کو اجتماعی طور پر قاتل قرار دینا انصاف نہیں بلکہ سیاسی الزام تراشی ہے۔علی خورشیدی نے کہا کہ 12 مئی سمیت تمام سانحات کی حقیقت شفاف تحقیقات اور عدالتی شواہد کے ذریعے سامنے آنی چاہیے۔

انہوں نے 35 ایس ایچ اوز کے قتل اور پولیس سے اسلحہ چھیننے کے دعووں کے مستند شواہد بھی عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ماضی ہی سندھ کے تمام مسائل کی وجہ ہے تو 17 سال سے صوبے میں حکومت کرنے والی پیپلزپارٹی نے کراچی کے مسائل کیوں حل نہیں کیی کراچی کی صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سندھ حکومت نے کیا عملی اقدامات کیے، شرجیل میمن اس کا جواب دیں۔

علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ کراچی کو سیاسی الزام تراشی کے بجائے بااختیار بلدیاتی نظام، صاف پانی، بہتر بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے مواقع درکار ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی بیان بازی کی جا رہی ہے اور ماضی کی آڑ میں موجودہ مسائل کو چھپانے کی سیاست مزید نہیں چل سکتی۔