اگلے 24 سے 48 گھنٹے میں تحریک انصاف کے ساتھ معاملات طے پاسکتے ہیں، طلال چوہدری

اللہ نہ کرے کہ ہمارا آمنا سامنا ہو، راستہ لانگ مارچ سے نہیں بات چیت سے کھل سکتا ہے، اگر سومنات بنانے آئیں گے تو نہ سومنات بناسکیں گے اور نہ کچھ لے کر جاسکیں گے، وزیرمملکت برائے داخلہ کی گفتگو

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 24 ستمبر 2026 21:16

اگلے 24 سے 48 گھنٹے میں تحریک انصاف کے ساتھ معاملات طے پاسکتے ہیں، طلال ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 24 ستمبر 2026ء ) وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹے میں تحریک انصاف کے ساتھ معاملات طے پاسکتے ہیں، اللہ نہ کرے کہ ہمارا آمنا سامنا ہو، راستہ لانگ مارچ سے نہیں بات چیت سے کھل سکتا ہے۔ جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر خان بتا دیں کہ کوئی ایسا آئینی قانونی حق جو ان کو نہ ملتا ہو، اللہ نہ کرے کہ آمنا سامنا ہو، نہ ہی ایسی صورتحال بنے کہ کسی بھی جگہ پر تشدد کی بات ہو۔

ہم طاقت کے کم ازکم استعمال پر یقین رکھتے ہیں، جس طرح آنا چاہتے ویسے اسلام آباد بہت دور ہے، ویسے اگر آئیں گے تو ان کو لے کر آئیں گے اور چھوڑ کر بھی آئیں گے، یہ قابل عزت ہیں، لیکن اگر سومنات بنانے آئیں گے ، اور یہ کہنا کہ آئیں گے تو کچھ لے کر جائیں گے، پھر نہ تو آسکیں گے اور نہ سومنات بناسکیں گے۔

(جاری ہے)

راستہ بات کرنے سے کھل سکتا ہے لیکن لانگ مارچ سے راستہ نہیں کھلے گا۔

اسی طرح برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ حکومت نے اس بار سکیورٹی امور کی انجام دہی کے لیے پاکستان آرمی کی خدمات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، وزارتِ داخلہ احتجاج کو کنٹرول کرنے اور امن و امان قائم رکھنے کے لیے مکمل طور پر پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری پر ہی انحصار کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی کو مزید سخت بنانے کے لیے سندھ اور پنجاب پولیس سے بھی اضافی نفری کی فراہمی کے لیے باقاعدہ درخواست کر دی گئی ہے، اگر مظاہرین کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی گئی تو ضرورت پڑنے پر فورس کا استعمال بھی کیا جائے گا۔ شہروں اور تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں طلال چوہدری نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز یا شاپنگ سینٹرز کو بند کرنے کا فی الحال حکومت کا کوئی ارادہ یا منصوبہ نہیں ہے، معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں حسبِ دستور جاری رہیں گی اور شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔