کے پی میں ایمرجنسی کی بازگشت؛ 2009 کے پنجاب گورنر راج کی پرانی خبر وائرل

2009ء میں پنجاب میں گورنرراج لگا تو ن لیگ نے کہا عوامی مینڈیٹ پر طمانچہ مارا گیا، قوم اٹھ کھڑی ہو، احتجاج کا "جمہوری حق" استعمال کرتے ہوئے پولیس چوکیاں، گاڑیاں، بینک جلائے گئے؛ صحافی ماجد نظامی

Sajid Ali ساجد علی پیر 5 اکتوبر 2026 13:21

کے پی میں ایمرجنسی کی بازگشت؛ 2009 کے پنجاب گورنر راج کی پرانی خبر وائرل
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اکتوبر 2026ء) صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی گردش کرتی ہوئی خبروں اور موجودہ کشیدہ سیاسی و سیکیورٹی صورتِ حال میں ماضی کا ایک تلخ سیاسی باب پھر سے بحث کا حصہ بن گیا۔
صحافی ماجد نظامی کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی 2009ء کی ایک خبر نے موجودہ بحران میں ایک نیا سیاسی پنڈورا باکس کھول دیا، اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی و عوامی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کس طرح ماضی میں مخالفین کے دورِ اقتدار میں ہونے والے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جب کہ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ سیاسی رویے اور بیانیے بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔

صحافی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ 2009ء میں جب پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، تو اس وقت مسلم لیگ ن نے اسے عوام کے جمہوری مینڈیٹ پر ایک طمانچہ قرار دیا تھا اور قوم سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہو، اس دوران جمہوری حق اور احتجاج کی آڑ میں جلاؤ گھیراؤ کے مناظر دیکھنے میں آئے تھے، جن میں مشتعل افراد کی جانب سے پولیس چوکیاں، سرکاری و نجی گاڑیاں اور بینک نذرِ آتش کر دیئے گئے تھے۔

(جاری ہے)

آج جب وفاقی حکومت اور خیبر پختونخواہ کے درمیان لانگ مارچ، مذاکرات کی ناکامی اور دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں پر ڈیڈ لاک کے نتیجے میں صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، اس پرانی خبر کا دوبارہ شیئر کیا جانا اس بات کا غماز ہے کہ پاکستانی سیاست میں فیصلوں اور ردِ عمل کے یہ تضادات کتنے پرانے اور گہرے ہیں۔
اس ضمن میں کہا جارہا ہے کہ موجودہ سیاسی محاذ آرائی اور وفاق و صوبہ کشمکش کے اس ماحول میں ماضی کے ایسے واقعات دونوں جانب کے سیاسی کرداروں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں، جب کہ دوسری طرف اس سے ملک میں انارکی اور عدم استحکام کے خطرات مزید بڑھ رہے ہیں۔