اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 اکتوبر 2026ء) ٹریڈ انٹیلیجنس کمپنی کپلر کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر مسلسل حملوں کے باوجود ستمبر کے آخری دنوں میں ایران کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح پر نہ صرف واپس آ گئیں بلکہ اس سطح سے تجاوز بھی کر گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے کے چار دنوں میں خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ بیرل یومیہ کی اوسط سے بڑھ گئیں اور 1 کروڑ 95 لاکھ سے 2 کروڑ 25 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں۔
کپلر کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں 10 روز کے اندر خطے سے ایران کے علاوہ خام تیل کی یومیہ برآمدات کی سات روزہ اوسط میں 72 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔
(جاری ہے)
کپلر کی طرف سے کہا گیا، ''اب 40 فیصد تیل آبنائے ہرمز کو نظرانداز کرتے ہوئے منتقل ہو رہا ہے اور اس آبنائے سے گزرنے والے زیادہ تر خام تیل کو سمندر میں دوسرے ٹینکرز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
‘‘ کمپنی کے مطابق زیادہ تر تیل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی پائپ لائنوں کے ذریعے منتقل ہوا۔راستے کے طور پر آبنائے ہرمز سے کیسے بچا گیا؟
برآمدات
کی بحالی کے لیے متبادل راستوں اور سمندر میں ایک بحری جہاز سے دوسرے مال بردار جہاز میں تیل منتقل کرنے کے طریقوں کا استعمال کیا گیا۔ستمبر میں خلیج فارس سے تقریباً 40 فیصد خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر برآمد کیا گیا، جبکہ ایران جنگ سے قبل یہ شرح صرف 17 فیصد تھی۔
کپلر کے مطابق اگست میں خلیج سے برآمد ہونے والے 70 فیصد سے زائد خام تیل کو خلیج عمان میں سمندر کے اندر ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر میں منتقل کیا گیا۔ اس کے برعکس جنگ سے پہلے خلیج عمان میں خلیجی خام تیل کی ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر میں منتقلی تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔
اس کے علاوہ سعودی عرب نے بحیرہ احمر کے راستے اپنے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی فجیرہ تک جانے والی اپنی پائپ لائن کا استعمال بڑھا دیا۔
خطے میں خام تیل کے بڑے برآمد کنندگان
خطے میں خام تیل کے بڑے برآمد کنندگان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق شامل ہیں۔
تاہم ایران اس حوالے سے ایک اہم استثنا ہے، جہاں خام تیل کی برآمدات اب بھی جنگ سے پہلے کی اوسط سطح سے خاصی کم ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں اور دیگر پالیسی اقدامات ہیں۔
تیل
کی بڑی برآمدات کی اس بحالی کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ صورت حال معمول پر نہیں آئی۔آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں پر حملے جاری
دریں اثنا آبنائے ہرمز کے اطراف بحری جہازوں پر حملے بھی جاری ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کم از کم سات ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
بحری امور سے متعلق انٹیلیجنس کمپنی میریسکس کے مطابق یکم اکتوبر کو خام تیل لے جانے والے ٹینکر کاظمہ تھری کو مبینہ طور پر ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس بحری جہاز سے اس کے پورے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
برطانیہ
کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کے مطابق 2 اکتوبر سے آبنائے ہرمز یا خلیج عدن میں روزانہ کم از کم ایک حملے کی اطلاعات ملی ہیں۔ادارت: مقبول ملک