بھارت : تلنگانہ میں دولاکھ ووٹرز کو بغیر کسی وجہ کے نوٹس،25 فیصدسے زائدمسلمان ہیں، رپورٹ

منگل 6 اکتوبر 2026 22:30

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اکتوبر2026ء) ایک تحقیقی رپورٹ میں بھارتی ریاست تلنگانہ میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رپورٹ میں کہاگیاہے کہ 2,01,249 ووٹرز کو خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت انتخابی فہرستوں میں مبینہ تضادات پر نوٹس جاری کیے گئے تاہم ان نوٹسز میں کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی۔

صابر انسٹی ٹیوٹ کے تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ متاثرہ ووٹرز میں مسلمانوں کے نام 25.1 فیصد ہیں جو 2011 کی مردم شماری کے مطابق تلنگانہ کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کے 12.7 فیصد حصے کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ نے بتایا کہ اس نے تلنگانہ کے تمام 36,169 پولنگ بوتھس اور 92,85,255 ناموں سے متعلق الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔

(جاری ہے)

تجزیے میں سامنے آیا کہ 2 لاکھ سے زائد ووٹرز کی تضادات کی بنیاد پر نشاندہی کی گئی ہے تاہم ان کے خلاف کسی مخصوص تضاد یا اعتراض کی وضاحت نہیں کی گئی۔ تجزیے میں ایک نمایاں آبادیاتی رجحان بھی سامنے آیا۔ نشان زد کیے گئے افراد میں 96.7 فیصد مرد تھے جبکہ 2,01,249 ووٹرز میں سے صرف 38 افراد کی عمر 40 سال سے کم تھی۔صابر انسٹی ٹیوٹ نے مختلف پولنگ بوتھس کی مثالیں بھی پیش کیں، جن میں اپل کے ایک پولنگ بوتھ کے 77 ووٹرز اور کاماریڈی کے ایک بوتھ کے 75 ووٹرز شامل ہیں، جنہیں بغیر کسی واضح وجہ کے نوٹس جاری کیے گئے۔

انسٹی ٹیوٹ نے سوال اٹھایا کہ جب ووٹرز کو مبینہ تضاد کے بارے میں ہی آگاہ نہیں کیا گیا تو وہ ایسے نوٹس کے خلاف موثر طور پر اعتراض یا اپیل کیسے کر سکتے ہیں۔ان نتائج کے بعد بھارت میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل سے متعلق پہلے سے موجود خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا کہناہے کہ یہ عمل اہل ووٹرز، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر محروم طبقات کو غیر متناسب طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

ناقدین نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں زیادہ شفافیت اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج بھی جاری ہے۔ منگل کے روز درجنوں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے نئی دہلی میں مارچ کیا اور گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر انتخابی فہرستوں کی نظرثانی میں جانبداری کا الزام عائد کیا۔

مظاہرین نے جمہوریت بچائو کے بینرز اٹھا رکھے تھے اور الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیاں اہل ووٹرز کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کر سکتی ہیں اور اس کا فائدہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل سے نمٹنے کا طریقہ بھارت میں ایک اہم سیاسی اور سول سوسائٹی کا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے جبکہ انتخابی عمل میں زیادہ جوابدہی اور شفافیت کے مطالبات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔