کوئٹہ، اچھے اور برے طالبان کا دور ختم ہو چکا ، ہم نے بلاتمیز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، میر سرفراز بگٹی

ہمیں مارنے والے بارڈر سے اس پار اسپن بولدک میں بیٹھے ہیں ایک بھی بلوچستانی کو مارنے والے کو آخری دم تک نہیں چھوڑیں گے بلوچستان بلخصوص کوئٹہ میں امن وامان برقرار رکھنے کے لئے ہماری سیکورٹی فورسز نے قربانیاں دی ہیں،صوبائی وزیر داخلہ

اتوار اپریل 22:30

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار اپریل ء) صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اچھے اور برے طالبان کا دور ختم ہو چکا ہے ہم نے بلاتمیز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں ہمیں مارنے والے بارڈر سے اس پار اسپن بولدک میں بیٹھے ہیں ایک بھی بلوچستانی کو مارنے والے کو آخری دم تک نہیں چھوڑیں گے بلوچستان بلخصوص کوئٹہ میں امن وامان برقرار رکھنے کے لئے ہماری سیکورٹی فورسز نے قربانیاں دی ہیں جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا میں آپ غم کو سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میرا تعلق بھی شہیدوں کے خاندان سے ہے یہاں پر ہزارہ برادری کے ساتھ وہ لوگ بھی موجود ہیں جو آج سوات میں جلسے کررہے ہیں ہزارہ قبیلہ کا مسئلہ بلوچستان کا ہے جبکہ پی ٹی ایم کا مسئلہ وزیرستان کا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے حقوق انسانی کی جانب سے لگائے گئے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال کیمپ میں اظہار خیال اور میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ فرخ عتیق ‘ ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ‘ اسسٹنٹ کمشنر بتول اسدی بھی ان کے ہمراہ تھے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ اپنے کے بچھڑنے کا درد کیا ہوتا ہے کیونکہ میرا تعلق بھی شہیدوں کے خاندان سے ہے ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ ہم سب جنگ زدہ زون میں ہیں اور یہ سب کچھ بارڈر کے اس پار ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ ریاست کا حصہ ہونے کے ناطے ان سب کا ذمہ دار میں خود کو ٹھہراتا ہوں کیونکہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہر شخص کو تحفظ فراہم کرے انہوں نے کہا کہ ہماری مثبت پالیسیوں کے باعث 2014-15ء کے بعد اب تک ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہماری فورسز نے بلوچستان بلخصوص کوئٹہ میں امن وامان کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہم نے ٹارگٹ کلر کو پکڑا ہے جس نے یہ قبول کیا کہ ٹارگٹ کلنگ وہ کرتا رہا ہم نے دہشت گردی کے خلاف مختلف آپریشنز کئے اور کئی دہشت گردوں کو ماردیا عالمی قوتیں یہاں پر ٹارگٹ کلنگ اور خودکش دھماکہ کروارہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں مارنے والے بارڈر کے اس پاس اسپن بولدک میں بیٹھے ہیں ہم نے دہشت گردوں کے خلاف بلاتمیز کارروائیاں شروع کردیں وہ دور چلا گیا جس میں اچھے اور برے طالبان کا فرق کیا جاتا تھا انہوں نے کہا کہ ہم نے سیف سٹی پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کردیا جو ایک ماہ کے اندر اندر فنکشنل ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ ایک بھی بلوچستانی کو مارنے والے کو آخری دم تک نہیں چھوڑیں گے انہوں نے کہا کہ ہمارے ریاستی ادروں نے اپنا کردار بھرپور طرح سے نبھایا ہے یہاں پر ہزارہ کے ساتھ وہ لوگ بھی موجود ہیں جو آج سوات میں جلسہ کر رہے ہیں ہزارہ کے مسئلے کو پی ٹم سے کیوں جوڑا جا رہا ہے ہزارہ قبیلے کا مسئلہ بلوچستان کا مسئلہ ہے جبکہ پی ٹی ایم کا مسئلہ وزیرستان کا ہے گزشتہ حکومتوں میں ہزارے لاشوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھتے تھے لیکن ان کے پاس کوئی نہیں جاتا تھاہماری سیکورٹی فورسز نے اپنی جانوں کا نظرانہ دے کر ملک کی حفاظت کی ہے احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ آرمی چیف ان کے پاس آئیں۔

Your Thoughts and Comments