ترک صدر کے ایک بیان نے ترکی کی معیشت کا پلکتے جھپکتے میں بیڑا غرق کردیا

ترک صدر کا سود کے حوالے سے بیان ، کرنسی لیرا کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ ، اقتصادی معاملات میں سخت مانیٹری پالیسی کی ضرورت ہے ، کیونکہ گزشتہ 3 ماہ میں ملکی کرنسی کی قدر میں 12 فیصد کمی آچکی ہے اور افراطِ زر کی شرح 10.58 فیصد کی نفسیاتی حد تک پہنچ چکی، اقتصادی ماہرین

ہفتہ مئی 19:29

انقرہ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ مئی ء) ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے سود کو تمام شیطانی کاموں کی ماں اور باپ قرار دیئے جانے کے بعد ترک کرنسی لیرا کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ق رجب طیب اردگان نے مرکزی بینک پر زور دیا کہ وہ اقتصادی ترقی کے لیے شرح سود میں کٹوتی کرے۔دوسری جانب ماہر اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اقتصادی معاملات میں سخت مانیٹری پالیسی کی ضرورت ہے کیونکہ گزشتہ 3 ماہ میں ملکی کرنسی کی قدر میں 12 فیصد کمی آچکی ہے اور افراطِ زر کی شرح 10.58 فیصد کی نفسیاتی حد تک پہنچ چکی ہے۔

رجب طیب اردگان نے انقرہ میں سرکاری ٹی وی پر خطاب کے دوران کہا کہ شرح سود تمام شیطانی کاموں کی جڑ ہے اور اسی کی وجہ سے مہنگائی کا گراف بڑھ رہا ہے۔

(جاری ہے)

طیب اردگان نے امریکا اور جاپان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ممالک میں شرح سود انتہائی کم ہے اور ہمیں بھی اسے کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔انہوں نے وعدہ کیا کہ 24 جون کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ شرح سود سے مقابلے کی جنگ میں کامیاب ہوں گے۔

خیال رہے کہ ترک کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث طیب اردگان نے اقتصادی ماہرین کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں ملکی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔مذکورہ ہنگامی اجلاس کے بعد ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں استحکام دیکھنے میں آیا لیکن شرح سود سے متعلق طیب اردگان کے بیان کے بعد پھر تنزلی دیکھنے میں آئی۔لیرا کی ٹریڈنگ ڈالر کے مقابلے میں 4.3 پر تھی تاہم بیان کے بعد ایک ہی دن میں اس کی قدر میں 1.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔طیب اردگان نے اعتراف کیا کہ مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے لیکن یہ متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ احسن طریقے سے اپنے فرائض انجام دیں۔۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments