لاہور کے نجی سکول میں متنازعہ کتاب پڑھائی جانے لگی

معاشرتی علوم کی کتاب میں موجود نقشے میں آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا،پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے نوٹس لیتے ہوئے کتاب پر پابندی لگا دی

جمعہ جون 23:48

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ جون ء):لاہور کے نجی سکول میں متنازعہ کتاب پڑھائی جانے لگی۔ معاشرتی علوم کی کتاب میں موجود نقشے میں آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا،پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے نوٹس لیتے ہوئے کتاب پر پابندی لگا دی۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے نجی اسکول میں متنازعہ کتاب پڑھائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، نجی اسکول میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم کی کتاب میں موجود نقشے میں آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے، کتاب دوسری سے آٹھویں جماعت کو پڑھائی جارہی تھی تاہم انکشاف ہونے پر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے نجی اسکول کے تمام کیمپسز میں پڑھائی جانے والی سوشل اسٹڈیز کی کتاب پر پابندی لگادی گئی ہے اور کتاب پر پابندی کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے مینیجنگ ڈائریکٹر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ عبدالقیوم نے بتایا ہے کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی اجازت کے بغیر کسی بھی نجی ناشر کی کتاب نصاب کا حصہ نہیں بن سکتی، لیکن یہ کتاب ناصرف ہماری اجازت کے بغیر شائع ہوئی بلکہ نصاب کا حصہ بھی بن گئی جس پر ہم نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقامی تھانے میں اسکول انتظامیہ، پبلشر، اور پرنٹرز کے خلاف درخواست جمع کرا دی ہے جب کہ پرنٹر و پبلشر کو گرفتار کرکے پورے ملک سے کتابیں اٹھانے کی درخواست بھی دے دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی بچوں کو ایسا ہی متنازعہ مواد پڑھانے کی شکایات آ چکی ہیں جس میں نظریہ پاکستان کو ہدف بایا گیا تھا۔اس موقع پر بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ اگر بچوں کو ایسا متنازعہ مواد پڑھا کر انکے ذہنوں کو مسموم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو اس حوالے سے حکام کو سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور ایسا کرنے والوں کو سخت سزا دینی چاہیے تا کہ کوئی دوبارہ ایسی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔

Your Thoughts and Comments