سپریم کورٹ:اداکارہ لیلیٰ سےفراڈ کرنیوالےکےمقدمات کا ریکارڈ طلب

ملزم بینک ڈیفالٹرہے،بات ثابت نہ کرسکی توشوبزاورملک چھوڑجاؤں گی،فلمسٹارلیلیٰ کی یقین دہانی، اگرملزم شاہد نے ضمانت نہیں کرائی توحراست میں لیا جائے،چیف جسٹس ثاقب نثار کا حکم

اتوار جون 18:49

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار جون ء): چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے فلمسٹارلیلیٰ سے مبینہ فراڈ کرنیوالے کیخلاف مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا،چیف جسٹس نے حکم دیا کہ اگر ملزم شاہد نے ضمانت نہیں کرائی توحراست میں لیا جائے،اس موقع پر اداکارہ لیلیٰ نے عدالت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ملزم بینک ڈیفالٹرہے،اپنی بات ثابت نہ کرسکی توشوبزاورملک چھوڑجاؤں گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے اداکارہ لیلیٰ کے ساتھ ہونے والے فراڈ کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے فلمسٹارلیلیٰ سے مبینہ فراڈ کرنیوالے کیخلاف مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے متعلقہ نجی بینک منیجرکوبھی پیش ہونے کی ہدایت کردی ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ملزم شاہد نے ضمانت نہیں کرائی توحراست میں لیا جائے۔

عدالت کو فلمسٹار لیلیٰ نے بتایا کہ پراپرٹی ڈیلرکو 2کروڑ 15 لاکھ ادا کیے مگر پلاٹ میرے نام ٹرانسفر نہیں کیا۔ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ ملزم بینک ڈیفالٹرہے۔ لیلیٰ نے کہا کہ ملزم سے متعلق اپنی بات ثابت نہ کرسکی توشوبزاورملک چھوڑجاؤں گی۔ جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہم نے نظام کے خلاف لڑنا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دے کر جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں لیڈر نہیں مگر پیغام دے رہا ہوں کہ اس نظام کے خلاف لڑنا ہے۔ دوسری جانب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تعطیل کے باوجود سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مختلف اہم نوعیت کے کیسز کی سماعت کی ۔دوران سماعت ایک موقع پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس میان ثاقب نثار نے کہا کہ اگر میں کسی ہسپتال جاتا ہوں تو اس میں کیا غلط ہی ۔

بلوچستان میں بچیوں کے 6ہزار سکولوں میں ٹوائلٹ موجود نہیں ، اگر سکولوں میں سہولیات دینے کا کہتا ہوں تو اس میں کیا غلط ہی ۔عوام کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہیں نکلنا،آئین او رپارلیمنٹ سپریم ہے ،ہمارے پاس جوڈیشل ریویوکا اختیار ہے،اگر رولز غلط ہوں گے تو عدالت اسے دیکھے گی ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ککہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عہدہ قبول نہیں کروں گا،ریٹائرمنٹ سے ایک دن پہلے یہ واضح اعلان کر کے جاؤں گا کہ کوئی عہدہ آفر کر کے شرمندہ نہ ہوں۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔اس موقع پر سموگ کمیشن کے سربراہ نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی جس کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے رپورٹ اور اس میں دی جانے والی تجاویز کی تعریف کی ۔

چیف جسٹس نے رپورٹ ویب سائٹ اور پرنٹ میڈیامیں شائع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ پر حکومت اور عوام کی رائے کے بعد عملدرآمد کی طرف جائیں گے۔اس پر عدالت کی جانب سے رپورٹ اور تجاویز کی تعریف کی گئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اشفاق احمد کہتے ہیں باباوہ ہوتا ہے جو سب کیلئے سہولتیں پیدا کرتا ہے۔سموگ کمیشن کے سربراہ احمد پرویز بھی آج سے ہمارے بابے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آنے والے دسمبر میں سموگ قابل برداشت نہیں۔

Your Thoughts and Comments