اب کسی کو بھی امریکہ سے تجارتی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دینگے، ڈونلڈ ٹرمپ کا یورپی اتحادیوں کو پیغام

دو طرفہ تجارت شفاف اور برابری کی بنیاد پر نہ ہو تو اسے بے وقوفانہ تجارت کہا جائیگا، امریکہ نیٹو کے بجٹ کا بڑا حصہ ادا کرتا اور تجارت میں نقصان پہنچانے والے ممالک کی حفاظت کرتا ہے ،اب دوستوں ، دشمنوںکو مزید تجارتی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے، اولین ترجیح امریکی ملازمین ہونگے، ٹوئٹ

پیر جون 18:17

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے یورپی اتحادیوں پر واضح کیا ہے کہ اب کسی کو بھی امریکہ سے تجارتی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اگر دو طرفہ تجارت شفاف اور برابری کی بنیاد پر نہ ہو تو اسے بے وقوفانہ تجارت کہا جائے گا۔

انہوں نے لکھا کہ کینیڈا کی جانب سے جاری اعلامئے کے مطابق وہ امریکہ کیساتھ تجارت کے ذریعے 100 ارب ڈالر کماتا ہے، اندازہ لگائیں کہ وہ شیخیاں بکھارتے ہیں اور پکڑے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ٹیکس چھوٹ 270 فیصد ہے لیکن کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے چیلنج کرنے پر دکھ پہنچا۔انہوں نے کہا کہ میں بطور امریکی صدر کیوں دوسرے ممالک کو اجازت دوں کہ وہ ہم سے بڑے پیمانے پر منافع کمائیں جیسا کہ وہ صدیوں سے کما رہے ہیں جس کی ہمارے کسان، ورکرز اور ٹیکس دہندگان کو بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 800 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ امریکی عوام کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹ میں یاد دہائی کرائی کہ امریکا نیٹو کے بجٹ کا بڑا حصہ ادا کرتا ہے اور ان ممالک کی حفاظت کرتا ہے جو ہمیں تجارت میں نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ممالک نیٹو کے بجٹ کا چھوٹا سا حصہ دے کر ہنستے ہیں، یورپی یونین کا تجارتی منافع 151 ارب ڈالر ہے تو انہیں نیٹو کے فوجی اخراجات بھی زیادہ ادا کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی جیسا چھوٹا سا ملک اپنی جی ڈی پی کا ایک فیصد نیٹو کو دیتا ہے جبکہ امریکہ ایک بہت بڑی جی ڈی پی کیساتھ 4 فیصد دیتا ہے، کیا اس چیز کو ذہن قبول کرتا ہے، ہم بڑے معاشی نقصان کے ساتھ یورپ کی حفاظت کرتے ہیں اور بدلے میں ہمیں غیر شفاف تجارتی خسارہ ملتا ہے، تبدیلی آ رہی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے نے اپنے پیغام میں معذرت کرتے ہوئے لکھا کہ ہم اپنے دوستوں اور دشمنوں کو ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ امریکہ سے مزید تجارتی فائدہ اٹھائیں، ہماری اولین ترجیح امریکی ملازمین ہوں گے۔

Your Thoughts and Comments