Cancer Se Bchayo Kaisay Mumkin ?

کینسر سے بچائو کیسے ممکن؟

Cancer Se Bchayo Kaisay Mumkin ?

کینسر بروقت تشخیص ہو جائے تو․․․
خلیات میں یہ اضافہ جسم میں کئی خرابیوں کا باعث ہو سکتا ہے ۔مثلاً دباؤ،کسی عضو میں خون کی فراہمی میں رکاوٹ یارگوں کو دباؤ کے ذریعے ناکارہ کردینا۔کینسر کی علامات دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔اور یہ مرض اندر ہی اندر اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے ،سی ٹی اسکین کروایا جائے تو کینسر تشخیص ہوتا ہے،عام علامات میں مسلسل کھانسی،خون کا اخراج ،آوز میں تبدیلی ،سانس لینے میں دشواری یا خرخراہٹ محسوس ہونا اور وزن میں متواتر کمی وغیرہ شامل ہیں ۔


پھیپھڑوں کے کینسر میں کھانسی کے ساتھ خون بھی آتا ہے لیکن چونکہ یہی علامت ٹی بی کی بھی ہے لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہی بھی ہے کہ کسی ماہر سرجن وغیرہ سے رائے لی جائے۔کینسر کے مریضوں میں ٹیو مرکی افزائش یا سوزش کا سبب ہو سکتی ہے لیکن اس کی ایک اور ممکنہ وجہ الرجی سے ہونے والا دمہ اور سانس کے دیگر طبی مسائل بھی ہو سکتے ہیں ۔

(جاری ہے)

آواز بیٹھ جائے یا کسی نوعیت کی تبدیلی ہو جائے تو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کوئی ٹیومرنرخرے کو متاثر کررہا ہے ۔


غذا اور ورزش کی تبدیلی کے بغیر وزن تیزی سے کم ہورہا ہوتو یہ سرطان کی علامت ہو سکتی ہے ۔خاص طور پر مختصر مدت میں تیزی سے وزن کم ہونے کے ساتھ تھکاوٹ اور کمزوری محسوس کرنا۔
بائیو آپسی کیا ہے ؟
کسی بھی قسم کے کینسر کی حتمی تشخیص کے لئے جسم کے متاثرہ حصے سے کوئی چھوٹا یا بڑا ٹکڑا نکالنے کو Biopsyکہتے ہیں ۔اس طرح مرض کے وجود اور کیفیت کا پتہ چلتا ہے ۔

اس میں مائیکرواسکوپ کے ذریعے کینسر کے Cellsہیں یا نہیں ،معائنہ کیا جاتا ہے ۔سی ٹی اسکین بھی اسی لئے ضروری ہے کہ محض شک کی بنیاد پر علاج نہیں کیا جائے Biopsyسے مرض پھیلتا نہیں ہے یہ ایک تشخیصی ٹیسٹ ہے اور اس بے ضرر ٹیسٹ کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ اگر بروقت علاج نہ شروع کیا جائے تو یہ جسم کے دیگر اعضاء تک پھیل سکتا ہے ۔اگر ٹیومر پھیلا نہ ہوتو یہ ابتدائیStageہوتی ہے ۔

اس وقت مریض کی سرجری کی جاتی ہے یعنی اگر ٹیو مر اپنی جگہ محدود اور 3سینٹی میٹر سے کم ہوتو پھر سرجری ہی تجویز کی جائے گی۔جس کے بعد صحت یابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور مریض عام افراد کی طرح نارمل زندگی گزار سکتا ہے ۔لیکن اگر ٹیومر پھیل جائے تو پھر کیموتھراپی ہی واحد حل ہے ۔اس طریقہ علاج میں انجیکشن اور ادویات دونوں ہی شامل ہیں جو مناسب وقفوں سے مریضوں کو دی جاتی ہیں ۔


کیمو تھراپی کے مضراثرات
اس موقع پر اولین ترجیح مریض کو لقمہ اجل بننے سے بچانا ہوتی ہے لہٰذا مضر اثرات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کیمو تھراپی کی جاتی ہے ۔ان مضر اثرات میں بالوں کا گرجانا،خون کے خلیوں میں کمی،مختلف انفیکشنز وغیرہ شامل ہیں ۔تاہم یہ اثرات وقتی ہوتے ہیں ،علاج کے بعد ان پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ماضی میں کیمو تھراپی کا عمل انتہائی تکلیف دہ تھا اور کامیابی کی شرح بھی کم تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ میڈیکل سائنس میں جدت آتی گئی ۔

اب کیمو تھراپی ہر قسم کے کینسر میں مبتلا مریضوں کے لئے بہترین طریقہ علاج تصور کیا جاتا ہے ۔
کینسر کے علاج کا تیسرا طریقہ ریڈی ایشن تھراپی ہے جس میں شعاعوں کے ذریعے کینسر کے Cellsکا خاتمہ کیا جاتا ہے ۔اگر اس مرحلے پر بھی علاج نہ کروایا جائے تو چند ماہ میں مریض کی موت واقع کی موت واقع ہو سکتی ہے ۔
کینسر کا چوتھا علاج امیون تھراپی ہے جواب خاصا ترقی یافتہ طریقہ علاج ہے ۔

اس کی ادویات بھی بے حد موٴثر ترین ہوتی ہیں ۔
احتیاطی تدابیر
پھیپھڑوں اور دیگر اقسام کے کینسر سے بچاؤ کے لئے محتاط زندگی اختیار کرنے پر زور دیا جاتا ہے ۔خاص کر تعلیمی اداروں میں سگریٹ اور شیشہ نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لئے بھی فوری اقدامات کئے جانے چاہئیں۔
وٹامن Aسے بھر پور غذاؤں کا استعمال یقینی بنایا جائے۔

یہ وٹامن مختلف کینسر کی بیماریوں کے خلاف جسم کی حفاظت کرتا ہے ۔مچھلی ،کلیجی ،انڈہ ،دودھ ،مکھن ،پنیر ،گاجر ،مولی ،شلجم ،پالک ،میتھی ،ساگ ،پیٹھا کدو،ٹماٹر ،آم ،سنگترہ خوراک کا حصہ بنانا ضروری ہیں ۔
وٹامن C خون میں فری ریڈیکلز کو تلاش کرکے نیست ونابود کرنے کی عمدہ صلاحیت رکھتا ہے ۔
وٹامن Eمثلاً اخروٹ ،چلغوزہ ،بادام اور اس کا تیل اور سن فلار آئل دل اور کینسر جیسی بیماریوں کے خطرات سے جسم کو بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
روزانہ کم از کم 3 عدد مختلف قسم کے پھل کھائے جائیں اور کھانے میں سبزی اور دالوں کا استعمال زیادہ کیا جائے۔
سرخ گوشت کھانا بہت کم کردیں ۔زیادہ تر مچھلی کا گوشت کھایا جائے تو بہتر ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-02-27

Your Thoughts and Comments