Phaal Or Sabziyan Cancer Se Rakhain Dorr - Article No. 1941

پھل اور سبزیاں کینسر سے رکھیں دور - تحریر نمبر 1941

پیر اگست

Phaal Or Sabziyan Cancer Se Rakhain Dorr - Article No. 1941
کینسر ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم کے خلیات بغیر کسی کنٹرول کے تقسیم در تقسیم ہو کر ایک رسولی (گلینڈ) کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔کینسر کسی بھی عمر میں جسم کے کسی بھی عضو یا حصہ میں ہو سکتا ہے۔طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سی غذاؤں کو کینسر کے خلاف بطور مزاحمت بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ان غذاؤں میں ایسے اجزاء شامل ہیں جو کینسر کو قوت حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔

دوسری طرف بعض غذاؤں میں ایسے اجزاء بھی موجود ہیں جو کینسر کو پھلنے پھولنے میں مدد دیتے ہیں۔ گویا غذا ہی کینسر پیدا کرتی ہے اور غذا ہی اس کا سدباب بھی کرتی ہے۔یہ خطر ناک مرض جسم میں پھیلنے کے لئے بہت وقت چاہتا ہے اس لئے اس کے علاج کے لئے غذا زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔ امریکن انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ واشنگٹن نے کئی سال کی تحقیق کے بعد پتا لگایا ہے کہ جسم میں بے شمار فری ریڈیکلز (Free Radicals) موجود ہوتے ہیں جو بے ضرر خلیوں (Cells) پر قبضہ کرکے ان کو کینسر بنا دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کا علاج پھلوں اور سبزیوں میں موجود اجزاء (Antioxidants) ہیں۔یہ اینٹی آکسیڈنٹس اجزاء کئی غذاؤں میں شامل ہیں․․․․؟
کرم کلہ یا بند گوبھی اس سبزی میں یہ خوبی ہے کہ یہ نہایت سرعت سے ایسٹروجن کی مقدار کو جسم میں کم کرتا ہے۔سینہ کے کینسر میں یہ عمل بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔
سبز ترکاریاں
ساگ،پالک،سلاد وغیرہ میں بیٹا کیروٹین اور فولک ایسڈ بہت بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے۔

کچھ مقدار میں لیوئن بھی ہوتی ہے جو کینسر کے خاتمہ کے لئے مفید ہو سکتی ہیں۔
پیاز اور لہسن
ان دونوں میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو کینسر کو روکنے میں مفید ہیں۔یہ نائٹرو سامینز (Nitrosamines) اور ایفلاٹاکسنز (Aflatoxins) کا گھیراؤ کرکے ان کے زہر کو ختم کرتے ہیں۔ان کا تعلق خاص کر پیٹ،پھیپھڑوں اور جگر کے کینسر سے ہوتاہے۔


ٹماٹر
ٹماٹر کی چٹنی میں اگر زیتون کا تیل ملا دیا جائے خواہ ایک ہی قطرہ کیوں نہ ہو تو اس سے مثانہ کے کینسر سے حفاظت ہوتی ہے۔ٹماٹر میں لائکوپین Lycopeneموجود ہوتی ہے جو نرخرے،معدے اور بڑی آنت کے کینسر سے محفوظ رکھتی ہے۔
سیب
اس پھل میں قورسٹین (Quercetin) موجود ہوتا ہے جو پھیپھڑوں کے کینسر میں مفید بتایا جاتا ہے۔


لیموں،کینو،موسمبی
ان تین پھلوں میں قدرتی اجزاء کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں جیسے کیروٹینائڈز(Carotenoids)، فلیرینائڈ (Flarenoid)ٹرپینز (Terpenes) لیمونائڈز (Limonoids) اور کیومارن(Coumarin)یہ سب کینسر زدہ (کارسینوجن) اجزاء کو بے اثر کرتے ہیں۔
چائے
سبز چائے میں اینٹی اوکسی ڈینٹس کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو گلٹیوں کی جسامت کو کم کرتی ہے اور انہیں بڑھنے پھیلنے سے روکتی ہے۔


انگور
اس پھل میں بھی کئی ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو کینسر زدہ خلیوں کے خلاف مدافعت کرتے ہیں۔
سویابین
سویابین میں بیک وقت کینسر کے خلاف مدافعت کرنے والے پانچ اجزاء موجود ہیں۔ان میں ایسٹروجن شکن خصوصیات بھی موجود ہیں جن سے سینہ اور مثانہ کے کینسر کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔فائیو سٹیئرول Phytosterolاور اسپومینز(Slomins) دونوں کینسر میں مفید ہے۔

اس میں ایک اہم کیمیائی جز پایا جاتا ہے جو دنیا کے سب سے خطر ناک کینسر(کارسینوجن) کو بننے ہی نہیں دیتا۔سویا آسئو فلیوون (Isoflavone)بھی موجود ہے۔جو سینہ کے کینسر کے خلیوں کو تقریباً تیس فیصد گھٹا دیتا ہے۔
یاد رکھیے
گاجر اور ہرے پتے والی سبزیاں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات کو کم کرتی ہیں۔گاجر بڑی آنت کے کینسر میں مفید ہے۔مختلف پھل حلق نرخرہ اور منہ کے کینسر میں مفید ہیں اور کئی سبزیاں معدے اور لبلبے کے کینسر میں مفید ہیں۔پھولوں والی ترکاریاں تھائی رائڈ کے کینسر کو کم کرتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-08-31

Your Thoughts and Comments