Kaam Ka Dabao Or Zehni Sehat

کام کا دباؤ اور ذہنی صحت

بدھ مارچ

Kaam Ka Dabao Or Zehni Sehat
ڈاکٹر محمد عمران یوسف
کیا آپ دفتری امور کی انجام دہی میں ذہنی دباؤ (اسٹریس) کا شکار رہتے ہیں؟اگر آپ کسی عام نجی ادارے میں کام کر رہے ہیں یا پھر کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم ہیں تو اس سوال کا جواب اکثریت کی طرف سے اثبات ہی میں آئے گا، کیونکہ آج اکیسویں صدی میں جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی نے کام کی رفتار انتہائی تیز کر دی ہے ،وہیں انسان اس دوڑ میں خود کو آگے سے آگے لے جانے کی کوشش میں شدید ذہنی دباؤ اور کام کے دباؤ سے دو چار ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل میں کام کا دباؤ(WORK STRESS) سر فہرست ہے۔
بین الاقوامی تحقیقات بتاتی ہیں کہ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 60فی صد سے زیادہ آبادی کام کے دباؤ کی اذیت جھیل رہی ہے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہر سال ایک محتاط اندازے کے مطابق اوسطاً62بلین ڈالر مالیت کی ادویہ خریدی جاتی ہیں ،جب کہ اسی کام کے دباؤ کے نتیجے میں اداروں کو بھی لگ بھگ95بلین ڈالر معاشی نقصان برداشت کرنا پڑتاہے ۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ مالیاتی ادارے ،خاص طور پر بینکوں اور حفاظتی اداروں میں کام کرنے والے کام کے دباؤ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔اگر دباؤ کی وجہ سے آپ اپنے دفتر یا کام کی جگہ پر اچھی کار کردگی نہیں دکھا پا رہے ہیں ،کار کردگی متاثر ہو رہی ہے یا پھر خود کو توانا محسوس نہیں کر رہے ہیں تو ملازمت سے برخاست کیے جا سکتے ہیں یا پھر آپ کا کارو بار خطرے میں پڑ سکتاہے ۔

اس صورت حال سے دو چار افراد کے لئے یہ علامت اس بات کی متقاضی ہے کہ فوری طور پر تدارک کی کوشش کی جائے ۔
عام طور پر کام کے دباؤ کے کئی عوامل ہو سکتے ہیں ،مثلاً ملازمت سے بر طرفی کا خوف ،کام کی زیادتی یا کارکنوں کی کمی کی وجہ سے دیر تک دفتر میں کام کرنے کی اکتاہٹ ،اپنے باس یا کلائنٹ کی تو قعات پر پورا اُترنے کا دباؤ ،وقت پر کام کی تکمیل کہ دوسروں پر اچھا تاثر پڑ سکے اور اپنے کام میں مہارت نہ ہونا وغیرہ ۔

اس دباؤ کی علامات میں ہر وقت پریشان رہنا،اُلجھن ،چڑچڑاپن ،کام میں عدم دلچسپی، تھکن،سستی، نیند کا غلبہ،عدم توجہی ،خرابی معدہ ،بے خوابی اور ملنے جلنے سے کترانا وغیرہ شامل ہیں ۔اگر خدا نخواستہ کسی فرد میں ایسی علامات پائی جائیں تو اس کا واضح مطلب ہے کہ وہ دفتری یا پیشہ ورانہ کام یا پھر کسی اور وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکارہے۔کا م کے دباؤ سے نجات کے لئے کئی تدابیر اختیار کرکے کار کردگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے ۔

یہ تدابیر ذیل میں دی جارہی ہیں:
اپنے دن کا آغاز ورزش سے کریں ۔یاد رکھیے ،دن کا پہلا گھنٹہ اگلے 23گھنٹوں کی تشکیل کرتاہے ،لہٰذا صبح سویرے سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی (بلکہ بہتر ہے کہ اذان فجر کے ساتھ) اُٹھیں اور نماز پڑھ کر کم از کم پندرہ منٹ سے بیس منٹ تک ورزش کریں ۔اس ضمن میں زیادہ اہتمام کی قطعاً ضرورت نہیں ،کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ جو افراد زیادہ اہتمام کے چکر میں رہتے ہیں ،وہ ورزش کر ہی نہیں پاتے ،لہٰذا بہتر یہی ہو گا کہ گھر میں کسی ایک جگہ پر کچھ دیر ہلکی پھلکی اچھل کود کرلیں ،اُٹھک بیٹھک لگا لیں یا کچھ دیر کے لئے رسی کود لیں۔

اگر چہ یہ معمولی نوعیت کی بے حد آسان ورزشیں ہیں ،مگر اس قدر موثر ہیں کہ چند ہی دنوں میں خاصی بہتری محسوس ہو گی ۔سب سے بڑھ کر اس طرح آپ دفتر یا کام کرنے والی جگہ پر وقت پر پہنچ سکیں گے ۔
دفتر میں آپ کی جو بھی ضروریات ہیں ،ان سے واضح طور پر آگاہ رہیں اور یہ اُسی وقت ممکن ہے ،جب آپ کو اپنی ذمے داریوں کا ادراک ہو گا۔نیز آپ یہ بھی جانتے ہوں کہ صبح دفتر پہنچ کر کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ۔

یاد رکھیے، یہ دونوں نکات بہت ہی اہم ہیں اگر آپ اپنے ذمے داریوں سے کم کام کریں گے تو بھی مسائل جنم لیں گے اور زیادہ کرنے کی صورت میں بھی آپ دباؤ کا شکار ہوں گے ،لہٰذا اپنے کام میں توازن بر قرار رکھنا ہی سب سے اچھی حکمت عملی ہے۔
تصادم اور جھگڑوں سے بچیں ،کیونکہ یہ جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں ۔عموماً دفتری سیاست بہت زیادہ دباؤ کا باعث بنتی ہے اور اس کا پیش خیمہ عموماً چھوٹے چھوٹے مسائل اور معمولی اختلافات ہی ہوتے ہیں ،جو وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے دشمنی کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں یا کم از کم ان کے سبب متعلقہ افراد ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔


جسم کو آرام دیں۔بعض اوقات کام کرنے کی نشست یا وہ جگہ جہاں بیٹھ کر کام کیا جا رہا ہے ،اس قدر بے آرام رکھتی ہے کہ ذہنی دباؤ پیدا ہو جاتاہے ۔یہ حقیقت ہے کہ بیٹھنے کی ایک معمولی نشست بھی ذہنی دباؤ میں مبتلا کر سکتی ہے ۔ایک صاحب جو ایک ادارے میں کمپیوٹر آپریٹر تھے۔ان کی گردن اور سر میں اکثر درد رہتا تھا۔انھیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی کرسی اوپر نیچے کرکے دیکھیں ،تاکہ کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے ان کا سر،گردن اور کمر سیدھی رہیں ۔

انھوں نے اس تجویز پر عمل کیا تو چند ہی روز میں سر کا درد اور بے سکونی دور ہو گئی ،جو ان کی سخت تھکن اور اُلجھن کا سبب بنی رہتی تھی ،لہٰذا اپنی نشست اور جگہ پر مناسب روشنی اور آرام وغیرہ کا جائزہ ضرور لیں ۔اگر مناسب سہولتیں میسر نہیں ہیں تو اُن کا انتظام کرلیں۔
ایک ساتھ کئی کام کرنے سے گریز کریں ۔ہمارے یہاں دفاتر میں یہ روش عام ہے کہ کام کی زیادتی کا حل ایک ساتھ کئی کام شروع کرنے کی صورت میں نکال لیا جاتاہے ۔

یاد رکھیے ،ایک ساتھ کئی کام کرنے سے کار کردگی کبھی نہیں بڑھتی ،البتہ ذہنی دباؤ ضرور بڑھ جاتاہے ،جس کے نتیجے میں کارکردگی متاثر ہوتی ہے ۔کئی کام ایک ساتھ کرنے کے بجائے ان کے جلد حل کے متبادل مثبت طریقے تلاش کریں ۔اس حوالے سے اپنے کسی قریبی دوست یا دفتری ساتھی سے بھی مشورہ کیا جا سکتاہے۔
اگر دفتر میں دوپہر میں نماز اور کھانے کا وقفہ ہوتو اس سے ضرور استفادہ کریں ،کیونکہ صبح نو سے ایک بجے تک کام کرتے کرتے توانائی چوتھائی حصے سے بھی کم رہ جاتی ہے ۔

کچھ دیر وقفہ کرنے سے دماغ اور جسم کو آرام ملتاہے اور توانائی بھی بحال ہوتی ہے ۔بحالی توانائی کا مطلب ہے ،کار کردگی میں اضافہ ،لیکن جو افراد کام کی زیادتی کی وجہ سے وقت بچانے کی غرض سے دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے ،وہ اپنی کار کردگی مزید گھٹاتے چلے جاتے ہیں اور کم وقت میں زیادہ کام کرنے کے بجائے ،زیادہ وقت میں کم کام ہی کر پاتے ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی کئی طریقے ہیں ،جن پر عمل کرکے کام کے دباؤ سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے ،تاہم اگر درج بالا باتوں ہی پر عمل کر لیا جائے تو کام کے دباؤ میں واضح کمی محسوس ہو گی اور ذہنی صحت پر بھی اچھے اثرات پڑیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2020-03-18

Your Thoughts and Comments