Khud Itmadi Ka Kamyabi Ya Nakami Mein Ehum Kirdaar

خود اعتمادی کا کامیابی یا ناکامی میں اہم کردار

ہفتہ دسمبر

Khud Itmadi Ka Kamyabi Ya Nakami Mein Ehum Kirdaar

فرزانہ سلیم
ہم اپنے بارے میں جو احساس رکھتے ہیں وہ ہمارے تجربات کے تمام پہلوﺅں کو متاثر کرتا ہے۔ مثلاً ہم کیسے کام کرتے ہیں؟ یا والدین کی حیثیت سے کس طرح کا رویہ اپناتے ہیں؟ نفسیات کی رو سے ہمارا رویہ ہماری اس سوچ سے بہت متاثر ہوتا ہے جو ہم اپنے بارے میں رکھتے ہیں۔ یوں خود اعتمادی کامیابی یا ناکامی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ ہمیں اپنے اور دوسروں کے بارے میں سمجھنے میں بڑی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ہماری کوئی بھی رائے اتنی اہم نہیں جتنی کہ وہ رائے جو ہم خود کے بارے میں رکھتے ہیں۔خود اعتمادیکیا ہے؟ آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے دو پہلو ہیں ایک اپنی قابلےت کا احساس اور دوسراذاتی ورتھ کا احساس، دوسرے لفظوں میں خوداعتمادی اور عزت نفس کا مجموعہ ہے۔

(جاری ہے)

خوداعتمادی اور عزت نفس پیدا کرنے کی صلاحیت انسانی فطرت میں شامل ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر فرد کو بلند درجے کی خود اعتمادی کا حامل ہونا چاہیے تاہم بدقسمتی سے بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہے اور وہ عدم تحفظ، احساسِ جرم اور زندگی میں بھرپور شمولیت کے خوف جیسے احساسات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس قسم کے احساسات ہمیشہ فوراً سامنے نہیں آتے مگر یہ درپردہ موجود ہوتے ہیں۔ تاہم یہ منفی احساسات عمر کے بڑھنے کے ساتھ اپنے بارے میں مثبت سوچ رکھنے سے دور ہوتے جاتے ہیں۔

خود اعتمادی میں ترقی کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس سوچ کو پروان چڑھایا جائے کہ ہم زندہ رہنے اور خوش رہنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔خود اعتمادی بڑھنے کا مطلب ہماری خوشی میں اضافہ ہے۔ اگر ہم اس بات کو سمجھ سکیں تو پھر ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ ہمارے اندر خود اعتمادی بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ خود اعتمادی بڑھانے کے بہت سے فوائد ہیں مثلاً جتنی زیادہ ہماری خود اعتمادی ہو گی اتنا ہی ہم زندگی کی تلخیوں کا مقابلہ کرنے اور اپنے کام میں زیادہ تخلیقی اور زیادہ کامیابی کی توقع کر سکیں گے۔

مزیدبراں ہم زندگی کے بارے میں پُرامید ہوں گے اور ہمارے تعلقات دوسروں سے خوشگوار ہوں گے۔اس کے علاوہ ہماری خود اعتمادیجتنی عمدہ ہو گی اتنا ہی زیادہ ہم دوسروں کی عزت کریں گے۔ ہم انہیں اجنبی محسوس نہیں کریں گے اور اندر سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ خود اعتمادی خواہ وہ کسی بھی درجے کی ہو وہ ہمارے اندر موجود ہوتی ہے۔ یہ وہ احساس اور سوچ ہے جو ہم اپنے بارے میں رکھتے ہیں نہ کہ وہ خیال جو دوسروں کا ہمارے بارے میں ہے۔

زندگی کے ابتدائی برسوں میں ہمارے تجربات ہماری شخصیت اور خود اعتمادی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر ہماری پرورش جیسی بھی رہی ہو ایک بالغ فرد کی حیثیت سے معاملہ اب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔جس طرح کوئی بھی دوسرا فرد ہمارے لئے سانس نہیں لے سکتا اور نہ کوئی ہماری جگہ سوچ سکتا ہے اسی طرح کوئی بھی خوداعتمادی اور اپنی ذات سے محبت بھی ہمارے اوپر طاری نہیں کر سکتا۔

جس طرح دوسروں کا Acclaim ہمارے اندرخود اعتمادی پیدا نہیں کر سکتا اسی طرح علم، ہنر، مادی اشیائ، شادی رفاحی کام اور چہرے کی زیبائش ہماری خوداعتمادی کو بڑھا نہیں سکتیں۔ یہ چیزیں ہمیں بعض صورتوں میں عارضی طور پرراحت تو دے سکتی ہیں مگر اس کو ہم خود اعتمادی نہیں کہہ سکتے۔اگر خود اعتمادی اس قےامت کا نام ہے کہ میں زندگی کیلئے موزوں ہوں یا ایک ایسے ذہن کا جو خود پر بھروسہ کرتا ہے تو پھر اس کا تجربہ کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا سوائے ”میرے“۔

صحت مند خود اعتمادی کا اظہار خودنمائی، خود کو برتر سمجھنے یا دوسروں کو کمتر سمجھنے میں نہیں ہوتا اور نہ ہی شیخی بگھارنا یا اپنی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہے۔ صحت مند خود اعتمادی کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایک فرد کی ایسی حالت ہے جس میں وہ اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہوتا۔ صحت مندخود اعتمادی کی اہمیت اس بات میں مضر ہے کہ یہ بنیاد ہے اُن صلاحیتوں کی جنہیں پا کر ہم ان کا جواب مثبت انداز میں دیتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-29

Your Thoughts and Comments