Misbet O Manfi Zehni Adaten Jo Shakhsiyat Par Assar Andaaz Hoti Hain

مثبت ومنفی ذہنی عادتیں جو شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں

جمعہ مارچ

Misbet O Manfi Zehni Adaten Jo Shakhsiyat Par Assar Andaaz Hoti Hain

زندگی میں ترقی کا پیمانہ دوسروں سے مقابلہ بازی کرنے میں نہیں بلکہ سوچ مثبت رکھتے ہوئے عملی طور پر اپنی ذات کو منفی باتوں سے دور کرکے تعمیری سر گرمیوں میں مصروف رکھنا ہونا چاہیے
عادتیں ہماری زندگی کا وہ اہم حصہ ہیں جو ہمارے حق میں ہو سکتی ہیں اور ہمارے خلاف بھی جا سکتی ہیں! خاص کر ہماری ذہنی عادتیں ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ہم ان کو اسی طرح چھوڑ دیں تو ہمارے لیے راستوں کا تعین بھی کر دیتی ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیں ذہنی عادتوں سے آگاہی حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور ان کو ایسی شکل دینے کی بھی کہ ہم زندگی کے ثمرات سے بہتر انداز میں لطف اندوز ندگی کے ثمرات سے بہتر انداز میں لطف اندوز ہو سکیں۔
فطری طور پر ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اُس کا دارو مدار ہماری ذہنی عادتوں پر ہوتا ہے ۔

(جاری ہے)

یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہماری ذہنی عادتیں ہمارے عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔

جب ہم اپنی ذہنی عادتوں کو ایک خاص شکل دینے اور اُس پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہم جو کچھ چاہتے ہیں کر سکتے ہیں ۔دوسری طرف جب ذہنی عادتیں ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں تو ہم وہ کچھ حاصل کرلیتے ہیں جو ہم کررہے ہوتے ہیں چاہے وہ اچھی بات ہو یا بری بات ہو ۔ہماری ذہنی عادتیں ہماری صحت اور حسن پر بھی اثر اندازہوتی ہیں یعنی اچھی عادتیں مثبت اور بری عادتیں منفی اثرات دکھاتی ہیں ۔

اگر ہم اپنی ذہنی عادتوں پر قابو پانا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں اپنے ذہن کی صفائی کرنا ہو گی ۔
ذیل میں ایسی چند ذہنی عادتوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے جن پر ہمیں قابو پانے کی ضرورت ہے مثلاً موازنہ‘سکون اور خوف کو تحریک دینے والی عادتیں وغیرہ جن کے منفی اور مثبت اثرات مذکورہ بالا عادتوں پر روشنی ڈالتے ہیں ۔ان کا تجزیہ کرتے ہیں ۔

ان کو سمجھتے ہیں تاکہ ہم خود کو اور بہتر طریقے سے جان سکیں اور تب ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ ہم وہ سب کچھ حاصل کر سکیں گے جو ہمیں واقعی چاہیے۔
موازنہ (تقابل)
موازنہ یہ انسان کو آگے بڑھانے میں بہت مدد دیتا ہے ۔اپنا موازنہ خود اپنے آپ سے کریں کہ آپ آج پانچ سال قبل ایک سال قبل یا چھ ماہ قبل کیا تھے۔اچھا ہو گا کہ آپ گزرے کل سے اپنے آج کل موازنہ کریں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ آپ کس قدر آگے بڑھے ہیں یا پیچھے ہٹے ہیں ۔

اس سے آپ کو خود کو بہتر پوزیشن میں لانے میں مدد ملے گی ۔اس کامطلب یہ ہوا کہ مواز نہ اگر چہ سب کچھ نہیں ہے مگر بہر حال ضروری اور اہمیت کا حامل ہے لیکن مسئلہ تب کھڑا ہونے لگتا ہے جب ہم اپنا اور اپنی زندگی کا موزانہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں کیا دوسروں کے ساتھ اپنا موزانہ کرنا غلط ہے ؟کیا اس سے خود میں تحریک نہیں پیدا ہوتی ہے کہ ہم اوروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں ؟ان سے زیادہ سہولتیں حاصل کریں؟
مگر ہم اس مواز نے کے تاریک پہلو سے مکمل طور پر آگا ہ نہیں ہوتے ہیں۔


دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے کی عادت زندگی میں کئی مسائل پیدا کرتی ہے اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ خود سے مطمئن نہیں ہو پاتے ہیں۔جس کی وجہ سے ہماری توجہ کسی اور طرف ہو جاتی ہے اور ہم اپنی زندگی اوروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں ۔اس عمل کی وجہ سے ہمارا سکون اور ذہنی اطمینان ختم ہو جاتا ہے ۔
اگر ہم اوروں سے اپنا موازنہ کرنا بند کردیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔

اگر آپ موازنہ ہی کرنا چاہتے ہیں تو خود کا خود سے موازنہ کریں کہ آپ پہلے کیا تھے اب کیا ہیں ۔اس میں ہمیں سچائی اور ٹھوس پن ملے گا کیونکہ آپ خود سے جھوٹ نہیں بول سکتے ہیں ۔آپ کو اپنے بارے میں سب پتہ ہے ۔ہم دوسروں سے موازنہ کریں گے تو اپنے ہدف سے ہٹ جائیں گے ۔وقت اور توانائی کا الگ زیاں ہو گا اور ہم سچائی حاصل نہیں کر پائیں گے ۔یہ سب میں ایک بلیو پرنٹ کی صورت میں ہر انسان کے دماغ میں موجود ہے ایک ایسا ذہنی جو ہر جس کے ذریعے ہم بڑھنے اور تخلیق کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں اپنے اندر کی منفی باتوں کا اوروں کی منفی باتوں سے موازنہ کرنا ہدف نہیں ہونا چاہیے ۔

اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے مطابق زندگی گزاریں دوسروں سے موازنہ اس راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتا ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ ہم ذہنی عادت سے مجبور ہو کر جب دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں تب یہ ہوتا ہے کہ اپنی ترقی کو ناپنے کے لیے دوسروں کی ترقی کا پیمانہ استعمال کرنے لگتے ہیں ۔
ہم جس قدر بھی ترقی کرلیں اپنے آپ اور اپنی کار کردگی سے مطمئن نہیں ہوتے ہیں ہم یہ اور وہ صرف اس لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ دوسرے اُسے حاصل کر چکے ہیں ۔


ہم جدوجہد اور مقابلہ اس لیے کرتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے ہم اس دوڑ میں اپنے آپ کو جھونک دیتے ہیں ۔یہ سوچ کر رکھیں ہم اوروں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔
ہم جب اپنی ذہنی عادتوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں تب درج ذیل کیفیات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
ہم خود اپنے آپ پر نظر ڈالتے ہیں کہ ہم کون ہیں اور کہاں کھڑے ہیں ۔

اسی کو ہم اپنا معیاری پیمانہ مقرر کر لیتے ہیں اور اپنی ارتقاء کو اسی سے ناپنے لگتے ہیں ۔
ہم اپنی کار کردگی سے خوش اور مطمئن ہوتے ہوئے آئندہ بھی ایسے ہی جذبات سے سر شار رہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں خود کو کس طرح مطمئن کرنا ہے۔
سکون (اطمینان)
کیا آپ مطمئن ہیں ؟یہی بات آپ کا ذہن جاننا چاہتا ہے ۔سکون اور اطمینان ایسا احساس ہے جو ذہن کی سب سے طاقتور عادت ہے اور اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں مضبوط افزائش اور ذاتی ارتقاء کے لیے فرد کا مطمئن وپر سکون اور خود کو محفوظ تصور کرنا بہت ضروری ہوتا ہے بے شک ہمیں اپنے اطمینان اور تحفظ کے لیے ایک محفوظ بنیاد کی ضرورت ہے مگر یہ ہمارا ہدف نہیں ہے ہم جانتے ہیں کہ ذہنی عادتیں ہم پر جب قابو پاتی ہیں تب یہ ہوتا ہے کہ۔


زندگی آسان ہو جاتی ہے اور ہمارے پاس برسوں تک کوئی مثبت تجربہ یا مثبت عمل تو تحریک پیدا کرنے کیلئے جنم نہیں لیتی ہے ۔ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہتا ہے کہ ہم نے آخری بار کب اپنے آپ کو اپنے عمل سے حیران کر دیا تھا۔ہم یکسانیت کا شکار ہو کر ایک ہی دائرے میں چکر کاٹتے رہتے ہیں۔
زندہ رہنے میں لطف نہیں آتا ہے ۔زندگی بس گزارنے والی چیز بن کررہ جاتی ہے۔

زندگی ‘زندگی سے عاری لگنے لگتی ہے اور ہمیں بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ آخر ہم کس طرح کی زندگی بسر کررہے ہیں۔
جب ہم ذہنی باتوں کو اپنے لیے باعث اطمینان بنا لیتے ہیں تب یہ ہوتا ہے ۔ہم اپنے مستقبل کے حوالے سے پر جوش ہو جاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آنے والے ایام کیسے ہوں گے۔
اطمینان اور سکون کو مستقل سمجھے کے بجائے ہم اسے منزل کا ایک سنگ میل سمجھتے ہیں کہ ابھی اور آگے جانا ہے ۔

ہمارے پاس محفوظ توانائی ‘طاقت اور اعتماد ہوتا ہے جس کے ذریعے ہم اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لاپاتے ہیں۔
ہم اچھی طرح جان جاتے ہیں کہ کن باتوں سے ہمیں سکون ملے گا اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ا س کے لیے کیا راستہ اپنانا ہوگا ۔زندگی یکسانیت کا شکار نہیں ہوتی ہے کیونکہ ہم اطمینان اور سکون کی سطح میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں اور چیلنجز کا سامنا بھی کرتے ہیں ۔


خوف
تمام ذہنی عادتوں میں خوف سب سے بری عادت ہے اور وسیع تر بھی ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ ڈر اور خوف کس طرح انسان کو کمزور اور تواناں بنا دیتا ہے کسی اور ذہنی عادت کے مقابلے میں خوف کا یہ عنصر ایسی عادت ہے ۔جو اکیلے لوگوں کو ان کی خواہش کے مطابق زندگی گزارنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈالتا ہے ۔یہ ایک طاقتور احساس تو ہے ہی مگر یہ عادت بھی ہے ۔

کچھ عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں کمزور کرتی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جن سے ہمیں طاقت ملتی ہے۔ اب یہ ہمارے اُوپر ہے کہ ہم خود کو کس طرف لے جاتے ہیں ۔
جذبات کو قابو کرنا یا کسی من پسند سمت میں لے جانا بہت مشکل ہو تا ہے ۔مگر عادت اس کو ترک بھی کیا جا سکتا ہے تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے اور اس پر قابو بھی پایا جا سکتا ہے ۔ہم سب کسی ایک چیز سے خوف زد ہ نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہی خوف زدہ ہونے کی شدت سب میں ایک جیسی ہوتی ہے ہم سب مختلف عادتوں سے خوفزدہ رہتے ہیں ۔

ذاقی ارتقاء اور افزائش کی راہ پر چلتے ہوئے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُس مخصوس خوف کو پہچانیں جو ہماری ذات اور زندگی میں موجود ہے ۔
ہمیں اُس خوف کو تلاش کرکے اپنے سے الگ کر دینا ہے جو ہمیں آگے بڑھنے سے روک رہا ہے۔اس میں کافی محنت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے ۔یہی ہمارے لیے اقدام ہوتا ہے جس پر آگے چلتے ہوئے ہم ذہنی عادتوں میں وہ تبدیلی کر پاتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں ۔

ہم اس خوف کے باقی رہنے کے حوالے سے بحث کر سکتے ہیں ۔
جو خوف ہے وہ درست ہے یا نہیں کیا یہ خوف صرف ہمارے ذہن میں ہے یا پھر یہ سچ مچ ایک اشار ہ ہے کہ جس کی طرف توجہ دے کر ہم آنے والے دنوں میں کچھ اچھا کر سکتے ہیں؟
یہ خوف کبھی مثبت نہیں ہوتا ہے اور یہ ہمارے اندر سے طاقت ‘توانائی ‘تحریک اور خود اعتماد کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے یہی وہ خوف ہے جس کے بارے میں بین السطور تفصیلی تحریر کیا گیا ہے کیا اب بھی آپ کو اندازہ نہیں ہوا کہ ہم کس خوف کی بات کررہے ہیں ؟یہ خوف خود اپنے آپ میں ایک خوف ہے ۔

خوف کا ڈر بھی خوف کی شکل میں ہے ۔یہ خوف ہمیں نیچے لے جاتا ہے ۔ہمیں کمزور کر دیتا ہے ۔یہ ہمارے ذہنوں کو اپنے تسلط میں لے لیتا ہے اور اس سے نجات پانے کے لیے ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے اور اس سے صرف دماغ سے ہی نہیں‘زندگی سے بھی نکال باہر کرنا چاہیے ۔ذہن کی اس عادت کو ہدف بنالیں اسے پہچانیں اور سمجھیں کہ یہ کس کس طرح سے آپ کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے بہت جلد آپ اس پر قابو پانے کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے ۔

ایسا نہیں ہے کہ آپ راتوں رات اس خوف سے آزاد ہو جائیں گے مگر مستقل مزاجی کیساتھ آپ بتدریج اس کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ایک وقت آئے گا جب آپ مکمل طور پر اس کے تسلط سے آزاد ہو جائیں گے۔
جب ہم ذہنی عادتوں میں سے خوف کے قابو میں ہوتے ہیں ‘تو تب یہ ہوتا ہے کہ ہم خوف سے گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ہم اس سے بچنے کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی عمل خوف سے جڑا ہوا ہے تو ہم اُس عمل کو سرے سے کرتے ہی نہیں ہیں۔


ہم جان بوجھ کر یا لاشعوری طور پر خف کا یہ مطلب نکال لیتے ہیں کہ بس ہمیں کچھ نہیں کرنا ہے اور پیچھے رہنا ہے ۔ہم خوف کو ہمیشہ”سرخ بتی“سمجھتے ہیں جس کا ہمیشہ مطلب یہی ہوتا ہے کہ”رک جاؤ‘آگے مت جاؤ “
ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ خوف ہمارے لیے نہیں ہے ۔ہم موت ‘زندگی اور کسی چیز سے خوف زدہ نہیں ہیں ۔
ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ حوصلہ مند ہونے کا مطلب ہے کہ خوفزدہ نہ ہونا۔


ہم جان بوجھ کر خوف کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھاتے ہیں کیونکہ ہم خوفزدہ ہوتے ہیں کہ کہیں یہ خوف ہماری ذات میں ہی نہ نکل آئے ۔ہم اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ہماری زندگی اور مشکل ہو جائے گی لہٰذا اس کے ساتھ رہنا سیکھ لیتے ہیں۔
جب ہم اس ذہنی عادت پر قابو پا لیتے ہیں تو یہ باتیں ہوتی ہیں۔
ہم خوف سے خوفزدہ ہونا بند کر دیتے ہیں اور اس پر مثبت انداز سے نظر ڈالتے ہیں ۔

ہم اسے ایک دوست اور گروتھ پارٹنر کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں ۔اس سے بچنے کی بجائے اس کا سامنا کرنے لگتے ہیں اور ذہن سے اسے نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
ہم اپنے ذہن کا خوب اچھی طرح جائزہ لیتے ہیں اور اس نتیجہ پر پہنتے ہیں کہ اکثر سرخ بتیاں اصل میں سرخ نہیں ‘گرین ہیں ۔اس طرح رفتہ رفتہ اس خوف پر قابو پاتے ہوئے ہم مثبت انداز میں سوچنا اور دیکھنا سیکھ لیتے ہیں ہمارا یہ طرز عمل پھر ہمارے قدم روکنے کے بجائے ہمیں آگے بڑھنے کی دعت دینے لگتا ہے ۔

یہ ہمیں مردہ بنانے کے بجائے زندگی کی طرف لے جانی والی علامت بن جاتا ہے ۔
ذاقی ارتقا اور افزائش کی راہ کا انتخاب کرنے ک مطلب ہے کہ ہم اپنی ذات کا اندر اور باہر سے مطالعہ کریں اور اُن باتوں کا بھی تجزیہ کریں جو ہمیں خوف زدہ کرتی ہیں ۔
جب ہم اس خوف کا پتہ چلا لیتے ہیں جس نے ہمیں آگے بڑھنے سے روکا ہوا تھا تو ہمیں خوشی ہوتی ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ہم نے وہ راستہ تلاش کر لیا ہے جو ذاتی ارتقا اور افزائش کے لیے ضروری ہے اور یہ ساری زندگی ساتھ رہے گا۔

تاریخ اشاعت: 2019-03-29

Your Thoughts and Comments