Bitter Melon - Ghiza Bhi Dawa Bhi - Article No. 2244

کریلا ۔ غذا بھی دوا بھی - تحریر نمبر 2244

ہفتہ 11 ستمبر 2021

Bitter Melon - Ghiza Bhi Dawa Bhi - Article No. 2244
حکیم حارث نسیم سوہدروی
کریلا بہت مفید سبزی ہے۔یہ غذا بھی ہے اور دوا بھی۔کریلے کے کڑوے پن کی وجہ سے لوگ اسے بہت زیادہ شوق سے نہیں کھاتے۔ بچے تو اس کی کڑواہٹ کے باعث بالکل پسند نہیں کرتے اور یوں اس کی افادیت سے محروم رہتے ہیں۔ماہرین طب و صحت نے اس کے بہت سے فائدے بیان کیے ہیں اور اسے بہت سے امراض کے خاتمے کے لئے مفید قرار دیا ہے۔


کریلا گرم ممالک،مثلاً نیپال،چین،افریقہ،جنوبی مشرقی ایشیا اور جنوبی امریکہ میں کاشت کیا جاتا ہے۔یہ باہر سے کھردرا اور ایک جانب سے نوکیلا ہوتا ہے۔اس کا ذائقہ سخت کڑوا ہوتا ہے۔پکنے پر اس کے بیج سرخ ہو جاتے ہیں۔کریلے کے بیج،پتے اور جڑیں بھی مفید ہیں۔ اس میں حیاتین الف (وٹامن اے)،حیاتین ب 3 (وٹامن بی 3) ہوتی ہیں،جب کہ کیلسیئم،میگنیزیئم اور فولاد کی کافی مقدار ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

اس میں کولیسٹرول اور شکر بالکل نہیں ہوتی۔سو گرام کریلے میں یہ صحت بخش اجزاء پائے جاتے ہیں:
کیلسیئم 19 ملی گرام،تانبا 340ء ملی گرام،ریشہ 3 گرام،فولیٹ 72 مائکرو گرام،فولاد 430ء ملی گرام،میگنیزیئم 17 ملی گرام،فاسفورس 296ء ملی گرام،سیلنیئم 20ء ملی گرام،سوڈیئم 5 ملی گرام،نشاستہ 4 ملی گرام اور جست 80 ملی گرام۔
ایک تحقیق کے مطابق جن افراد کے ہاتھ پاؤں گرم رہتے ہیں،وہ اگر کریلے کے پتوں کو پیس کر سفوف بنا کر اس کا عرق پئیں تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔

اس عرق سے بھوک بھی لگتی ہے۔یہ قبض دور کرتا ہے اور ضدحیوی (Antibiotic) ہے۔یرقان سے نجات دلاتا ہے۔یہ خون کے سرخ ذرات کی کمی کو دور کرتا اور خون کے امراض سے چھٹکارا دلانے میں مفید ہے۔آنتوں میں اگر کیڑے ہوں تو کریلے کے دو تین بیج کھانے سے کیڑے نکل جاتے ہیں۔مسوں کے اُبھرنے کی صورت میں کریلے کی جڑوں کی لگدی بنا کر لگانے سے ابھار پن جاتا رہتا ہے۔

کریلے میں سرطان کے خلیوں (سیلز) کو ہلاک کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لئے تو کریلا ایک نعمت ہے۔انھیں کریلے کے موسم میں کریلا کھانا چاہیے،البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اعتدال سے کھایا جائے،اس لئے کہ زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔کریلے کا سفوف بھی مل جاتا ہے،تاہم تازہ کریلے کا کھانا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔


جو لوگ کریلے کو کڑوا ہونے کی وجہ سے نہیں کھاتے،ان کے لئے مشورہ ہے کہ وہ ایک کلو کریلے لے کر چھیل لیں۔پھر ایک پاؤ املی کے ساتھ پتیلی میں ڈال کر ایک یا ڈیڑھ کلو پانی ملا کر دو تین گھنٹے تک پکائیں،اس طرح کریلے کی کڑواہٹ جاتی رہے گی۔اس مفید سبزی سے غذائی اور دوائی طور پر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔خواتین کریلے کو کئی طریقوں سے پکاتی ہیں۔غرض قدرت کی اس نعمت سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے،غذائی طور پر بھی اور دوائی طور پر بھی۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-11

Your Thoughts and Comments