Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq

انسانی جسم کے حوالے سے چندغلط حقائق۔۔:تحریر:عرفان عارف

Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq
انسانی جسم کے حوالے سے چند مکمل طور پہ غلط حقائق ہم بچپن سے یہ سنتے آئے ہیں کہ معمول کی خوراک میں سبزیاں کھانے، روزانہ آٹھ گھنٹے سونے اور ورزش کرنے سے ہم تندرست و توانا رہیں گے۔ تندرست زندگی گزارنے کے حوالے سے ہم ایسے کئی اور پیمانوں کے بارے میں بھی سنتے ہیں جن پہ عام طور پہ ہم زیادہ دھیان نہیں دیتے۔ پھر اس کے ساتھ ایسی بہت سی دادی اماؤں کی پرانی کہاوتیں بھی ہمارے کانوں میں گردش کرتی ہیں جو نسل در نسل سفر طے کرنے کے بعد ہم تک پہنچیں، جن میں حقیقت اور افسانے کے مابین فرق کو مکمل طور پہ بھلا دیا جاتا ہے۔

اس مضمون میں آپ انسانی جسم سے متعلق ایسے چند حقائق کے بارے میں جانیں گے، جن کا حقیقت سے کوسوں کوئی تعلق نہیں ہے۔ -1ہم دماغ کا صرف دس فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں: انسانی دماغ، جس کا وزن ایک اعشاریہ چار کلوگرام ہے، میں سو ارب کے قریب نیوران موجود ہیں۔

(جاری ہے)

یہ نیوران ایک دوسرے کی جانب معلومات کی ترسیل کرتے ہیں جن کو معانقہ یعنی سینیپسز بولا جاتا ہے، جو دماغ میں کھربوں کی تعداد میں موجود ہیں۔

انسانی دماغ تین حصوں پر مشتمل ہے، یعنی سیریبرم، سیریبلم اور برین سٹم۔ سریبرم دماغ کے پچاسی فیصد حصے پر مشتمل ہے، جس کے ذمے انسان کی بہت ساری اہم سرگرمیوں کی انجام دہی ہے۔ اس کے بالکل نیچے آپ کو سیریبلم نظر آئے گاجس کا بنیادی مقصد کواآرڈینیشن اور جسم کو توازن فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح برین سٹم، جو کہ سپائنل کورڈ کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس کا کام جسم کے بہت سارے خودکار افعال سر انجام دینا ہے، جیسا کہ سانس لینے اور ہاضمے کا عمل۔

یہ ایک ناقابلِ یقین با ت لگتی ہے کہ اتنے سارے افعال انجام دینے میں دماغ کا صرف دس فیصد حصہ خرچ ہو رہا ہے۔ افسوس کے ساتھ، یہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ ہم اس کے متعلق تو نہیں جانتے کہ دماغ کے دس فیصد استعمال کا دعویٰ سب سے پہلے کس نے کیا،تاہم اس کا جھوٹا انکشاف پہلی بار وکٹورین دور کے آخری چند سالوں میں کیا گیا۔ اٹھارہ سو نوے کی دہائی کے آخری چند سالوں میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات ولیم جیمز اور بورس سڈس کی تحقیق میں سڈس کے تین سو کے آئی کیو لیول سے یہ ثابت ہوا کہ تمام انسان اس قدر ذہین ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دماغ پہ ذیادہ زور دیں، جو کہ اپنے آپ میں ایک مضحقہ خیز بات لگتی ہے۔

بیسویں صدی میں کی جانے والی مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو چوہے دماغی طور پہ ان فٹ تھے، انہیں چند افعال دوبارہ سے سکھائے جا سکتے ہیں۔ یہ نظریہ پہلے سے موجود ایک کمزور کیس کو مضبوظ کرتا ہے کہ انسانی دماغ لامتناہی غیر معمولی سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک بار پھر افسوس کہ اس حقیقت کو جدید سائنس میں مضحقہ خیز اور بے بنیاد مانا جاتا ہے۔

بس یہ اندازہ کر لیں کہ ان معلومات کو صرف پڑھتے ہوئے ہی آپ دس فیصد سے ذیادہ دماغ استعمال کر چکے ہیں۔خیر! -2 چونگم کے ایک ٹکڑے کو ہضم کرنے میں سات سال لگتے ہیں: ببل گم کے ایک بڑے ٹکڑے کو نگلنے کے بعد ہم میں سے بہت سارے لوگ سمجھتے ہیں کہ اب ہمارا نظام انہظام اسے ہضم کرنے میں سات سال لگائے گا۔ یہ سراسر بکواس ہے۔ ہم اب تک اس وہم کو سب سے پہلے پھیلانے والے کے بارے میں نہیں جان سکے، تاہم حقیقت اس سے قریب قریب ہے، چونگم ایک ایسی چیز ہے، جس کو ہضم نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مطابق گم کو کھانے کی اشیاء میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ بے شک چونگم کو نگلنا کوئی اچھی بات نہیں ہے، لیکن غلطی سے نگلنے کی صورت میں اس کا انجام اتنا حیران کن نہیں ہے۔ اس میں موجود اضافی جزویات جیسا کہ میٹھاس تو قابل ہضم ہیں، لیکن گم کا بیشتر حصہ توڑ پھوڑ کے بغیر خوراک کی نالی سے ہوتا ہوا نظام اخراج کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔

-3 چاکلیٹ کھانے سے چہرے پر کیل منہاسوں کا نمودار ہونا: ہم میں سے بہت سے لوگ یہی سنتے بڑے ہوئے ہیں کہ ذیادہ چاکلیٹ کھانے سے جسم میں کیل اور منہاس نمودار ہو جاتے ہیں۔ گویا بلوغت، پڑھائی اور بچپن کی زندگی سے جڑے مصائب میں بچوں کے لیے چاکلیٹ کی صورت میں ایک نعمت بھی خود کسی مصیبت سے کم نہیں!لیکن ہم آپ کو یہاں بتاتے چلیں کہ یہ روایتی طور پہ سچ مانی جانے والی بات بالکل غلط ہے۔

حقیقت صرف یہ ہے کہ چاکلیٹ کھانے سے آپ کے جسم میں کوئی کیل، منہاس یا دانے نہیں بنتے۔ تاہم فیٹ اور شوگر سے بھرپور کسی بھی چیز کے کھانے سے انسانی جلد میں سیبم گلینڈ میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جلد کافی آئلی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بہت سی اور غیر صحتمند اشیاٰ کھانے سے جلد میں سوزش پیدا ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ لیکن جہاں تک چاکلیٹ یا کسی اور شے کے کھانے سے جلد میں کیل منہاس بننے کا سوال ہے، تو اس کا جواب ’نہیں‘ میں ہے۔

ایسی فیٹ سے بھرپور اشیاءٰ کھانے سے بلڈ شوگر لیول تو بڑھتا ہے، جو بالواسطہ طور پر کیل منہاسوں کو جنم دے سکتا ہے، لیکن اس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ -4 گاجرکے استعمال سے بینائی میں بہتری آتی ہے: گاجر کے استعمال سے بینائی میں بہتری کی دیو مالا جنگی پروپیگینڈا کی تاریخ سے جڑی ہے۔ صحیح معنوں میں بیٹاکیروٹین ، جو کہ انہظام کے دوران وٹامن اے بنانے میں مدد دیتا ہے، حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

وٹامن اے ، بشمول بینائی کے،جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے بینائی میں بہتری پیدا ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب ہے، نہیں! دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی وزارت اطلاعات نے ایک مہم چلائی جس کے مطابق ائیر فورس کے پائلٹ اپنی خوراک میں گاجر کا ذیادہ مقدار میں استعمال کر رہے تھے جس سے ان میں رات کے اندھیرے میں بھی جرمن جنگی جہاز مار گرانے کی صلاحیت بڑھ گئی تھی۔

تاہم، سچ یہ ہے کہ گاجر کے استعمال سے رات کے اندھیرے میں بہتر قوت بینائی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔جنگ کے دوران برطانوی جنگی طیارے ائیربورن انٹرسپشن ریڈار کے ذریعے جرمن طیاروں کو مار گرانے میں کامیاب رہے، جبکہ جرمن انٹیلی جنس نے یہ خیال کیا کہ برطانوی پائلٹ اپنی خوراک میں گاجر کے بکثرت استعمال سے بینائی میں بہتری لا کر جرمن طیاروں پہ سبقت لے گئے تھے۔

تقریبا ایک صدی گزرنے کے باوجود مغرب میں اب بھی یہ تاثر قائم ہے کہ اورنج کلر کے بکثرت استعمال سے بینائی میں بہتری آئے گی۔ -5انسانوں میں حواس خمسہ کی موجودگی: یہ نظریہ ارسطو کے زمانے سے چلا آ رہا ہے کہ ہم پانچ طریقوں سے کسی شے کو محسوس کر سکتے ہیں۔ یونانی فلسفی ارسطو وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ دعویٰ کیا کہ انسانی جسم میں پانچ حسیں موجود ہیں، جو کہ ہم سب نے ابتدائی تعلیم میں سیکھا بھی ہے، یعنی حس نظر، سماعت، سونگھنا، چھونا اور حس ذائقہ۔

تاہم، ان پانچ حسوں کے علاوہ اور حسیں بھی موجود ہیں جن کے بارے ہم میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ لیکن اس سے پہلے حس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حس سے مراد ایک سینسر ہے جو کسی محرک کو جانچ سکتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق انسان میں کم و بیش تینتیس حسیں موجود ہیں، جن میں توازن اور بلڈ پریشر کو بھی حس کے طور پہ گردانا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر آپ سے کوئی کہے کہ اس میں چھٹی حس بھی موجود ہے، تو اسے خبردار کریں کہ ہمارے جسم میں کل تینتیس حسیں متحرک ہیں۔

شاید انہیں آپ کی یہ بات سمجھ نہ آئے، لیکن کم از کم آپ حقائق سے واقف ہیں۔ -6 زبان کا گھمانا ایک جینیاتی عمل ہے: ہم میں سے بہت سے لوگوں کو بیالوجی کے اساتذہ نے پڑھایا ہو گا کہ ہماری زبان گھمانے یعنی رول کرنے کا طریقہ در اصل جینیات پہ منحصر ہے۔ لوگوں کی اکثریت زبان رول کر سکتی ہے، اور عام فہم میں اس عمل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اگر آپ کے والدین میں سے کوئی بھی یہ کر سکتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی کر سکتے ہیں، جیسا کہ ہمیں بچپن سے بتایا گیا ہے۔

درحقیقت، ایسا کہنا اتنا آسان نہیں ہے۔ دوسری بہت سی انسانی جسم سے متعلق غلط فہمیوں کے برعکس ہم اس نظریے کے منبع کے بارے میں واقفیت رکھتے ہیں۔ انیس سو چالیس میں ایک امریکی ماہر جینیات الفریڈ سٹرٹیونٹ نے ایک مضمون شائع کیا جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ہماری زبان رول کرنے کی قابلیت جینیاتی خصوصیات پر منحصر ہے۔ تاہم، الفریڈ کی یہ تحقیق کچھ ہی عرصے بعد رد کر دی گئی، کیونکہ لوگوں نے بھانپ لیا کہ جڑواں بچوں کے کیس میں اکثر ایک بچہ زبان رول کر سکتا تھا، جبکہ دوسرا بچہ ایسا کرنے سے قاصر تھا۔

اس کے نتیجے میں الفریڈ کو اپنی ہار تسلیم کرنا پڑی۔ اس کے باوجود، کئی دہایاں گزرنے کے بعد بھی پوری دنیا کے سکولوں میں آ ج بھی اس جھوٹ کو نئے طریقے سے سنایا اور سکھایا جا رہا ہے۔ اب جبکہ آپ اس حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں، تو براہ مہربانی اگلی بار اپنے دوست و اقارب کی تصحیح کیجیے اگر وہ اس کا ادراک نہیں رکھتے۔ -7 حرارت کا سر سے اخراج: اوپر بیان کی جانے والے انسانی جسم سے متعلق غلط فہمیوں کے مقابلے میں یہ سب سے دلچسپ دیو مالا ہے کہ ہمارے جسم سے نکلنے والی حرارت کا بیشتر حصہ سر سے خارج ہوتا ہے۔

اس حوالے سے سائنسدانوں نے انیس سو پچاس کی دہائی میں ایک ریسرچ کی جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ لوگوں کی اکثریت میں حرارت کا بیشتر اخراج سر سے ہوا ہے۔ اس تحقیق میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ جن لوگوں پہ یہ تجربہ کیا گیا، ان سب نے پورے جسم کو کوٹ اور دیگر گرم اشیاء سے ڈھانپا ہوا تھا، جبکہ ان کے سروں کو ننگا رکھا گیا تھا۔ اس سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ نے سر کے علاوہ پورے جسم کو ڈھانپا ہوا ہے، تو یقینی طور پہ آپ کے جسم سے ذیادہ تر حرارت کا اخراج آپ کے سر سے ہی ہو گا۔

تاہم، جدید تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سر کے راستے ذیادہ حرارت خارج نہیں ہوتی۔ ایک عام انسان میں صرف سات فیصد حرارت سر سے خارج ہوتی ہے، جو کہ سمجھ بھی آتی ہے، کیونکہ سر کا رقبہ پورے انسانی جسم کا بھی تقریبا سات فیصد ہی ہے۔ لہٰذا، اپنے سر کو بھی جسم کے باقی اعضاء کی طرح استعمال کریں، اور جب آپ ٹھنڈ محسوس کریں تو سر بھی ڈھانپیں تاکہ آ پ محفوظ رہیں۔

-8بال اور ناخنوں کا موت کے بعد بھی بڑھنا: یہ بات انسانی جسم کے لحاظ سے کچھ حد تک مضحکہ خیز لگتی ہے۔ یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ ہمارے مرنے کے باوجود پروٹین سے بنے کیروٹین، جس کی بدولت ناخن اور بال بڑھتے ہیں، بننے کا عمل جاری رہتا ہے۔ تاہم، یہ سچ نہیں ہے۔ موت واقع ہو جانے کے بعد انسانی جسم میں تیزی سے ڈی ہائیڈریشن کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

پانی کی کمی کی وجہ سے جلد بھی سکڑنا شروع ہو جاتی ہے اور اندر کی جانب دھنستی چلی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے یوں لگتا ہے جیسے ناخن اور بال مزید بڑھ رہے ہیں، جبکہ اصل میں پورا جسم سکڑ رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر تابوت بردار لاش کو نم رکھتے ہیں تاکہ وہ سکڑ نہ جائے۔ -9بند انگشتی سے جوڑوں کا درد واقع ہونا: جوڑوں کا درد محض ایک بیماری نہیں، بلکہ یہ بہت سی بیماریوں کا ایک مجموعہ ہے، جن میں سوجن، درد جوڑوں میں جلن کا احساس سرفہرست ہیں۔

بد قسمتی سے جوڑوں کا درد ایک بڑی عام بیماری ہے، جس کا شکار پاکستان میں لاکھوں افراد ہر سال ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماری ہلکے پیمانے سے لیکر ذیادہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ آ پ کو وہ کام نہیں کرنے چاہیے جن سے جوڑوں کے درد کا اندیشہ ہو۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ، جو صحت کے معاملے میں ذیادہ ہی فکر مند ہیں، یہی سمجھتے ہیں کہ بندانگشتی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے جوڑوں کا درد واقع ہوتا ہے۔

تاہم، آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ ایسا کرنے سے آپ کو جوڑوں کا درد قطعی طور پہ نہیں ہو گا۔ لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ بندانگشتی سے اصل میں ہوتا کیا ہے۔ اس سے نکلنے والی آواز اصل میں سونویل فلوئڈ کے بلبلوں کے پھٹنے سے آتی ہے، اور اس حوالے سے ہارورڈ میڈیکل سکول کے ڈاکٹروں کی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ بند انگشتی کا جوڑوں کے درد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لہٰذا آپ بیشک اس عادت کو چھوڑ دیں، کیونکہ اس کا براہ راست تعلق آپ کی کمزور انگلیوں سے ہے، اور ویسے بھی اس سے نکلنے والی آواز کانوں کو ذیادہ اچھی نہیں لگتی۔ -10داڑھی کی شیو کے بعد ذیادہ گہری داڑھی کا نمودار ہونا: یہ بات بھی ہم سب نے سنی ہوگی خواہ کوئی مرد ہو یا عورت کہ جسم کے کسی بھی حصے سے بال کاٹ دینے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اس کے بعد بال نہ صرف جلدی آجائیں گے بلکہ ذیادہ گہرے بھی ہوں گے۔

یہ قطعی طور پہ غلط ہے۔ در حقیقت، ہم یہ بہت عرصے سے جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ اس پہ سب سے جدید ریسرچ انیس سو اٹھائیس میں ہوئی جس میں موجود تمام افراد نے ایک ہی شیونگ کریم اور برانڈ کا استعمال کرتے ہوئے ایک ہی طریقے سے شیو کی، جس کے بعد ان سب کے جسم میں بالوں کی نشونما کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں بہت ساری متھ کا تعلق صرف قیاس آرائی سے ہے۔ جب بال کی دوبارہ گروتھ ہوتی ہے تو تب ہمارے دماغ میں پہلے سے موجود خیالات ہی اس حوالے سے ہماری رائے کا ارتقاب کرتے ہیں۔ اور ویسے بھی جب آپ ویکس یا شیو کرتے ہیں تو یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ ایک درخت کو اکھاڑ دیں لیکن اس کی جڑیں اپنی جگہ قائم ہوں۔ لہٰذا بالوں کی نشونما کی رفتار کا تعلق ہارمونز کی تبدیلی سے ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-02-09

Your Thoughts and Comments