Mosam Garma Ka Mufeed Mashrob - Article No. 1633

موسم گرما کا مفید مشروب - تحریر نمبر 1633

پیر جولائی

Mosam Garma Ka Mufeed Mashrob - Article No. 1633
حکیم حارث نسیم سوہدروی
بڑے شہروں کے بازاروں،چوراہوں اور بس اسٹاپوں پر سڑک کے کنارے گنے کا رس جس میں لیموں ،ادرک اور کالانمک شامل ہوتا ہے ،سارا سا ل ملتا ہے۔موسم گرما میں جب شدت کی گرمی ہوتی ہے تو گنڈیریاں بھی خوب کھائی جاتی ہیں اور بازاروں میں گنے کا رس بھی سب سے زیادہ پیا جاتاہے۔بازاروں میں گنے کے رس کے لیے جو گلاس استعمال کیے جاتے ہیں،وہ زیادہ صاف نہیں ہوتے،اس لیے لوگ گنے کارس پلاسٹک کی تھیلی میں لے کر اسٹرا(STRAW)کے ذریعے پیتے ہیں۔


گنے کا رس جگرکی گرمی اورپیشاب سے زہریلے مادے خارج کرنے اور دانتوں کی گندگی صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ مسوڑوں کو بھی مضبوط بناتا ہے ۔گنے کو دانتوں سے چھیل کر کھانے سے نہ صرف دانت مضبوط ہوتے ہیں،بلکہ کئی دوسرے امراض میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

گنے میں قدرتی طور پر کیلسیئم،فولاد اور حیاتین ب اور ج(وٹامنزبی اور سی)ہوتی ہیں،جن سے صحت پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔

گنے کا رس جسمانی کمزوری دور کرتا اور بخار کی شدت کو کم کرتا ہے ۔ایسے لوگ جو جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں،ان کو روزانہ گنے کا رس پینا چاہیے۔
یرقان میں روزانہ دوتین گلاس گنے کا رس پینا مفید ہے۔ہمارے ہاں صدیوں سے یرقان میں اطباگنے کارس تجویز کرتے ہیں۔اس سے نہ صرف جگر کا فعل درست ہوتاہے،بلکہ پیشاب بھی صاف ہوجاتاہے۔جن افراد کا ایل ایف ٹی(جگر کے فعل کاٹیسٹ)درست نہ ہو،وہ چند روزگنے کا رس پییں،ان کے جگر کا فعل درست ہو جائے گا۔

جن ماؤں میں دودھ کی کمی کی شکایت ہو،وہ ایک بڑاگلاس گنے کا رس اور کانجی آدھا کپ ملا کرپییں تو دودھ فراوانی سے آئے گا۔کانجی ایک قسم کا کھٹاپانی ہوتاہے ،جس میں رائی اور زیرہ اچار کی طرح ڈالتے ہیں۔چاولوں کو پیچ اور گاجروں کے اچار کے پانی کو بھی کانجی کہتے ہیں۔موسم گرما میں جب شدید گرمی سے پسینہ زیادہ اور پیشاب کم مقدار میں آئے اور اس کا رنگ زرد ہوتو ایسی کیفیت میں گنے کا رس پینا بہت مفیدثابت ہوتاہے۔


ہمارے ہاں عدم برداشت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔موجودہ حالات نے لوگوں کے مزاج میں چڑ چڑاپن اور تلخی پیدا کردی ہے ،خصوصاً نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گرم مزاج ہیں ،وہ بات بات پر تلخی اور غصے میں آجاتے ہیں ۔ذراسی بات پر لڑائی جھگڑا شروع ہوجاتا ہے۔پڑھائی اور کام کاج کی ذمے داریوں سے بھاگتے ہیں۔محنت کے ذکر پر غصے میں آجانا معمول کی بات ہے،جس کی وجہ ناتجربہ کاری اور کم عمری ہے اور ان کے جسموں میں گرمی کا زیادہ ہونا ہے۔

ایسے نوجوانوں کو گنے کا رس روزانہ پلایاجائے ،بلکہ چند دن باقاعدگی سے پلایا جائے تو اس طرح ان کی بے چینی،غصہ اور چڑ چڑاپن کافی حد تک کم ہوجائے گا۔گنے کا رس ہاضم بھی ہے۔یہ کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دتیاہے۔
گنے سے گڑبناتے ہوئے جو شیرہ بچ جاتا ہے ،اسے راب کہتے ہیں۔اسے زیادہ دیر تک نہ رکھا جائے،کیوں کہ یہ جلد خراب ہوجاتاہے۔یہ سیاہ راب طبی فوائد سے بھر پور ہے۔ٹانگوں کی رگوں کے پھولنے ،جوڑوں کے درد ،جلد کی سوزش ،ورم،ایکزیمااور خارش ختم کرنے میں مفید ہے۔بال اور ناخن خراب ہونے پر بھی اسے پینے سے فائدہ ہوتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-29

Your Thoughts and Comments