Aarzah Qalb Ki Khatarnak Surat E Haal - Article No. 2315

عارضہ قلب کی خطرناک صورتِ حال - تحریر نمبر 2315

ہفتہ 4 دسمبر 2021

Aarzah Qalb Ki Khatarnak Surat E Haal - Article No. 2315
کورونا وائرس کے عذاب کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں امراضِ قلب کی شرح خطرناک حدوں کو پہنچ رہی ہے،لیکن گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں جس تیزی سے قلب کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے،وہ نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز ہے۔اس سے بھی زیادہ باعث تشویش امر یہ ہے کہ پاکستان میں عارضہ قلب میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد بوڑھوں کی نہیں،جوانوں کی ہے بلکہ اب تو بچے بھی اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد عارضہ قلب کے سب سے بڑے سبب ہائی بلڈ پریشر کی شکار ہے۔بدقسمتی سے لوگوں کو اس بات کا احساس تک نہیں ہے کہ وہ خاموش قاتل،یعنی ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔
یہ بات سب کے سامنے عیاں ہے کہ پاکستان میں عارضہ قلب کی وجوہ میں بازار کی تیار شدہ چٹ پٹی اور روغنی غذائیں اور تساہل پسند زندگی یا خراب طرزِ زندگی سرِفہرست ہیں۔

(جاری ہے)

ان دو غارت گرِ صحت عادات کی وجہ سے ایک طرف صحت جیسی نعمت کو خطرات لاحق ہیں تو دوسری جانب شدید معاشی عدم استحکام،بے روزگاری اور احساسِ محرومی بھی جنم لے رہی ہے۔
ملک بھر میں اور نوجوانوں میں خاص طور پر ان امراض کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیشِ نظر عوارض قلب کی طرف متعلقہ اداروں اور افراد کو بھرپور توجہ دینی چاہیے۔افرادِ پاکستان کی صحت کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا،جب تک کہ ان میں شعورِ صحت پروان نہ چڑھے۔

ملک بھر میں کھیلوں کے میدانوں اور پُرفضا مقامات کی کمی کی وجہ سے بھی لوگ گھر میں بیٹھ کر الم غلم غذائیں کھاتے ہوئے اسمارٹ فون یا ٹیبلیٹ پر فلمیں،ڈرامے دیکھنے یا گیمز کھیلنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ذرائع آمد و رفت کی سہولتوں نے بھی جسمانی نقل و حرکت کو بہت محدود کر دیا ہے اور لوگوں کو چند قدم چلنا بھی بہت دشوار معلوم ہوتا ہے۔ورزش کا رواج نہ ہونے،رات کو دیر تک جاگنے اور دھوپ چڑھے اُٹھنے سے بھی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

ان سب پر مستزاد چربیلے اور بے حد مسالے دار کھانوں کی بہتات نے پوری قوم کو صحت جیسی بڑی نعمت سے بہت دُور کر دیا ہے۔نت نئے پکوان گھر جگہ جگہ کُھلے ہوئے ہیں اور مزید کُھل رہے ہیں،بلکہ اب تو بازار کے بازار کھانوں کی دکانوں اور ہوٹلوں کے لئے مختص ہو کر رہ گئے ہیں۔ان دکانوں اور ہوٹلوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے،جیسے پوری قوم کو کھانے کے سوا کوئی کام نہیں۔

اس میں شک نہیں کہ یہ کھانے حفظِ صحت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر تیار کیے جاتے ہیں۔
اگر قوم میں اب بھی شعورِ صحت بیدار نہ کیا گیا اور حفظِ صحت کی بھرپور تحریک نہ چلائی گئی تو نہ صرف عارضہ قلب،بلکہ دیگر امراض بھی وبائی شکل اختیار کر لیں گے،جن سے بوڑھا،بچہ،جوان،مرد اور عورت کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔اس طوفان پر ابھی سے بند باندھنا اور حکمتِ عملی کے ساتھ قوم میں شعورِ صحت اُجاگر کرنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے:
تنگ دستی اگر نہ ہو سالک
تندرستی ہزار نعمت ہے
تاریخ اشاعت: 2021-12-04

Your Thoughts and Comments