Akhri Bacha

آخری بچہ

Akhri Bacha
عرفان محمود
ایک انسان کااپنے بہن بھائیوں میں پیدائش کےاعتبار سے کونساواں نمبر ہے ، یہ بات اس انسان کی شخصیت اور کردار پر نہایت گہرے اثرات رکھتی ہے۔جب بھی ہم اس بات کی تحقیق کرناچاہیں کہ ایک ہی گھر میں پرورش پانے والے بچے ،صلاحیتوں اور کارکردگی کےحوالے سے تفاوت کیوں رکھتے ہیں، تو اس ضمن میں دیگر کئی اسباب وعوامل کے علاوہ پیدائشی ترتیب ( Birth order)بڑی اہمیت کی حامل ہے۔


تحقیقات کے نتائج اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ بالعموم پیدائش کے اعتبارسے بڑابچہ (First born child) شخصیت اورصلاحیت کے لحاظ سے باقی بچوں بالخصوص سب سے چھوٹے بچے(Last born child)سےبہتر ہوتاہے، کیونکہ بڑابچہ اپنی پوزیشن کی وجہ سے والدین سے بےآمیزمحبت،کامل توجہ، مثبت دباؤ اورمنظم تربیت حاصل کرتاہے۔

(جاری ہے)

اس کے برعکس سب سے چھوٹا بچہ ان چیزوں سے محروم رہتا ہے اورتعلیمی اور سماجی میدانوں میں اپنے بڑے بہن بھائیوں کی نسبت کوئی نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتاہے۔


آخری بچہ گھر میں اپنی مخصوص حثیت کےباعث رجحانات،مزاج اورمسائل کے حوالے سے اپنے بڑے بہن بھائیوں سے منفرد ہوتاہے۔ہمارےہاں جہاں والدین معاشی کشمکش،کثرتِ اولاد اورناخواندگی کے باعث سرے سے بچوں کی عمومی تربیت ہی پر کوئی توجہ نہیں دے پاتے ، سب سے چھوٹے بچے کامسئلہ خاصی تشویشناک صورت اختیار کرلیتاہے۔اس سلسلے میں ان اسباب وعوامل کوسمجھنے کی ضرورت ہے جو آخری بچے کی شخصیت کومحض پیدائشی ترتیب میں پیچھے ہونے کی وجہ سےمنفی طورپر متاثر کرتےہیں۔

زیرِ نظر مضمون میں انہی اسباب کاایک اجمالی جائزہ لیا گیا ہے:
1) کمزوروراثتی بنیاد
آخری بچہ عام طورپر والدین کےاس عمررسیدگی کے دورمیں پیدا ہوتاہے جس میں انسان طبعاً جذباتی لحاظ سے کمزور،جسمانی لحاظ سے ضعیف اورنفسیاتی لحاظ سے خوف واندیشوں کاشکار ہوتاہے۔اس عمر میں انسان کی تحفظ رخی (Security oriented) ہوتی ہے اورخطرات مول لینے کاحوصلہ کمزور پڑچکا ہوتا ہے۔

والدین کی شخصیتوں کے یہی کمزوریاں اس دورمیں جنم لینے والے بچے کی شخصیت میں جینیاتی طورپر اور تربیت کے ذریعے منتقل ہوجاتی ہیں اوریوں بچے کی شخصی نشوونما کیلئے ایک کمزوربنیاد میسر آتی ہے۔ اس کے برعکس بڑے بچے والدین کے جوانی اورقوت کے زمانے میں پیداہوتے ہیں اور وراثت میں مضبوط شخصی بنیادیں حاصل کرتے ہیں۔
2)بےسمت اورغیرمتوازن تربیت
والدین اپنی بڑی اولاد کے بارے میں بہت پرجوش اورپرعزم ہوتے ہیں۔

وہ پہلے بچے کے مستقبل کی منصوبہ بندی بڑی فکروتردد سے کرتے ہیں اوراس کی تربیت وتعلیم میں بڑی توجہ اورکاوش سے کام لیتے ہیں۔لیکن آخری بچے تک یا تو وہ بری طرح تھک چکے ہوتے ہیں یابڑے بچوں پرکی گئی محنت کے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی وجہ سے مایوس اوربددل ہوچکے ہوتے ہیں کہ سب سے چھوٹے بچے کیلئے ان کے پاس صرف نیک خواہشات اوردعائیں ہی رہ جاتی ہیں۔

یوں آخری بچے کو والدین کی طرف سے وہ فکرو توجہ نصیب نہیں ہوتی جو اس کے بڑے بہن بھائیوں کے حصے میں آیا کرتی ہے۔یہ بات عام طورپر دیکھنے میں آتی ہے کہ چھوٹا بچے والدین کازیادہ لاڈلا ہوتاہے، اس کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ چھوٹے بچے کے مستقبل اورشخصیت کے بارے میں والدین کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ بندی اورعزائم نہیں ہوتے جس کی تلافی وہ ضرورت سے زیادہ لاڈپیار دے کر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کی وجہ سے بچے کی شخصیت جذباتی لحاظ غیرمتوازن ہوجاتی ہے اور وہ زندگی میں کبھی بھی جذباتی خودانحصاری حاصل نہیں کرپاتا اورہمیشہ خارجی سہاروں کامحتاج رہتاہے۔
3) والدین کاکمپلیکس
والدینی جبلت (Parental instinct)اپنے اندر دو متضاد رجحانات کی حامل ہواکرتی ہے۔یہ جبلت ایک طرف توبچے کی نگہداشت اورپرورش کے عمل میں تسکین پاتی ہے اور دوسری طرف یہ والدین کی اس خواہش اورکوشش میں تسکین حاصل کرتی ہے کہ بچے بڑے ہوکر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھیں اورخود کفیل حثیت سے ترقی کریں۔

بچے جب بڑے ہوکر آزاد اورخودکفیل ہوجاتے ہیں تو اگرچہ والدین ان کی خودانحصاری اور ترقی سے خوش ہوتے ہیں مگر ساتھ ہی انھیں ان کی جدائی کاخوف بھی محسوس ہونے لگتاہے اوریہ سوچ ان میں محرومی اورحسرت کاباعث بننے لگتی ہے کہ اب ان کے بچے ان کی توجہ اوردیکھ بھال کے محتاج نہیں رہے۔اس طرح والدینی جبلت کاایک پہلو تسکین پاتاہے تو دوسرا تشنگی محسوس کرنے لگتاہے۔

عام طورپر والدین اس مسئلہ کا"حل" یہ نکالتے ہیں کہ بڑے بچوں کے ساتھ مزید ایسے "چھوٹے" بچے پیداکرتےہیں جو مکمل طورپر ان کی توجہ اورنگہداشت کے محتاج ہوتے ہیں یعنی اولاد چھوٹے اوربڑے گروہوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ایک طرف ماں باپ بڑے بچوں کو ترقی کرتادیکھ کر خوش ہوتے ہیں اوردوسری طرف وہ چھوٹے بچوں کی پرورش سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اس کیلئے وہ سب سے چھوٹے بچے کو "چھوٹا" ہی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ ان کے اس والدینی جذبے کی تسکین کاباعث بنارہے۔والدین کے اس کمپلیکس کانشانہ نمایاں طورپر سب سے چھوٹابچہ ہی بنتاہے جسے بڑاہوجانے پر بھی عاقل اوربالغ سمجھنے سے گریز کیا جاتاہے۔
4) نقالی کارجحان
جب سب سے بڑابچہ پیداہوتاہے توگھر میں عموماً کوئی دوسرابچہ نہیں ہوتا یعنی بڑے بچے کے سامنے کوئی اطفالی نمونہ (Child model) نہیں ہوتا جس سے وہ متاثر ہوکراس کی پیروی کرے۔

اس طرح پہلے پیداہونے والے بچے اپنی فطرت کاکھل کر اظہار کرنے کاموقع پاتےہیں اوراپنے رجحانات کے تعین میں بڑی حدتک آزاد ہوتےہیں۔لیکن جب آخری بچہ پیداہوتاہے تواس وقت اس کے بڑے بہن بھائی اپنے رویوں اورطورطریقوں سے گھر کی ایک خاص فضا بناچکے ہوتےہیں اورچھوٹے بچے کواپنے طبعی رجحان کی بجائے گھرکے ماحول کی پیروی کرنا پڑتی ہے۔مثلاً بعد میں جنم لینے والا بچہ وہی کھیل کھیلے گا جوگھر میں اس کے بڑے بہن بھائی کھیلتے ہیں اوربچے کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے کہ خود اس کارجحان کس کھیل کی طرف ہے۔

یہی صورتحال تعلیم،کیرئیر اورباقی معاملات میں بھی رونما ہوتی ہے۔اس طرح بچے کی شخصیت میں انفعالی پن (Suggestibility) آجاتاہے جوآگے چل کر انفرادی شناخت کامسئلہ (Identity crisis)بن سکتاہے۔
5) تضحیک کانشانہ
عام مشاہدہ ہے کہ گھر کے اندر بڑے بچے اپنی برتر پوزیشن سے فائدہ اٹھاکر چھوٹے بہن بھائیوں پر اپنی عادات اور رویے (مثبت یامنفی) مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورانہیں اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کرتےہیں۔

یہ چیز اس وقت زیادہ تشویش ناک ہوجاتی ہے جب بڑے بچے کھیل ہی کھیل میں چھوٹے بہن بھائیوں کوتضحیک کانشانہ بنانے لگتے ہیں مثلاً ان کی باتوں کامذاق اڑانا اورانھیں مضحکہ خیز ناموں سے پکارنا وغیرہ۔یہ چیزیں چھوٹے بچے کی عزتِ نفس کیلئے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔
6) والدین کی ذمہ داری کادباؤ
ایک مشرقی گھرانے کا خاص پہلو یہ بھی ہے کہ جب بڑے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوجاتےہیں اورمعاشی لحاظ سے خودکفیل اورشادی شدہ ہوکر والدین کے دائرہ اثر سے نکل جاتے ہیں تووہ والدین کوقدرے "پرائے پرائے سے " اور" ہاتھ سے نکل جانے والے" دکھائی دینے لگتے ہیں۔

نتیجتاً والدین شکست خوردہ سے ہوجاتے ہیں اورردعمل کے طورپر اپنے احساسِ بے مائیگی کی تلافی کیلئے اپناساراوزن سب سے آخری بچے کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں، جو عموماًاس وقت تک زیرِ کفالت ہی ہوتاہے اوراس کی انفرادی تربیت سے نظریں چراکر اسے "اپنا" بناکر رکھنے کی کوشش کرنے لگتےہیں ۔اس طرح والدین کوضعیفی کے دورمیں سنبھالنے کی ذمہ داری(جوکہ اصلاً سب بچوں کی مشترکہ ہوتی ہے) کازیادہ دباؤ اکثر حالات میں سب سے چھوٹے بچے کے حصے میں آتاہے۔

یہ اضافی دباؤ(بالخصوص جب بچہ اس سے نبردآزما نہیں ہوپاتا) اس کی ذاتی نشوونما اورتعمیرِ شخصیت کے عمل کو متاثر کرتاہے۔
ان مذکورہ بالااسباب وعوامل کوسمجھنے کے بعد نہ صرف سب سے چھوٹے بچے کی خصوصی حثیت سے آگاہی ہوسکتی ہے بلکہ اس کی تربیت کاایک خصوصی لائحہ عمل تیار کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے جس سے اس کی شخصیت پر سے پیدائشی ترتیب کے منفی اثرات حتی الامکان دور کیے جاسکیں تاکہ سب سے آخر میں جنم لینے والا بچہ بھی اپنےدوسر ے بہن بھائیوں کی طرح ایک فعال اوربھرپور زندگی گزارنے کے قابل ہوسکے۔
تاریخ اشاعت: 2019-09-12

Your Thoughts and Comments