Amraz E Qalb Aur Nojwan - Article No. 2185

امراض قلب اور نوجوان - تحریر نمبر 2185

جمعہ 25 جون 2021

Amraz E Qalb Aur Nojwan - Article No. 2185
ڈاکٹر حکیم وقار حسین
قلب ایک ایسا عضو ہے،جو جان دار کو حرکت دینے کے قابل کرتا ہے،اسی لئے علم طب میں اسے قوت حیوانی کا مرکز کہا جاتا ہے۔نباتات بھی جان دار ہیں،ان میں احساس بھی ہے،مگر قلب نہیں لہٰذا وہ حرکت نہیں کر سکتے۔جسم کے تمام اعضا کی طرح قلب کا تعلق بھی دماغ سے ہے۔دماغ اعصاب کے ذریعے تمام اعضا کو قابو میں رکھتا ہے۔


یہی وجہ ہے کہ خوشی،غمی اور احساس کے موقع پر جہاں چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے،وہاں قلب کی حرکت میں بھی تبدیلی آتی ہے،یہاں تک کہ تجسس کے دوران نہ صرف حرکت قلب بدلی ہوئی ہوتی ہے،بلکہ نیند بھی نہیں آتی۔اسی طرح ذہنی دباؤ اور زیادہ غم و غصہ ایسے امور ہیں کہ حرکت قلب میں نہ صرف تبدیلی آتی ہے،بلکہ انسان دل کا مریض بھی بن جاتا ہے،کیونکہ ذہنی دباؤ کا ہارمون دل کے عضلات پر بُرا اثر کرتا ہے۔

(جاری ہے)

یہ ہارمون ہی سوتے ہوئے خون میں شامل ہوتا ہے اور صبح خون میں شکر کی مقدار میں اضافے کا سبب ہوتا ہے۔
اعصاب جو حرکت دل کو قابو میں کرتے ہیں وہ کچھ اشیاء سے متاثر ہوتے ہیں،مثلاً افیم دل کی حرکت کو کم کرتی ہے،کیفین جو دل کی حرکت کو بڑھاتی ہے،نکوٹین دل کی حرکت کو تیز کرتی ہے۔اسی وجہ سے چائے اور کافی وغیرہ پینے سے دل کی حرکت بڑھ جاتی ہے، نتیجے کے طور پر حرارت زیادہ پیدا ہوتی ہے۔

آخر کار عضلات قلب تھکنے کے باعث اپنی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔افیم،دھتورہ اور بھنگ کے زیادہ استعمال سے دل کی حرکت کم ہوتی ہے،جس سے حرارت عضلات قلب میں جمع ہو جاتی ہے اور عضلات کو رفتہ رفتہ پھاڑ دیتی ہے ،یعنی حرکت قلب زیادہ ہونے سے بھی دل کے عضلات کو نقصان ہوا اور کم کرنے سے بھی۔یہی وجہ ہے کہ ادویہ کو غیر ضروری طور پر کھانے والے افراد جلد امراض قلب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

جدید میڈیکل سائنس کے نظریے کے مطابق چالیس برس کی عمر سے پہلے امراض قلب نہیں لاحق ہوتے،مگر جن اشخاص کے آبا واجداد کو دل کا مرض رہا ہو،وہ چالیس برس سے پہلے بھی اس مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
نوجوان دل کے مرض میں کیسے مبتلا ہوتے ہیں؟
غم ایک ایسا مرض ہے،جو انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتا ہے۔آج کل تنگی معاش اور معاشی حالت کو مزید بہتر بنانے کی سوچ سونے نہیں دیتی،کم نیند لیں تو دل کی رفتار میں تغیر آجاتا ہے،ایک حد تک دل کے عضلات برداشت کرتے ہیں،پھر ایک دم دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔


اکثر نوجوان ورزش نہیں کرتے اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جوانی میں کوئی مرض نہیں ہوتا،جس کے نتیجے میں دل کو خون پہنچانے والی شریان میں چربی بھر جاتی ہے،جس سے دل کے اعصاب میں خون کی کمی ہو جاتی ہے،جس کے باعث سینے میں درد ہوتا ہے۔
نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ یہ عمر مشقت کی ہے،جو کچھ محنت کریں بیمار نہیں ہوں گے۔اکثر نوجوان رات دیر تک کام کرتے ہیں اور نیند بھگانے کے لئے چائے یا کافی پیتے ہیں،مگر حقیقت سے ناآشنا رہتے ہیں کہ نیند بھگانے اور زیادہ چائے یا کافی پینا ہر صورت میں عضلات قلب اور اعصاب کے لئے مضر ہے،اس طرح ان کے قلب کی حرکت غیر ضروری طور پر بہت تیز چلنے لگتی ہے۔


نوجوان سن کرنے والی اشیاء کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔شروع وقت میں ایسی اشیاء کے استعمال سے محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کس قدر پُر خطر ہیں،مگر کچھ ہی عرصے میں ان کا دل ڈوبنے لگتا ہے،لیکن وہ ان اشیاء کا استعمال نہیں ترک کرتے،بالآخر ان کے قلب کی حرکت سست ہونے لگتی ہے۔
بعض نوجوانوں کے پیارے ان سے جدا ہو جاتے ہیں،وہ ان کے خیال میں دن رات ڈوبے رہتے ہیں،جس سے خاص ہارمون کا اخراج ہوتا ہے،جو دل کی رفتار کبھی تیز کرتا ہے اور کبھی سست۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں دل کے عضلات متاثر ہوتے ہیں،حتیٰ کہ معدے کی ریاح سے بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔اس تبدیلی کے نتیجے میں ایک دم دل کی دھڑکن رک جاتی ہے،اسے حرکت قلب کا بند ہو جانا کہتے ہیں۔
دل کے امراض کی پہچان
ایسے لوگ دل کی کمزوری کی وجہ سے ایک معالج پر یقین نہیں رکھتے،خواہ متعدد مرتبہ اس کے علاج سے بہتر ہو چکے ہوں۔

وہ وسوسوں کا شکار ہوتے ہیں۔عام طور پر ان کے دل کی رفتار بدلنے کے ساتھ ریشہ خارج ہوتا ہے،چہرہ پیلا پڑ جاتا ہے،معدہ کمزور ہو جاتا ہے،طبیعت میں چڑچڑا پن اور لاغری پیدا ہو جاتی ہے اور پیٹ کی چربی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اگر ایسی کیفیت پر دھیان نہ دیا جائے تو اگلے درجے میں رات کو ٹھنڈے پسینے آتے ہیں،دم گٹھتا ہے،چلنے کے دوران غیر معمولی طور پر سانس پھولتا ہے اور چکر و متلی کی شکایت ہوتی ہے۔


اکثر لوگ اس کیفیت پر بھی توجہ نہیں دیتے،جس کی بنا پر سینے میں بائیں جانب درد ہوتا ہے،سانس کی بندش محسوس ہوتی ہے،بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سخت درد اور بے حسی پیدا ہوتی ہے اور جبڑوں میں سخت درد کی علامات ہوتی ہیں،اسے دل کا درد (انجائنا) کہتے ہیں۔یہ درد ٹھیر ٹھیر کر ہوتا ہے۔اکثر افراد اس درد کی وجہ سے جان سے چلے جاتے ہیں،جو بچتے ہیں انھیں روزانہ اس کے دورے پڑتے ہیں۔

اگر ایک ہفتہ متواتر دورے نہ پڑے تو نہایت اچھی علامت ہے۔
دل کے امراض سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
منفی خیالات کو پیدا نہ ہونے دیں،اگر پیدا ہو جائیں تو ذہن بٹانے کی کوشش کریں۔منفی خیالات سے دل شکنی کے بجائے نمٹنے کی راہ سوچنا زیادہ عمدہ ہے۔
سوتے وقت دن بھر کے واقعات ذہن میں نہ آنے دیں اور پُرسکون نیند لیں۔یاد رکھیے کہ نیند کے دوران تمام خلیات و عضلات تازہ دم ہوتے ہیں اور غذا حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔


صبح کی سیر کے لئے کسی ایسے علاقے میں ضرور جایا کریں،جہاں سبزہ اور تازگی ہو،ویران اور ریتیلے علاقوں میں سیر کا فائدہ نہیں۔
جلد پر روکھا اور زردرنگ ظاہر ہونے لگے تو صحت پر خاص توجہ دیں۔
غصے سے پرہیز کریں۔
غم کی کیفیت میں ذہن کسی اور کام میں لگائیں یا سبز علاقے میں جا کر گہری سانسیں لیں،اس سے ذہنی دباؤ کم ہو جاتا ہے۔


معدے کی صحت پر توجہ دیں۔
ہر قسم کی نشہ آور ادویہ سے پرہیز کریں۔
ہفتے میں ایک مرتبہ مچھلی کا گوشت ضرور کھائیں،اس لئے کہ اس میں اومیگا فیٹی ایسڈز ہوتے ہیں،جن سے دل پر اچھے اثرات پڑتے ہیں۔
نوتا آٹھ گھنٹے آرام کریں۔
علاج
پاکستان میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ اموات کی وجہ دل کا مرض ہے۔اس کا علاج اتنا مشکل نہیں،لیکن سہنا ضرور مشکل ہے۔

آدھا چمچہ آملہ پاؤڈر اور صندل سفوف کو خمیرہ مروارید کے ساتھ دوپہر میں کھائیں۔
ایلو پیتھی علاج
اسٹیٹن ادویہ،بیٹا اور کیلسیئم بلا کر ادویہ معالج کے مشورے سے کھائیں۔خون کو پتلا رکھیں۔مرض قابو میں نہ آئے تو سرجری کی جاتی ہے۔ معالج نیند آور ادویہ کھلاتے ہیں۔دورے کے وقت اگر بلڈ پریشر زیادہ ہو تو ”نائی ٹروگلیسرائید“ کی گولی زبان کے نیچے رکھنے کو دیتے ہیں،مگر یہ چکر بھی لاتی ہے۔


قلب کی طاقت کے لئے غذا
دیسی مرغی،مچھلی،حیاتین ھ،حیاتین ج اور حیاتین د (وٹامنز ای،سی اور د) اور وہ پھل و سبزیاں کھائیں،جن میں ”مایوسن“ (MYOSIN) جیسا مفید صحت جزو اور لحمیات (پروٹینز) ہوں،اس لئے کہ یہ دل کے لئے مفید ہوتی ہیں۔چپاتی کھائیں،نان سے پرہیز کریں۔جو غذائیں بلڈ پریشر بڑھائیں،ان سے پرہیز کریں۔
تاریخ اشاعت: 2021-06-25

Your Thoughts and Comments