بند کریں
صحت مضامینمضامینامراضِ قلب کا سدِ باب

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
امراضِ قلب کا سدِ باب
ان امراض سے نمٹنے کا طریہ یہ ہے کہ ان کا سدّباب کیا جائے۔ یہ طریقہ دانش مندانہ بھی ہے اور ہمارے وسائل کے لحاظ سے ممکن بھی، کیونکہ اان امراض کا علاج نہایت گراں اور ہماری استطاعت سے باہر ہوتا ہے
پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم، ایف آر سی پی (ایڈنبرا) اف اے سی سی (امریکا)
عام امراضِ قلب چار ہیں:
۱۔ دل کے پیدائشی نقص
۲۔ گٹھیا اور گٹھائی دل
۳۔ بلند فشارِ خون
۴۔ عارضئہ رگِ دل
ان امراض سے نمٹنے کا طریہ یہ ہے کہ ان کا سدّباب کیا جائے۔ یہ طریقہ دانش مندانہ بھی ہے اور ہمارے وسائل کے لحاظ سے ممکن بھی، کیونکہ اان امراض کا علاج نہایت گراں اور ہماری استطاعت سے باہر ہوتا ہے، بلکہ مغرب کے دلت مند ممالک کے افراد بھی اس گراں علاج کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
بچوں میں دل کے پیدائشی نقص کو روکنے کیلئے ہر حاملہ خاتون کو متوازن غذا ملنی چاہئے۔ زمانہء حمل میں ان خواتین کا معائنہ ہونا چاہئے اور اگر ان میں کوئی امراض، مثلاََ ذیابیطس یا بلند فشارِ خون پائے جائیں تو انکا موٴثر علاج ہونا چاہئے۔ ان حاملہ خواتین کو ایکس شعاع (ایکس رے) نہیں کرانا چاہئے۔ وائرسی عفونتوں سے دُور رہنا چاہئے اور جہاں تک ہوسکے ادویہ کا استعمال، خصوصاََ حمل کی پہلی سہ ماہی میں بغیر طبی مشورے کے نہیں کرنا چاہئے۔
جرمن خسرہ اگر حاملہ خاتون کو ہوجائے تو بچہ ضرور متاثر ہوسکتا ہے۔ اس کے سدّباب کیلئے تمام لڑکیوں کو شادی سے قبل اس مرج کے روکنے کا ٹیکا لگوالینا چاہئے۔ جن خاندانوں میں بچے کے دل میں نقص ہوتے ہیں، ان میں آپس میں شادیوں سے احتراز کرنا چاہئے۔
گٹھائی بخار سے دل کے دریچے (صمام) خراب ہوجاتے ہیں، جس میں نوجوان زیادہ تر مبتلا ہوتے ہیں۔ پھر نتیجتاََ معزوریت اور موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ گٹھائی بخار روکنے کیلئے مخصوص اسٹریپٹو (STREPTO) جراثیم سے ہونے والی سوزشِ حلق کا پنسلین (PENICILLIN) سے علاج کیا جاے اور جن کو گٹھائی دل ہے، انہیں تمام عمر مسلسل پنسلین کی ماہانہ سوئی لگوانا چاہئے۔
بلند فشارِ خون نہ صرف عارضہ رگِ دل کا سبب ہے، بلکہ فالج، گردوں کی خرابی، دل کی ناکاری اور بینائی میں کمی کی بھی وجہ ہے۔ یہ ہماری آبادی کے کارکن افراد کی بڑی تعداد کو مبتلائے آزار کررہا ہے۔ مریضوں کا اس مرض کا ادویہ سے علاج کرنے سے قبل اگر وزن زیادہ ہے تو کم کیا جائے۔ غذا میں گوشت، نمک، چربی، تیل، گھی، مکھن اور شکر کم ہونی چاہئے، تمباکو ترک کی جائے اور چہل قدم کی عادت (خصوصاََ کھانے سے پہلے) اختیار کی جائے۔ ان احتیاطی اقدامات کے بعد بھی اگر فشارِ خون بلند ہے تو پھر ادویہ دی جائیں، جنہیں بغیر معالج کی مرضی کے ترک نہ کیا جائے۔
عارضہ رگِ دل کا اظہار انجائنا اور حملہء قلب سے ہوتا ہے، جو اعمال اور عوامل اس مرض کا باعث ہیں، ان میں تمباکو، بلند فشارِ خون، خون میں افراطِ کولیسٹرول اور ہمیشہ نشینی نہایت اہم ہیں۔ دیگر اسباب میں ذیابیطس، کرب اور اس مرض کا خاندانی رجحان بھی ہیں۔ ان تمام اعمال اور عوامل کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ جن افراد میں اس مرض کا خاندانی رجحان ہے، ان کو احتیاط اور پرہیز کی ازبس ضرورت ہے۔

(8) ووٹ وصول ہوئے