بند کریں
صحت مضامینمضامینانگوٹھا چوسنے والے بچوں میں الرجی کا امکان کم

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انگوٹھا چوسنے والے بچوں میں الرجی کا امکان کم
بچے کی ایک عام عادت انگوٹھا چوسنا ہے عموماََ بچے اپنی پیدائش سے تین ماہ بعد انگوٹھا چوسنے لگتے ہیں اور کچھ عرصہ یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔
بچے کی ایک عام عادت انگوٹھا چوسنا ہے عموماََ بچے اپنی پیدائش سے تین ماہ بعد انگوٹھا چوسنے لگتے ہیں اور کچھ عرصہ یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ اس کے فطری پہلواور اصل بنیاد کے بارے میں کہاجاسکتا ہے کہ بچہ اپنی عمر کے ابتدائی ایام میں دودھ کے ذریعے سیراب ہوتا ہے اور دودھ چوس کرہی پیتا ہے۔ تدریجاََ وہ چوسنے سے سکون سا حاصل کرتا ہے۔ بہت سے والدین انگوٹھا چوسنے کو ایک بری عادت سمجھتے ہیں اور اس پر اپنی ناپسند کااظہار کرتے ہیں اور اسی کے لئے کئی تدابیر سوچتے ہیں۔ یہاں پر اس امر کاذکر ضروری ہے کہ اگرچہ دانتوں کے بعض ڈاکٹر اس عادت کو نقصان دہ سمجھتے ہیں ا ور یہ کہتے ہیں کہ انگوٹھا چوسنے سے دانتوں اور منہ کی طبیعی وفطری حالت بگڑ جاتی ہے لیکن اُن کے مقابلے میں دانتوں کے بہت سے ڈاکٹروں اور ماہرین نفسیات نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ انگوٹھا چوسنے سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا۔ بلکہ نیوزی لینڈ میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق کے دوران یہ معلوم ہوا ہے کہ جو بچے اپنا انگوٹھا چوستے ہیں یاپھر دانت سے ناخن کاٹتے ہیں انھیں الرجی ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ محققین کاخیال ہے کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انگوٹھا چوسنے یاناخن کاٹنے کا عمل میں بچے جراثیم سے زیادہ رابطے میں رہتے ہیں اور اُن کی مدافعتی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ تحقیق بچوں کی بیماریوں سے متعلق امریکی جرنل پیڈرینٹکس میں شائع ہوئی ہے اور اس میں اوٹاگو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے حصہ لیا۔ محققین نے ایک ہزار سے زیادہ بچوں کی ایک عرصے تک نگرانی کی جب تک کہ وہ سن بلوغت تک نہیں پہنچ گئے ۔ انھوں نے پانچ سات، نو اور گیارہ سال کے بچوں کے انگوٹھے چوسنے یاناخن کاٹنے کی عادت کو ریکارڈ کیااور پھران پر تیرہ اور بتیس سال کی عمر میں الرجی کی جانچ کی گئی۔ انھیں معلوم ہوا کہ تیرہ سال کی عمر کے جن بچوں میں انگوٹھے چوسنے یادانت سے ناخن کاٹنے کی عادتیں نہیں تھیں ان میں سے 49 فیصد بچوں میں کم ازکم ایک الرجی کے لئے مثبت نتیجہ آیا۔ اُن کے برعکس کسی ایک عادت میں مبتلا بچوں میں یہ شرح 38 فیصد تھی اور جن میں دونوں عادتیں تھیں اُن میں یہ شرح مزید کم ہوکر 31فیصد رہ گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے اس کے باوجود ہاتھ دھونے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ محققین کی ٹیم کے سربراہ سائنسداں بوب ہینکوکس کے مطابق اُس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بچپن میں جو بچے جراثیم سے رابطے میں آتے ہیں اُن میں الرجی کاشکار ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی محققین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ انگوٹھا چوسنے یا دانت سے ناخن کاٹنے سے الرجی سے منسلک کسی بیماری سے بچنے میں کسی مدد کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے