بند کریں
صحت مضامینمضامینبچوں میں موٹاپا انہیں دل کامریض بناسکتا ہے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں میں موٹاپا انہیں دل کامریض بناسکتا ہے
چینی کازیادہ استعمال، ویڈیو گیمز کھیلنا اور موبائل فون اور کمپیوٹر پر نظریں جمائے بیٹھے رہنا بچوں کونہ صرف سست اور کاہل۔۔۔
چینی کازیادہ استعمال، ویڈیو گیمز کھیلنا اور موبائل فون اور کمپیوٹر پر نظریں جمائے بیٹھے رہنا بچوں کونہ صرف سست اور کاہل بنا رہا ہے بلکہ ان میں موٹاپے جیسی خطرناک بیماری کوجنم دے رہاہے اور ایک نئی تحقیق میں خبردار کیاگیا ہے کہ موٹاپے کاشکار بچہ 8 سال ہی کاکیوں نہ ہووہ بھی دل کی بیماری کاشکار ہوسکتا ہے۔
امریکی ریاست فلوریڈامیں امریکی کارڈیالوجی کانفرس میں تحقیق پیش کرتے ہوئے ڈاکٹرزکاکہنا تھا کہ جب 20 موٹاپے کا شکار اور 20 کم وزن والے بچوں پر تحقیق کی گئی تو اس سے یہ بات سامنے آئی کہ موٹاپے کاشکار بچے40فیصد دل کی بیماریوں کے خدشے پر موجود ہیں کیونکہ موٹاپے کی وجہ سے ان کے دل کے پٹھے موٹے ہوجاتے ہیں جودل کے خون پمپ کرنے کی صلاحیت کومتاثر کرتے ہیں۔ ڈاکٹرز کاکہنا تھا کہ موٹاپے کے باعث دل کے بائیں وینٹریکل کے مسلز کاحجم 27 فیصد بڑھ جاتا ہے جب کہ دل کے مسلز12فیصد موٹے ہو جاتے ہیں اور یہ دونوں ہی دل کی بیماری کے ہونے کی علامات ہیں۔
تحقیق میں مزید خبردار کیاگیا ہے کہ موٹاپے کاشکار بچوں میں سے کئی بچے ایستھیما، ہائی بلڈپریشر اور ڈپریشن کاشکار ہوسکتے ہیں۔ تحقیق کے دوران مطالعہ کیے جانے والے بچوں میں دل کی بیماریاں جسمانی طور پر نظر نہیں آئیں تاہم جب ان کاایم آر آئی اسکین کیاگیا توا ن کے دل واضح طور پر بیماریوں سے متاثر نظرآئے۔ محققین نے خبردار کیاہے کہ نوجوانوں میں دل کی بیماری عمر کے بڑھنے کے ساتھ زیادہ خطرناک ہوکروقت سے قبل ان کی موت کاباعث بن سکتی ہے۔ محقق لینیوں جنگ کاکہنا ہے کہ اتنی چھوٹی عمر کے نوجوانوں میں ا س بیماری کودور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے والدین کواہم کردار اد ا کرنا ہوگا اور ان کی رہنمائی صحت مندکھانوں کی طرف کرنا پڑے گی تاکہ موٹاپے سے بچا جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بچے تو اتنے موٹے تھے کہ ایم آر آئی کی مشین چھوٹی پڑگئی اور ان کاٹیسٹ نہیں ہوسکا اس لیے کہاجاسکتا ہے کہ یہ خطرہ ان کی سوچ سے بھی زیادہ بڑا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے