Bhindi K Gazai Khawas

بھنڈی کے غذائی خواص

Bhindi K Gazai Khawas

نسرین شاہین
بھنڈی بے شمار طبی فوائد کی حامل سبزی ہے ،جس کی وجہ سے ماہرین نے اسے ہیراسبزی قرار دیا ہے۔مصر میں اس کی ایک خاص ڈش”ناف“تیار کی جاتی ہے۔بھنڈی لیس دار سبزی ہے ،جو نہ صرف انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے،بلکہ اس سے کئی بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہے۔ابتداء میں بھنڈی ایتھوپیا میں اُگائی گئی تھی۔یہ سبزی وہاں سے شمالی افریقہ ،پھر عرب اور آخر میں ہندوستان پہنچی۔

اسے قدیم مصر میں بھی کاشت کیا جاتاتھا۔اسپین کے ایک مسلمان ادیب کی تحریروں میں بھنڈی کے ابتدائی حوالے ملتے ہیں۔اس نے 1216ء میں مصر کا دورہ کیا تھا۔وہاں اس نے بھنڈی کے پودے لگے ہوئے دیکھے،جن کا اس نے اپنی تحریروں میں تفصیل سے تذکرہ کیا ہے۔اس کے مطابق مصر کے باشندے کچی پھلیاں کھاتے ہیں اور ان سے کھانا بھی تیارکرتے ہیں۔

(جاری ہے)


امریکیوں نے سترھویں صدی میں پہلی بار بھنڈی دیکھی تھی،جسے لوزیانا میں رہنے والا ایک فرانسیسی پناہ گزین اپنے ساتھ لایا تھا۔

1256ء میں برازیل کے لوگ بھنڈی کے پودوں سے واقف ہو چکے تھے ۔امریکا میں سوپ بنانے والی بڑی کمپنیوں کے لیے ہزاروں ٹن بھنڈیاں کاشت کی جاتی ہیں ۔اسے ایشیااور افریقہ کے بیش تر ممالک میں بھی کاشت کیا جاتاہے۔بھنڈی پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں کی مرغوب غذاہے۔
بھنڈی ایک جھاڑی نما پودا ہے،جس کی اونچائی 120سینٹی میٹر ہوتی ہے۔اس کی پیتاں دل کی شکل کی ہوتی ہیں۔

بھنڈی سبز رنگ کی ہوتی ہے ،مگر اس کے ڈنٹھل کا رنگ زردی مائل سبز ہوتاہے۔بھنڈی کی شکل مخروطی انگلیوں جیسی ہوتی ہے۔اس میں لعاب پیدا کرنے والا مادہ ہوتاہے،اسی لیے اس کا ذائقہ لعاب دار اور پھیکا ہوتاہے۔
بھنڈی کی دنیا میں 8سے10اقسام پائی جاتی ہیں۔کچھ علاقوں میں یہ سبز کے علاوہ سرخ رنگ میں بھی ہوتی ہے اور اس کا سرخ رنگ پکانے کے بعد ختم ہوجاتاہے،لیکن سرخ رنگ ہونے کے باعث اس کے ذائقے میں کوئی کمی نہیں آتی۔

بھنڈی کی صرف کچی پھلیاں ہی کھائی جاتی ہیں ،خواہ انھیں پکایا جائے یا بھونا جائے۔بعض ممالک میں بھنڈی کی پھلی کے بجائے اس کے بیج کھائے جاتے ہیں۔بھنڈی کے بیجوں سے تیل بھی نکالا جاتاہے،جو کھانا پکانے کے لیے بہترین تصور کیا جاتاہے۔بھنڈی کے بیج بھونے بھی جاتے ہیں۔اور انھیں کافی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتاہے۔بھنڈی کی سال میں عموماً دو فصلیں ہوتی ہیں۔

پہلی فصل کا بیج فروری یا مارچ میں بویا جاتاہے۔دوماہ میں یہ پھل دینے لگتی ہے۔فصل جولائی ،اگست تک رہتی ہے۔دوسری فصل کا بیج بارش کے موسم میں بویا جاتاہے،جو اکتو بر ،دسمبر میں تیار ہو جاتی ہے۔
بھنڈی کی کاشت پاکستان کے تمام علاقوں میں کی جاتی ہے،خاص طور پر پنجاب ،سندھ اور سرحد میں اس کی کاشت زیادہ ہوتی ہے۔جاپان،امریکا اور یورپ کے گرم علاقے ،بنگال ،میکسیکو ،نائجیریا ،سوڈان، ویت نام،چین اورہندوستان غرض کہ یہ دنیا بھر میں کاشت کی جاتی ہے۔

اس کا مزاج سردتر ہے،مگر بعض حکما کے نزدیک معتدل ہے۔
بھنڈی کا پودا تیزی سے بڑھتا ہے۔گرمی کا موسم اس کے لیے زیادہ موزوں نہیں ہوتا۔پھلیاں تین سے پانچ روز میں تیار ہو جاتی ہیں ۔بھنڈی گھروں میں بھی کاشت کی جاسکتی ہے ،اس کی بہت اچھی پیداوار ہوتی ہے۔بھنڈی کو موسم گرما میں ٹھنڈی آب وہوا میں کھلے آسمان تلے اُگایا جاسکتاہے،لیکن بہترین نتائج کے لیے اسے کسی سایہ دار جگہ میں اُگانا چاہیے۔


بھنڈی کے غذائی اجزاء میں نمی 88فیصد ،چکنائی 22ء فیصد،ریشہ12ء فیصد،نشاستہ(کاربوہائیڈریٹ)77ء فیصد، کیلسیئم 59ء فیصد ،فاسفورس 58ء فیصد ،فولاد 15ء ملی گرام ،میگنیزیئم 38ء گرام،پوٹاشیئم220ء ملی گرام،سوڈیئم 1ملی گرام،جب کہ تانبا اور آیوڈین قلیل مقدار میں ہوتی ہے۔اس میں گلوکوس ،لیکٹوز(LACTOSE)، مالٹوز(MALTOSE)، سکروز(SUCROSE)، فرکٹوز(FRUCTOSE) اور حیاتین الف اور ج )وٹامنز اے اور سی)پائی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ اس میں مانع تکسید اجزاء(ANTIOXIDANTS) بھی پائے جاتے ہیں ۔بھنڈی کے فوائد دیکھتے ہوئے غذائی ماہرین اسی لیے اسے ہیروسبزی بھی کہتے ہیں۔
بھنڈی طبی خواص کی حامل سبزی ہے۔اس کے غذائی اجزاء نہ صرف انسانی صحت کے لیے مفید ہیں،بلکہ کئی بیماریوں کا علاج بھی ہیں ۔ایک حالیہ تحقیق کے مطابق بھنڈی کھانے سے ذہنی خلفشار اور جسمانی کمزوری کا خاتمہ ہوجاتاہے۔

معدے کا زخم(السر)اورجوڑوں کے درد میں کمی آتی ہے۔بھنڈی کھانے سے پھیپھڑوں کے تعدیے(انفیکشن )اور گلے کی خراش بھی جاتی رہتی ہے۔بھنڈی دمے کے مرض سے بچاؤ کے ساتھ کولیسٹرول کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔یہ سبزی جسم میں مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے میں بھی معاون ہے۔بھنڈی میں ریشے کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے،جو خون کی شکر کو قابومیں رکھنے میں موٴثر ہے۔


بھنڈی میں نشاستے (کاربوہائیڈریٹ )کی مقدار زیادہ نہیں ہوتی ،جیساکہ آلووغیرہ میں ہوتی ہے۔اس کو کھانے سے خون میں شکرکی مقدار نہیں بڑھتی،اس لیے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین ہے ۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بھنڈی کھانے سے زکام سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔بھنڈی میں ایسے غذائی اجزاء شامل ہیں ،جو منھ کے سرطان سے بچاتے ہیں۔بھنڈی وہ واحد سبزی ہے،جس میں حیاتین ج بڑی مقدارمیں موجود ہے۔

اس میں حیاتین الف بھی ہوتی ہے،جس سے آنکھوں کی روشنی تیز اورجلد کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
حیاتین کے علاوہ کئی نمکیات بھی بھنڈی میں پائے جاتے ہیں،جیساکہ فولاد ،کیلسیئم ،میگنیزیئم وغیرہ۔فولاد سے خون بنتا ہے اور کیلسیئم سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ماہرین صحت کہتے ہیں کہ بھنڈی کو اپنی روز مرہ کی غذاؤں میں شامل کرکے بے شمار فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

بھنڈی سے وزن گھٹانے میں بھی مدد ملتی ہے،یہ سبزی کئی بیماریوں سے دوررکھتی ہے۔بھنڈی کو چاہے سالن کے طور پر پکایا جائے ،تیل میں فرائی کیا جائے یا بھون کر کھایا جائے،ہر لحاظ سے مفید ہے۔ تر کی میں بھنڈی کے پودے کے پتوں کو طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔پتوں کو کچل کر ان کا پیسٹ بنایا جاتاہے،جوجلن اور درد کم کرنے کے لیے کام آتاہے۔بھنڈی سارا سال ہی دستیاب ہونے والی سبزی ہے۔اسے گھروں میں گملوں اور صحن میں بھی اُگایا جا سکتاہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-10-09

Your Thoughts and Comments