Corona Virus Ka Khatma Buhat Kareeb - Article No. 2053

کورونا وائرس کا خاتمہ بہت قریب - تحریر نمبر 2053

منگل جنوری

Corona Virus Ka Khatma Buhat Kareeb - Article No. 2053
منور مرزا
کورونا وائرس کے سدباب کے لئے ویکسین تیار کر لی گئی ہے،جو نتائج کے اعتبار سے 90 فیصد تک موٴثر پائی گئی ہے۔اس ویکسین کی تیاری کی تصدیق دنیا کی دو بڑی اور مستند دوا ساز کمپنیوں کے سربراہان نے کی ہے۔ان دنوں پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کورونا وائرس کی دوسری لہر کی لپیٹ میں ہیں۔ماسک پہننے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا اس قدر ذکر پہلی لہر میں نہیں ہوا تھا،جتنا اب کیا جا رہا ہے۔

یہ ایک بہت بڑی خوش خبری ہے کہ دنیا کی دو بڑی کمپنیوں ”فائزر“ (Pfizer) اور ”بایوٹیک“(Biontech) نے (جن کا تعلق امریکہ اور جرمنی سے ہے)باہمی اشتراک سے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔اس ویکسین کے تیسرے مرحلے میں بھی تجربات کامیاب رہے اور 90 فیصد انسانوں کو اس وبا سے بچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)


جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے،تب تک کمپنیاں برطانیہ،امریکہ اور دیگر ممالک کے متعلقہ اداروں سے اسے مارکیٹ میں لانے کے لئے رجوع کر چکی ہوں گی اور معاملات کافی آگے بڑھ چکے ہوں گے۔

اس ویکسین کی ایجاد انسانیت کے لئے ایک بہت بڑی خوش خبری ہے۔موجدین کا دعویٰ ہے کہ یہ ویکسین کورونا سے بچاؤ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے،کیونکہ اس کے نتائج سے ثابت ہو چکا ہے کہ اسے جن 90 فیصد افراد پر آزمایا گیا،وہ وائرس سے بالکل محفوظ رہے۔انھیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا اور نہ ان ویکسین کے پہلوئی اثرات (Side Effects) مرتب ہوئے،یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ویکسین انسانوں کے لئے بالکل محفوظ و مفید ہے۔

تیسرے مرحلے میں اس ویکسین کو 43 ہزار 500 افراد پر آزمایا گیا تھا۔متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اس ویکسین کے عام استعمال کی اجازت حاصل کریں گے،تاکہ رواں ماہ کے آخر تک اس کا باقاعدہ استعمال کیا جا سکے۔
ویکسین کی تیاری میں جو طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے،اس میں وائرس کے جینیاتی کوڈز (Genetic Codes) خون میں شامل کیے جاتے ہیں،تاکہ انسانی جسم کے مزاحمتی اور مدافعتی نظام کو اس سے نمٹنے کے لئے تیار کیا جا سکے۔

تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ویکسین ضد اجسام (اینٹی باڈیز) کی تیاری میں مدد دیتی ہے اور ٹی خلیات (ٹی سیلز) کو جو مدافعتی نظام کا حصہ ہیں،کورونا وائرس ختم کرنے کے قابل بناتی ہے۔اس ویکسین کو امریکہ،جرمنی،برازیل،جنوبی افریقہ،ارجنٹائن اور ترکی میں بھی آزمایا جا چکا ہے۔کئی افراد کو ویکسین کی دو خوراکیں (Doses) تین ہفتوں میں کھلائی گئیں،دوسری خوراک کھانے کے ایک ہفتے بعد 90 فیصد افراد کورونا وائرس سے نجات پا چکے تھے۔


فائزر کمپنی کے مطابق اس سال کے آخر تک 5 کروڑ،جب کہ اگلے برس ایک ارب 30 کروڑ خوراکیں مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔ برطانیہ پہلے ہی ویکسین کی 4 کروڑ خوراکوں کا آرڈر دے چکا ہے،جب کہ یورپی یونین نے 3 کروڑ خوراکوں کا آرڈر دیا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق اس ویکسین کو فی الحال 80 ڈگری پر رکھنا ہو گا،جب تک اس میں مزید تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں۔ دنیا میں ان دنوں 100 کے قریب ویکسین تجربات کے مراحل سے گزر رہی ہیں،جنھیں انسانوں پر آزمایا جا رہا ہے۔

چینی ویکسین کی آزمائش بھی پاکستان میں ہو رہی ہے۔گویا طبی ماہرین اور سائنس دانوں کا یہ کہنا درست ہے کہ آج کا انسان سائنس اور ٹیکنالوجی میں ماضی کی نسبت بہت ترقی کر چکا ہے، اس لئے اب طبی سائنس میں عالمی وباؤں کے توڑ کی پوری صلاحیت موجود ہے اور لوگوں کو ان وباؤں کے ساتھ جینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اوکسفرڈ کے ایک عالمی شہرت یافتہ طبی ماہر کے مطابق لوگ آئندہ سال بہار کے موسم میں معمول کی زندگی گزار سکیں گے۔


کورونا وائرس کی وبا کا اب اتنا خوف نہیں ہے ،جتنا پہلے تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا سے نمٹنے کے لئے ویکسین تیار کیے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے،جسے اس وائرس کے خلاف 90 فیصد تک کامیاب بتایا گیا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ویکسین جلد ہی عوام کی پہنچ میں ہو گی۔چند روز قبل ایک اور ویکسین کی تیاری کی بھی خبر منظر عام پر آگئی ہے۔اسے بھی ایک امریکی کمپنی ”موڈرنا“ نے تیار کیا ہے۔

کمپنی نے اس ویکسین کو وائرس کے خلاف 95 فیصد تک موٴثر قرار دیا ہے۔کمپنی نے اسے مارکیٹ میں لانے کے لئے متعلقہ اداروں سے منظوری ملنے پر کام شروع کر دیا ہے۔اس ویکسین کی آزمائش 30 ہزار افراد پر کی گئی۔”موڈرنا“کمپنی کے مطابق وہ سرِدست 2 کروڑ کی تعداد میں ویکسین مارکیٹ میں لانے کے قابل ہے۔یہ ویکسین محفوظ و مفید ہے اور اس کے پہلوئی اثرات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔


طبی ماہرین کسی ویکسین کی کامیابی کے لئے پہلوئی اثرات سے مبرا ہونے کو ضروری شرط قرار دیتے ہیں۔ایک اور حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ اسے فائزر کمپنی کی ویکسین کی طرح منفی 80 ڈگری پر اسٹور کرنے کی ضرورت نہیں،بلکہ یہ عام ریفریجریٹر میں بھی ایک ماہ تک رکھی جا سکتی ہے۔دونوں ویکسینوں میں تقریباً ایک ہی طرح کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔نومبر 2020ء کے ایک ہی ہفتے میں دو مستند ویکسینوں کا منظر عام پر آنا طبی سائنس کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

زیادہ تر ماہرین کی رائے یہ تھی کہ ویکسین کی تیاری میں دو برس کا عرصہ لگے گا،لیکن فاسٹ ٹریک پر تیار کی گئی یہ ویکسین اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عالمی وبا اب ختم ہونے کے قریب ہے۔
اگر عوام احتیاطی تدابیر پر پوری طرح عمل کرتے رہے تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ وبا اب زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔کورونا سے اموات کی شرح ایک فیصد سے کچھ زیادہ ہے،جب کہ اس کے مقابلے میں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

اب جو اصل مسئلہ ہے، وہ یہ ہے کہ غریب ملکوں کے لئے یہ ویکسین مفت نہیں ہے،حالانکہ یہ مفت تقسیم ہونی چاہیے تھی،لیکن اگر یہ مفت تقسیم نہ بھی کی جائے تو کم از کم غریب ملکوں کو اسے انتہائی رعایتی قیمت پر فراہم کرنا چاہیے،اس لئے کہ دنیا کو یہ تو معلوم ہو کہ دنیا واقعی ایک عالم گیر گاؤں (گلوبل ویلیج) ہے اور انسانیت کم از کم ایک ایسے ان دیکھے دشمن وائرس کے خلاف تو متحد ہے،جو کسی رنگ،نسل یا مذہب کی تمیز کیے بغیر سب پر حملہ آور ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-01-12

Your Thoughts and Comments