Daama - Qabil E Elaaj Marz - Article No. 2149

دمہ۔قابل علاج مرض - تحریر نمبر 2149

پیر مئی

Daama - Qabil E Elaaj Marz - Article No. 2149
الرجی (حساسیت) کے نتیجے میں متعدد عوارض جنم لے سکتے ہیں،جن میں سب سے خطرناک مرض دمہ ہے،جو سانس کی نالی میں سوزش کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔اصل میں جب الرجی کا سبب بننے والے ذرات پھیپھڑوں کی نالیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ متورم ہو کر اس قدر تنگ ہو جاتی ہیں کہ سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔اس مرض سے متعلق یہ تصور عام ہے کہ دمہ دم کے ساتھ جاتا ہے،لیکن ہر گز درست نہیں۔

یہ مرض قابل علاج ہے اور اس پر قابو پایا جا سکتا ہے،بشرطے کہ معالج کی ہدایات پر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔
دمے کی علامات میں کھانسی،سانس میں رکاوٹ اور سانس لینے اور خارج کرنے میں سیٹی کی سی آوازیں آنا،سینے کی جکڑن،بار بار تعدیہ (انفیکشن) اور سینے میں درد وغیرہ شامل ہیں۔مرض کی شدت میں اضافے کے اسباب میں گرد و غبار،دھول مٹی،زرگل (پولن) ،بال اور پر والے جانور،پرندے،لال بیگ،لکڑی پر کھانا،کوئی جذباتی دباؤ،لڑائی جھگڑا،سینے کا تعدیہ،تمباکو نوشی،مخصوص ادویہ،دل کے بعض عوارض، نظام ہاضمہ کی خرابی،سخت محنت و مشقت،مٹی کا تیل،پرفیومز،پاؤڈر کا استعمال،گرد و غبار میں رہنے والے کیڑے،گاڑیوں کا دھواں اور اسپرے پینٹ وغیرہ شامل ہیں۔

(جاری ہے)

دمے کی تشخیص کے لئے عموماً اسپائرومیٹری(SPIROMETRY):کو پھیپھڑوں میں سانس کی گنجائش ناپنے والا آلہ)،سینے کا ایکس رے،بلڈ ٹیسٹ اور بعض کیسز میں مختلف اقسام کے الرجی ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں۔
چونکہ دمے کا کوئی علاج نہیں،اس لئے عمومی طور پر معالج ان ہیلر یا پھر مخصوص ادویہ تجویز کرتے ہیں،جو مرض کی شدت کم کرنے میں اکسیر ثابت ہوتے ہیں۔

موجودہ دور میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظور شدہ ایک نیا طریقہ علاج بھی مستعمل ہے ،جو BRONCHIAL THERMOPLASTY کہلاتا ہے۔اس علاج کے نتیجے میں بعض مریضوں کے پھیپھڑے متورم ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات دمہ شدت بھی اختیار کر سکتا ہے۔یہ طریقہ علاج اُن مریضوں کے لئے فائدہ مند نہیں،جن کے مرض کی نوعیت معمولی ہو۔یہ صرف ان مریضوں کے لئے ہی موٴثر ثابت ہوتا ہے،جنھیں علاج کے دیگر طریقوں سے افاقہ نہ ہوا ہو۔


ایک تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ دمے کے مریضوں کے علاج کے ضمن میں حیاتین د (وٹامن ڈی) بہت افادیت کی حامل ہے۔اصل میں حیاتین د سے مدافعتی نظام کو طاقت ملتی ہے اور جن مریضوں کے جسم میں حیاتین د کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے،ان کا مرض بھی خاصا قابو میں رہتا ہے۔علاوہ ازیں،دمے کے علاج کے لئے اسٹیرائڈز (STEROIDS) بھی تجویز کی جاتی ہیں،تاہم یہ ادویہ تمام مریضوں کے لئے کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔احتیاطی تدابیر کے ضمن میں سب سے اہم تو یہی ہے کہ ان عوامل سے بچا جائے،جو دمے کی شدت بڑھانے کا سبب بنتے ہیں،جیسے آلودہ ماحول،پرفیومز اور گرد و غبار وغیرہ۔اگر کسی شے سے الرجی ہو تو اس کا استعمال ترک کر دیا جائے اور اپنے معالج کی ہدایات پر لازماً عمل کیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2021-05-10

Your Thoughts and Comments