بند کریں
صحت مضامینمضامیندانتوں کے برش کی حفاظت کیسے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دانتوں کے برش کی حفاظت کیسے
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے دانتوں پر میل کی تہ (PLAQUE) نے جمے تو دن میں دو تین بار دانتوں میں برش کیجیے۔ ایسا کرنے سے آپ دانتوں کی بیماریوں سے بچے رہیں گے اور۔۔۔
رضوانہ نقوی:
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے دانتوں پر میل کی تہ (PLAQUE) نے جمے تو دن میں دو تین بار دانتوں میں برش کیجیے۔ ایسا کرنے سے آپ دانتوں کی بیماریوں سے بچے رہیں گے اور آپ کو تعدیہ (انفیکشن) بھی نہیں ہوگا۔ کیاآپ کو معلوم ہے کہ آپ کے دانتوں کا برش بظاہر دیکھنے میں معصوم اور بے ضررسا نظر آتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں بے شمار جراثیم ہوتے ہیں۔یہ برش آپ کو دانتوں کی کسی بھی بیماری میں مبتلا کر سکتا ہے۔ چنانچہ ہمیں اس کی بھی صفائی کرتے رہنا چاہیے۔
آپ اپنے برش کو ضرور صاف رکھیں ،چاہے آپ گھرپر ہوں یا حالت سفر میں۔جب آپ دانتوں میں برش کرتے ہیں تو بظاہر دانت صاف ہوجاتے ہیں، لیکن بیشتر جراثیم دانتوں میں منتقل ہوجاتے ہیں، اس لیے کہ آپ اپنے برش کو روزانہ صاف نہیں کرتے۔
دانت صاف کرنے کے بعد برش کو اچھی طرح سے صاف کیجیے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں پیسٹ جمارہ گیا ہو یا دانتوں سے نکلنے والا کوئی غذائی ذرہ۔ کبھی کبھار اپنے برش کو ماؤتھ واش سے صاف کرلیں یا ایسا کرنا اس وقت بے حد ضروری ہے ، جب برش آپ کے ہاتھ سے فرش پر گڑ پڑے۔
برش کی صفائی میں یہ ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے کہ آپ اسے کسی جگہ رکھتے ہیں۔ بہت سے افراد اسے غسل خانے میں لگے واش بیسن کے قریب لٹکادیتے ہیں۔ایسا کرنا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ جب ہم منھ ہاتھ دھوتے یاکلی کرتے ہیں تو آلودہ پانی کے چھینٹے برش پر پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسے اونچی جگہ پر کسی برش ہولڈرمیں لٹکایاجائے، جہاں اسے ہوا لگتی رہے اور اگلے دن جب آپ اس سے دانت صاف کرنے لگیں تو وہ خشک ہو۔ برش کو کسی ڈبے میں بند نہ کیجیے۔ ورنہ وہ خشک نہیں ہوپائے گا۔ ایک ہی ڈ بے میں دو چار برش رکھنا بھی مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ دوسرے برشوں کے جراثیم آپ کے برش میں داخل ہوسکتے ہیں۔
دانتوں کے برش کو غسل خانے میں رکھنا بہرحال کوئی نامناسب بات نہیں ہے۔ دانتوں میں برش کرنے کے بعد آپ غسل کرلیتے ہیں، مگر اسے کموڈیا، واش بیسن سے فاصلے پر ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ کموڈ کا ڈھکن بنتے ہی جراثیم سارے غسل خانے میں پھیل جاتے ہیں۔
برش کو صاف ستھرا رکھنے کے باوجود اس میں جراثیم رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ آپ اسے تھوڑے تھوڑے وقفے سے تبدیل کرتے رہیں۔ طویل عرصے تک استعمال کیے جانے والے برش سے دانتوں میں سوزش اور ورم بھی ہوسکتا ہے۔ اگریہ برش ٹوٹ پھوٹ جاتے تو اسے ہرگز استعمال نہ کریں اور اسے کوڑے کی ٹوکری میں ڈالنے کے بعد نیا برش خرید لیں۔
دانتوں کے معالجین کہتے ہیں برش زیادہ عرصے تک استعمال نہ کریں اسے ہر تین یاچار ماہ بعد تبدیل کرتے رہیں۔ بچوں کے معاملے میں مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کے برش ہر ماہ تبدیل کر دیں۔
بیماری کے بعد بھی آپ کو اپنا برش ضرور بدل دینا چاہیے، اس لیے کہ جب آپ بیماری کے دوران برش کرتے رہے ہیں تو مکمل صفائی نہ ہونے کے سبب جراثیم اس میں پرورش پاتے رہتے ہیں۔
کسی دوسرے فرد کا برش ہرگز استعمال نہ کریں، اس لیے کہ اگر اسے دانتوں کی کوئی بیماری ہوئی تو وہ آپ کو بھی لگ سکتی ہے۔ اسی طرح سے آپ کی بیماری دوسروں کو منتقل ہوسکتی ہے۔ چنانچہ گھر کے ہر فرد کابرش علاحدہ ہونا چاہیے۔ احتیاطََ ایک دو فالتو برش بھی خرید لیں، تاکہ کسی فرد کو اچانک ضرورت پڑجائے تو اس کا انتظام ہوسکے یاکبھی کوئی مہمان آجائے تو اور وہ اپنا برش نہ لایا ہوتو اس برش کو استعمال کیا جاسکے۔
جب آپ سفر کا ارادہ کرلیں تو دانتوں کا برش ساتھ رکھیں۔ اگربرش کو سوٹ کیس میں بند کریں تو یہ اطمینان کرلیں کہ برش خشک ہو۔ برش کرنے کے بعد بھی اسے خشک کرنا ضروری ہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے