بند کریں
صحت مضامینمضامیندمہ۔ ایک پریشان کن مرض

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دمہ۔ ایک پریشان کن مرض
دمے یاسانس کی شکایت (ASTHMA) کسی عمر میں بھی ہوسکتی ہے، اگرچہ یہ بالعموم دوسے سات سال کی عمر میں بچوں کو اپنی گرفت میں لیتی ہے۔
دمے یاسانس کی شکایت (ASTHMA) کسی عمر میں بھی ہوسکتی ہے، اگرچہ یہ بالعموم دوسے سات سال کی عمر میں بچوں کو اپنی گرفت میں لیتی ہے۔
پاکستان میں بالخصوص کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں یہ مرض کچھ زیادہ ہی ہے۔ چنانچہ یہاں پانچ سال سے کم عمر کے بچوزں کے علاوہ بڑی عمر کے بچوں اور افراد میں بھی یہ شکایت خاصی عام ہے۔
ماحولیاتی آلودگی میں اضافے اور غذائی عدم توازن سے اس شکایت کابڑا گہرااور یقینی تعلق ہے۔ اس کے علاو طرز حیات بھی اس کا سبب ہے۔
اس مرض کے سلسلے میں موروثی اثرات کو بڑا داخل ہوتا ہے۔ چنانچہ مختلف اشیا کے ذرات سانس کے ساتھ داخل ہونے کی صورت میں بچوں کی سانس کی نالیاں سکڑکراس مرض کے حملے کاسبب بن جاتی ہیں۔ سینے سے سوں سوں کیا آوازیں آتی ہیں اور کھانسی ستانے لگتی ہے، جو درحقیقت پھیپڑوں میں سانس کی باریک نالیوں کے سکڑنے کی وجہ ہوتی ہے۔ سانس کی نالیوں میں سوجن پیداہو کران میں بلغم جمع ہوجاتا ہے۔ بعض افراد پر یہ حملہ خفیف اور بعض پر شدید ہوتا ہے۔ ایسے افراد کو علاج اور احتیاط کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
ذیابیطس کی طرح سانس کی تکلیف کے سلسلے میں خود مریض کو چوکس اور محتاط رہنا بہت ضروری ہے۔ کیوں کہ دمہ کو قابو میں توکیاجاسکتا ہے۔ لیکن اس سے مکمل نجات نہیں ملتی، اس لیے یہ ضروری ہے کہ مریض اور تیماردار درج ذیل عوامل کو جاننے کی کوشش کریں۔
دمے کی تکلیف کی نوعیت کیا ہے؟ یہ کن اسیا کی وجہ سے ہوتا ہے؟ کن دواؤں کے کھانے سے مرض کی شدت میں کمی آتی ہے۔
دمے کاایک اہم سبب حساسیت (الرجی) ہے، اس لیے اس بات کا کھوج لگانا بے حد ضروری ہے کہ کن اشیاء سے یہ حساسیت ہوتی ہے۔
دمے کی شکایت انفرادی نوعیت کی ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے علاج کاتعین بھی کیاجاسکتا ہے۔ صحیح مشورے اور علاج کے ذریعے سے وہ معمول کے مطابق زندگی گزارسکتے ہیں۔ انھیں ان اسباب کاعلم ہونا چاہیے، جو اس مرض کا باعث بنتے ہیں۔ انھیں سرگرم زندگی بھی گزارنی چاہیے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مرض پرقابو پانے کی ان میں صلاحیت موجود ہو۔

(0) ووٹ وصول ہوئے