Dil Hai Tu Dunya Hai

دل ہے تو دنیا ہے

Dil Hai Tu Dunya Hai
دل کا سو فیصد ی درست کام کرنا ہی ہماری زندگی کی ضمانت ہے۔پورے جسم میں خون دل ہی سے ہوکر گزرتا ہے اور پورے جسم میں پھیلی ہوئی خون کی شریانوں میں گردش کرتا ہے اورا س گردش کے ساتھ آکسیجن بھی جسم کے ہر حصے تک پہنچاتا ہے ۔اگر خدانخواستہ خون کی اس رواں دواں گردش میں کوئی رکاوٹ ہو جائے تو زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔عام طور پر عمر کے 40ویں برس میں مختلف امراض شدت اختیار کرتے ہیں۔

اگر آپ غذائیں کھاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ اس میں جمنے والی چکنائی کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہو،پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ ہوں،بغیر چھنے ہوئے آٹے کی روٹی اور گری دار میوے مناسب مقدار میں ہوں اور ساتھ ہی ساتھ پروٹین کا بھی خیال رکھا جائے یہ تمام تدابیر اختیارکرنے سے دل توانا رہتاہے۔

(جاری ہے)


اپنی غذا کے چار یا پانچ حصے کر لیا کریں
اپنی غذامیں اس طرح وقت کی تقسیم کا عمل آپ کو بلڈ پریشر سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

اس طرح وزن میں بھی اضافہ نہیں ہوتا۔عام طور پر ذیابیطس کے مریضوں کو وقفے وقفے سے کھانا کھانے کی ہدایت کی جاتی ہے لیکن بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ہر ذی حس کو یہ عادت اپنا لینی چاہئے۔
دباؤ کی کیفیت سے نجات حاصل کریں
بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ تفکرات اور ذمہ داریاں بڑھ سکتی ہیں۔بعض خواتین گھر،کاروبار یا دفتر،لوگوں سے ملنا ملانا،بچوں کے کاموں اور بزرگوں کی صحت کی فکر خود پر طاری کر لیتی ہیں۔

عمر کے اس حصے میں ان پر مسائل کا انبار ہوتو وہ اپنی صحت پر توجہ نہیں دے پاتیں۔آرام کرنا،تفکرات سے چھٹکارا پانا،اچھی غذائیں لینا اور ورزش کرنا معمولات میں شامل کرلیا جائے تو دل کے دورے کے خطرات لاحق نہیں ہو سکتے۔
اپنے خاندانی ریکارڈ پر ضرور توجہ دیں
ممکن ہے کہ آپ کے خاندان میں ذیابیطس یاد ل کی بیماریاں نسل درنسل منتقل ہوتی جارہی ہوں۔

ایسے حالات میں آپ پر لازم ہے کہ اپنے خاندان کی کیس ہسٹری کانئے معالج سے ضرور ذکر کریں۔پھر اپنے طرز زندگی کے بارے میں ان کی رائے لیں۔ذیابیطس اور بلڈ پریشر ایسی بیماریاں ہیں جو بعدازاں دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔
کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر پریشان کن ہیں
اگر آپ کو بلڈ پریشر کی بیماری ہے تو اوپر اور نیچے کی ریڈنگ نوٹ کیا کریں۔

عارضہ قلب کا امکان ہائی بلڈ پریشر سے ہی نہیں خراب کولیسٹرول کی زیادتی سے بھی دوگنا بڑھ جاتاہے۔
اپنے ڈاکٹر سے ایسٹروجن پر گفتگو کریں
دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ایسٹروجن ہارمون بہت مددگار ہوتاہے۔اپنے ڈاکٹر سے وٹامن Dکے ٹیسٹ سے متعلق ضرور معلومات حاصل کرلیں ۔دھوپ میں رہنے سے جسم قدرتی طور پر وٹامن Dلیتا اور جذب کرتا ہے ۔

اگر ڈاکٹر وٹامن Dکے سپلیمنٹس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تو انہیں شروع کیجئے۔
کھانوں میں نمک کی مقدار کم رکھیں
اگر آپ کو بلڈ پریشر نہیں ہے تب بھی غیر ضروری طور پر اور اضافی نمک کھانا مضر صحت ہے۔یہ یاد رکھئے کہ جوں جوں عمر بڑھتی ہے خون کی شریانیں تنگ ہونے لگتی ہیں۔جن افراد کا بلڈپریشر موروثی طور پر نہ بڑھاہو،شریانوں کی تنگی کی بنا پر بھی بڑھ سکتاہے لہٰذا نمک کم کھائیں۔

ذیابیطس اور گردے کی خرابی کی بنا پر بھی بلڈ پریشر بڑھ سکتاہے۔
خون پتلا کرنے والی ادویات ڈاکٹر سے پوچھ کر کھائیں
روزانہ ایسی ادویات کھانے سے عارضہ قلب اور فالج ہونے کے خدشات کم ہو سکتے ہیں اور خون کے تھکے نہیں پڑتے تاہم ہر قسم کی ادویات ڈاکٹر کے مشور ے سے استعمال کی جانی چاہئیں۔
علامات پر دھیان دیں
اگر آپ کے سینے میں درد ہو یا آپ بے چینی محسوس کرتے ہوں تو یہ عارضہ قلب کی ایک علامت بھی ہو سکتی ہے خاص کر خواتین کو سانس لینے میں دقت یا پیٹھ میں درد ہونے لگے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

جبڑوں میں درد،قے متلی،اضطراب اور بے چینی میں اضافہ ہوتو بھی ECGکرالینا چاہئے۔
متحرک رہئے اور سماجی روابط مضبوط رکھئے
روزانہ 30منٹ کی طویل چہل قدمی ضروری ہے ۔سماجی رابطے،لوگوں سے ملنا جلنا اورتقاریب میں جانا ترک نہ کریں۔اپنی خوراک میں اومیگا 3فیٹی ایسڈز مثلاً مچھلی کا گوشت اور تیل ،فش آئل،بادام ،اخروٹ ،گندم ،مونگ پھلی،ادرک ،لہسن ،تازہ پھل اور سبزیاں ضرور شامل کریں۔

غرضیکہ اوائل عمری ہی سے خوراک کا انتخاب سمجھ بوجھ کے ساتھ کیا جائے۔بچوں میں موٹاپے کو حتی الامکان حد تک روکاجائے۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور متوازن غذا کا استعمال کیا جائے لیکن جہاں صحت کی خرابی کا ہلکا سا شائبہ بھی ہو،ڈاکٹر سے مشورہ کرنے ،معائنہ کرانے اور مکمل جانچ کرنے سے نہ چوکا جائے۔صحت ہے تو زندگی ہے دل ہے تو دنیا بھی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-10-21

Your Thoughts and Comments