Hum Jamayi Kiyon Lete Hain

ہم جمائی کیوں لیتے ہیں

جمعہ فروری

Hum Jamayi Kiyon Lete Hain
دنیا کے وہ تمام جاندار جو ریڑھ کی ہڈی رکھتے ہیں،دن بھر میں کئی بار جمائیاں لیتے ہیں اور ایک تحقیق کے مطابق بعض جانور ایک گھنٹے میں دس بار بھی جمائیاں لے سکتے ہیں،تاہم انسانوں میں ان کی تعداد کم ہوتی ہے۔یہ سوال دلچسپ ہے کہ ہم جمائیاں کیوں لیتے ہیں؟کیا جمائی اس وقت آتی ہے،جب ہم بور ہورہے ہوتے ہیں،تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں یا کسی کو کوئی اشارہ کرنا چاہتے ہیں؟جمائی کے سبب کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ کہنا تو دشوار ہے،لیکن غالباً سب سے عام تصور یا مفروضہ یہ ہے کہ جمائی لینے والے کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جا سکتاہے کہ اسے نیند آرہی ہے اور یہ درست بھی ہے کہ لوگ جب بستر پر جانا چاہتے ہیں اور اس میں کسی وجہ سے تاخیر ہو جاتی ہے تو پھر جمائیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتاہے،لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ صبح بستر سے اٹھنے کے بعد بھی اکثر لوگ جمائیاں لیتے رہتے ہیں ۔

(جاری ہے)


علاوہ ازیں دن کے مختلف اوقات میں مختلف کیفیات سے گزرتے ہوئے ،مثلاً بوریت یا سستی محسوس کرنے کے دوران اور دوسروں کو جمائی لیتے دیکھ کر بھی جمائی لینے کی خواہش بیدار ہوتی ہے۔چونکہ سانس لینے کے عمل کے دوران اوکسیجن جسم میں داخل ہوتی ہے اور کاربن ڈائی اوکسائیڈ خارج ہوتی ہے،اس لئے ماضی میں جمائی سے متعلق یہ نظر یہ بھی بہت عام تھا کہ جب جسم میں اوکسیجن کی کمی اور کاربن ڈائی اوکسائیڈ کی سطح بلند ہو جاتی ہے،اس وقت اس متوازن بنانے کے لئے جمائی آتی ہے،تاہم 1987ء میں یہ نظریہ اس وقت دم توڑ گیا،جب یہ دیکھا گیا کہ رضا کار جو اوکسیجن کی زیادہ مقدار بہ ذریعہ سانس لے رہے تھے ،ان کی جمائی میں کوئی کمی نہیں آرہی تھی۔

اسی طرح جن رضاکاروں میں کاربن ڈائی اوکسائیڈ کی زیادتی ہو گئی تھی ،وہ زیادہ جمائی لے رہے تھے۔
ہم جمائی کیوں لیتے ہیں؟جب اس سوال کا جواب تلاش کیا گیا تو کئی دلچسپ حقائق سامنے آئے،مثلاً یہ کہ اگر جسم میں اوکسیجن اور کاربن ڈائی اوکسائیڈ کی سطح معمول کے مطابق ہوتو بھی جمائی آسکتی ہے۔یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ ایک شخص کو جمائی لیتے دیکھ کر دوسرے شخص کو بھی جمائی آسکتی ہے۔

بہت سی ایسی دماغی بیماریوں یا طبی کیفیات ہیں،جن میں جمائیاں بڑھ جاتی ہیں۔یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ شکم مادر میں موجود جنین(EMBRYO) بھی استقرار کے گیارہ ہفتوں کے بعد سے جمائی لینا شروع کر دیتاہے۔ جمائی لینے کی بے شمار وضاحتیں بیان کی جاتی ہیں ،لیکن کوئی بھی ثابت شدہ نہیں ہے۔بعض قابل فہم نظریات میں سے ایک یہ ہے کہ جمائی لینے سے پھیپھڑے اور آس پاس کی بافتیں (ٹشوز)پھیل جاتی ہیں،جس کی وجہ سے پھیپھڑوں میں موجود چھوٹی چھوٹی ہوائی گزر گا ہیں اس عمل کے دوران کھلی رہتی ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ جمائی عموماً اس وقت آتی ہے، جب ہم ہلکی سانس لے رہے ہوتے ہیں،مثلاً اس وقت جب ہم تھکے ہوئے ہوں،بوریت محسوس کررہے ہوں یا فوراً بستر سے اٹھے ہوں۔بچوں میں جمائی کے عمل کے دوران ایک کیمیائی مادہ(SURFACTANT) اپنا کام نہ کرے تو بچوں کی زندگی خطرے سے دو چار ہو سکتی ہے۔
اس نظریے سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ شکم مادر میں موجود جنین بھی ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے اپنے پھیپھڑوں کو استعمال کرنے کی کوشش کے دوران جمائی لیتا رہتاہے۔

چونکہ جمائی کے دوران پٹھے اور جوڑ بھی پھیلتے ہیں اور دل کی دھڑکن بھی بڑھ جاتی ہے ،اس لئے عموماً آرام کا کچھ وقت گزارنے کے بعد جسم کو ایک بار پھر چست اور پھر تیلا بنانے کے لئے جمائی کی تحریک بیدار ہوتی ہے۔اس نظریے سے یہ واضح ہو سکتاہے کہ کھلاڑی اور پیشہ ورموسیقار کیوں اپنے کام پر بھرپور توجہ مرکوز کرنے سے پہلے جمائی لینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔


جمائی اس بات کا بھی واضح اشارہ ہوتی ہے کہ نیند بس اب آنے ہی والی ہے ،گویا یہ پہلے سے جمائی لینے والے کو خبر دار کر دیتی ہے۔اگر آپ کا رچلا رہے ہوں اور جمائی محسوس کرنے لگیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ ڈرائیونگ موقوف کردیں اور نئے سرے سے تازہ دم ہونے کے بعد سفر کا آغاز کریں۔اس انتباء کو خاطر میں نہ لانا خطر ناک ہو سکتا ہے۔جمائی ایک سے دوسرے فرد تک کیسے منتقل ہوتی ہیں؟اس بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ ہمارے بہت سے افعال الفاظ کی ادائی کے بغیر دوسرے فرد تک پیغامات منتقل کرتے ہیں۔

جمائی بھی ایک قسم کی اشاروں کی زبان ہے،جس کے ذریعے ہم دوسروں کو پیغام دیتے ہیں کہ دن بھر کی سرگرمیاں اب ختم ہوئیں اور آرام کا وقت ہو گیا۔بڑی نسل کے بندروں کی ایک قسم (BABOON) میں یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ جب تنہائی چاہتے ہیں تو جمائی لینا شروع کر دیتے ہیں اور اس سے دوسرے بندروں کو یہ پیغام مل جاتاہے کہ جمائی لینے والے کو تنہا چھوڑ دیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-07

Your Thoughts and Comments