Kaam Or Ziada Paani Peene K Asraat

کم اور زیادہ پانی پینے کے اثرات

جمعہ جولائی

Kaam Or Ziada Paani Peene K Asraat
ہمارا 60فیصد جسم پانی پر مشتمل ہے۔پسینے اور بول کی شکل میں یہ پانی مسلسل خارج ہوتا رہتا ہے۔جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لئے آپ کو مناسب مقدار میں پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے۔روزانہ کتنا پانی پینا چاہیے،اس بارے میں مختلف آراہیں۔شعبہ صحت کے حکام عام طور پر آٹھ اونس کے آٹھ گلاس پینے کا مشورہ دیتے ہیں جو کم و بیش دو لیٹر یا نصف گیلن کے مساوی ہوتا ہے۔

اسے 8+8کا اصول کہا جاتا ہے جسے با آسانی یاد کیا جا سکتا ہے۔البتہ بعض ماہرین صحت کا خیال ہے کہ دن بھر وقفے وقفے سے چسکیاں لے کر پانی پیتے رہنا چاہیے، چاہے آپ پیاسے نہ بھی ہوں۔بہت سے عوامل (داخلی اور خارجی دونوں)پانی کی ضرورت پر اثر انداز ہوتے ہیں اس لئے ایک فرد کی ضرورت دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اس تحریر میں پانی پینے پر ہونے والی تحقیقات کی مدد سے روایتی باتوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور انفرادی سطح پر پانی کی ضرورت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

(جاری ہے)


توانائی کی سطح اور دماغی افعال پر اثر:
بہت سے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اگر دن بھر آپ کی پانی کی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو آپ کی توانائی کی سطح اور دماغی افعال دونوں متاثر ہوتے ہیں۔اس دعوے کی تصدیق متعدد تحقیقات سے ہوتی ہے۔عورتوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ورزش کے بعد جسمانی مائع میں 1.36فیصد کمی ارتکاز توجہ اور مزاج کو خراب کرتی ہے اور اس سے سر درد کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔

دیگر تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ورزش یا گرمی سے پانی کی تھوڑی سے کمی کئی دماغی افعال کو متاثر کرتی ہے۔اس امر کو ذہن میں رکھیں کہ جسمانی وزن میں صرف ایک فیصد کمی بھی خاصی ہوتی ہے۔ایسا بنیادی طور پر بہت زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں ہوتا ہے۔جسم میں پانی کی خفیف کمی جسمانی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
وزن میں کمی:
ایسے کئی دعوے کیے جاتے ہیں کہ زیادہ پانی پینے سے جسمانی وزن کم ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے میٹا بولزم تیز ہوتا ہے اور بھوک میں کمی ہوتی ہے۔

وہ تحقیقات کے مطابق 17اونس (500ملی لیٹر) پانی پینے سے میٹا بولزم کو 24سے 30فیصد عارضی بڑھاوا ملتا ہے۔محققین کے مطابق ایک دن میں 68اونس (دو لیٹر) پانی پینے سے توانائی کا خرچ 96حرارے فی دن بڑھ جاتا ہے۔علاوہ ازیں ،ٹھنڈا پانی مفید ہو سکتا ہے کیونکہ پانی کو جسمانی درجہ حرارت پر لانے کے لئے جسم کو زیادہ حرارے خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔کھانا کھانے سے آدھا گھنٹہ قبل پانی پینے سے کھانے کے ذریعے،بالخصوص بوڑھے افراد میں،جسم میں داخل ہونے والے حراروں کی تعداد میں کمی کی جا سکتی ہے۔

ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ ڈائٹ کرنے والے جن افراد نے ہر کھانے سے قبل 17اونس (500ملی لیٹر)پانی پیا ان کا وزن ایسا نہ کرنے والوں کے مقابلے میں 44فیصد کم ہوا ۔مجموعی طور پر مناسب مقدار میں پانی پینا،بالخصوص کھانے سے قبل،وزن میں خاصی کمی لا سکتا ہے ،خصوصاً جب صحت مند غذا کے ساتھ ایسا کیا جائے۔
صحت کے مسائل سے چھٹکارہ:
مناسب مقدار میں پانی پینے کے کئی دیگر فوائد بھی ہیں۔

پانی پینے کی مقدار میں اضافے سے صحت کے کئی مسائل حل کی جانب بڑھتے ہیں۔
قبض:
یہ ایک عام مسئلہ ہے ۔پانی پینے کی مقدار بڑھا کراسے حل کیا جا سکتا ہے۔
سرطان:
بعض تحقیقات کے مطابق زیادہ پانی پینے سے مثانے اور قولون امعاد ( Colorectal)سرطان کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔تاہم چند ایک تحقیقات کے مطابق اس معاملے میں پانی زیادہ پینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔


گردے کی پتھری:
پانی پینے کی مقدار بڑھانے سے گردے کی پتھری کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
جلد میں پانی کی مقدار اور مہاسے:
بہت سننے میں آتا ہے کہ پانی زیادہ پینے سے جلد میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے مہاسے کم ہو جاتے ہیں ۔البتہ ابھی تک کسی تحقیق سے اس کا اثبات یا نفی نہیں ہوئی۔
مشروبات کا استعمال:
صرف سادہ پانی پینے ہی سے مائع کا توازن قائم نہیں رہتا۔

دیگر مشروبات اور غذائیں بھی اہم اثرات مرتب کرتی ہیں۔ایک خیال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کیفین والے مشروبات،جیسا کہ کافی اور چائے،جسم میں پانی کی کمی کو دور کرنے میں معاون نہیں ہوتے کیونکہ کیفین پیشاب آور ہے۔دراصل تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان مشروبات کے پیشاب آور ہونے کی تاثیر انتہائی معمولی ہے۔ بیشتر غذاؤں میں پانی موجود ہوتا ہے۔

گوشت،مچھلی،انڈے اور خاص طور پر پھل اور سبزیوں میں پانی کی قابل ذکر مقدار ہوتی ہے۔کافی یا چائے کے ساتھ پانی سے بھر پور غذائیں جسم میں مائع کے توازن کو قائم رکھنے میں معاون ہو سکتی ہیں۔
پیاس پر اعتبار:
بقا کے لئے جسم میں پانی کا توازن لازمی ہے،اسی لئے کب اور کتنا پانی پینا ہے،ہمارے اندر اس کا ایک نفیس نظام موجود ہے۔

جب پانی کی کل مقدار ایک مخصوص سطح سے کم ہوتی ہے تو پیاس لگنے لگتی ہے۔یہ میکا نرم سانس لینے جیسا ہے ،آپ کو اس کے لئے سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔بیشتر لوگوں کو پانی کی مقدار کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،پیاس کی ہیبت خاصی قابل اعتبار ہے۔8+8کا اصول حتمی نہیں،بعض حالات میں پانی پینے کی مقدار بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔پسینہ آئے تو زیادہ پانی پینا چاہیے۔

ورزش اور گرم موسم میں بھی پانی زیادہ پینا چاہیے،خصوصاً جب موسم گرما اور خشک ہو۔اگر آپ کو بہت زیادہ پسینہ آرہا ہے ،تو پانی پی کر اس کی کمی کو پورا کریں۔طویل اور سخت ورزش کرنے والے اتھلیٹس کو پانی کے ساتھ الیکٹرولائٹس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔جو مائیں بچوں کو دودھ پالتی ہیں،ان کی پانی کی ضرورت زیادہ ہوتی۔قے اور اسہال والے امراض میں بھی پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

بوڑھے افراد کو اپنی پانی کی ضرورت پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پیاس بجھانے والا نظام خراب ہو سکتاہے۔
کتنا پانی پینا ہے:
دن میں کتنا پانی پینے کی ضرورت ہے،اس کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں۔اس کا انحصار فرد پر ہوتاہے۔اس سلسلے میں اپنا امتحان لیجیے۔بعض افراد معمول سے زیادہ پانی پینے سے زیادہ افعال ہو جاتے ہیں،جبکہ دوسروں کو بار بار باتھ روم جانے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔آپ چند ایک بار زیادہ پانی پی کر خود کو آزمالیں۔بہر حال یہاں پردی گئی رہنمائی اکثریت پر لاگو ہوتی ہے یعنی:
جب پیاس لگے تو پانی پئیں۔
جب پیاس نہ رہے تو پانی پینا چھوڑ دیں۔
زیادہ گرمی اور ورزش کی صورت میں پانی کی کمی کو دور کریں۔
تاریخ اشاعت: 2020-07-24

Your Thoughts and Comments