Kamzoor Phyparry - Article No. 1278

کمزور پھیپھڑے - تحریر نمبر 1278

ہفتہ 17 مارچ 2018

Kamzoor Phyparry - Article No. 1278

تیسری دنیا کے بہت سے ملکوں میں سُکڑے پھیپھڑوں کا مسلہ کسی عفریت کی مانند موجود ہیں خاص طور پر بنگلہ دیش‘ہندوستان اور پاکستان میں جہاں آپ کو ایسے بے شمار گھر مل جائیں گے جہاں گھر کا کوئی نہ کوئی فرد پھیپھڑوں میں انفیکشن کے باعث سُکڑے اور کمزور پھیپھڑوں کے ساتھ زندگی گزاررہا ہوگا۔
بہت سے نوجوان افراد ٹریفک حادثات کا شکار ہوکر شدید زخمی ہوجاتے ہیں جس میں ان کا سینہ بھی بُری طرح متاثر ہوتا ہے لیکن طبعی امداد دے کر ان کے ظاہری زخموں کا علاج تو کردیا جاتا ہے لیکن زیر سینہ زخمی ہونے والے ان کے متاثرہ پھیپھڑے ٹھیک نہیں ہوپاتے کیونکہ انفیکشن والے پھیپھڑے میں گندا مواد یا پیپ پیدا ہوجانے کی وجہ سے صورتحال انتہائی خطرناک ہوجاتی ہے پھر ہمارے یہاں ہوتایہ ہے کہ سینے سے گندے مواد یا پیپ کو خارج کرنے کے لیے مریض کے سینے میں ایک ٹیوب ڈال دی جاتی ہے جس کے ذریعے وہ گندہ مواد باہر آتا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی پھیپھڑے پوری طرح پھیل نہیں پاتے ہیں۔

(جاری ہے)


ایسے مریض اپنے سینوں میں یہ چیسٹ ٹیوب اور بیگ اٹھانے اس طرح نہ جانے کتنے دن گزار دیتے ہیں وہ جہاں جاتے ہیں یہ ٹیوب اور چیسٹ بیگ ان کے ساتھ لگارہتا ہے۔
وہ اس ٹیوب اور چیسٹ بیگ سے نجات کے لیے طرح طرح کے طریقے اور ٹوٹکے آزماتے ہیں یونانی آیورویدک‘حکمت‘ہومیو پیتھک اور نہ جانے کیا کیا!!!
جہاں سے بھی کوئی مشورہ ملتا ہے وہ اس پر فوراً عمل کرنا شروع کردیتے ہیں لیکن ان کی ساری محنت بے کار جاتی ہیں ان کے ساتھ لگی یہ ٹیوب مستقل گندہ مواد اور ہوا خارج کرتی رہتی ہیں اور وہ اس عذاب میں مستقل مبتلا رہتے ہیں۔


یہ کتنا بڑا تضاد ہے ایک طرف تو یہ دعوے کے ہمارے یہاںمیڈیکل جدید ترین سہولیات حاصل ہیں میڈیکل سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے ہمارے ہاسپٹل دنیا کے بہترین ہاسپٹل ہیں ہمارے یہاں کے میڈیکل اسٹورز میں دنیا کی بہترین دوائیں دستیاب ہیں وغیرہ‘وغیرہ اور دوسری طرف اس سنگین صورتحال سے دوچار نجانے کتنے افراد اپنے سینوں سے ٹیوب اور چیسٹ بیگ لگائے گھومتے دکھائی دیتے ہیں،
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے مریضوں نے یہ یقین کرلیا ہے کہ ان کے ساتھ جو مس¿لہ ہے اس کا نہ کوئی حل ہے اور نہ کوئی علاج،،،،اتنا ہی نہیں بلکہ شاید اُن کا علاج کرانے والے ڈاکٹروں نے بھی تعین کرلیا ہے کہ ان کا بس یہی علاج ہے،

تاریخ اشاعت: 2018-03-17

Your Thoughts and Comments