Khana Had Se Paka Sehat K Liye Muzar

کھانا حد سے زیادہ پکانا صحت کے لیے مضر

Khana Had Se Paka Sehat K Liye Muzar
اگر کھانا اچھی طرح نہ پکایا گیا ہو تووہ نقصان دہ ہوتا ہے اور ہاضمے میں خرابی پیدا کرتا ہے۔بالکل اسی طرح اگر کھانے کو حد سے زیادہ پکایا جائے یا بھونا جائے تو اس کے بھی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں ۔کھانا مختلف مراحل سے گزر کر ہمارے کھانے کے قابل بنتا ہے۔کھانا پکنے کے دوران مختلف کیمیکل ری ایکشن ہوتے ہیں۔کھاناپکانے کے لئے استعمال ہونے والی گرمائی ان ری ایکشن کو تیز تر کرتی ہے۔

یہ ری ایکشن اچھے اور برے دونوں طرح کے ہو سکتے ہیں۔اس کا انحصار کھانے کی نوعیت پر ہوتا ہے۔کھانے کو زیادہ دیر تک پکانااس کی غذائیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
غذائیت کا کم ہونا:
عام طور پر کھانے کو جتنازیادہ پکایاجاتا ہے اسکی غذائیت میں کمی آتی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

اس کی وجہ زیادہ دیر تک کیمیکل ری ایکشن کا ہونا ہے۔کچھ وٹامنز پر پکنے کے اثرات زیادہ تیزی سے ہوتے ہیں۔

کھانا پکانے کے دوران وٹامن سی سب سے پہلے ختم ہوتا ہے۔
شکل اور ذائقہ بگڑجانا:
کھانے کو زیادہ پکانے سے اس کی شکل اور ذائقے میں فرق پڑ جاتا ہے۔زیادہ دیر تک پکنے والے کھانے دیکھنے میں اچھے نہیں لگتے۔ذیادہ پکنے کی وجہ سے آپ اس کی غذائیت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ہری سبزیاں اپنی رنگت کھو کر بد رنگ ہو جاتی ہیں۔دوسرے کھانے بھی ذائقہ اور شکل بدلنے کے باعث کھانے کا دل نہیں چاہتا۔

اس لئے ضروری ہے کہ کھانے کو بہت ذیادہ پکانے سے گریز کیا جائے۔کیونکہ یہ کھانے کے ذائقے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
دیر تک گرلنگ کرنا بھی مضر صحت:
گرل پر بھی زیادہ دیر تک پکانے سے ناصرف غذائیت کم ہوتی ہے بلکہ اس سے کھانے کی کوالٹی پر مختلف انداز سے اثر پڑتا ہے۔گوشت کو گرل پر پکانے سے دو منفی اثرات پڑتے ہیں۔تیز آنچ پر گوشت کو گرل کرنے سے اس میں ٹاکسک اجزاء بڑھ جاتے ہیں اسی طر ح جب گوشت کوئلوں سے لگتا ہے تو اس سے اٹھنے والا دھواں ٹاکسن پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

جتنا دیر کھانے کو گرل پر پکایا جائے گا اتنا ہی دھواں اٹھے گااور کینسر کا باعث بننے والے کیمیکل بنیں گے۔اور ان کے اثرات کھانے کی رہی سہی غذائیت کو بھی ختم کردیں گے۔
کھانا پکانے کا سہی طریقہ:
کھانا پکانے کے طریقے بھی اس کی کوالٹی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کچھ وٹامنزمثلاََ بی کمپلیکس اور وٹامن سی پانی میں حل ہو جاتے ہیں اگر آپ انھیں پانی میں پکائیں گے تو یہ وٹامن پانی میں مل جائیں گے۔

جتنا آپ انھیں پکائیں گے ان کی غذائیت کم ہوتی جائے گی۔اگر آپ اس پانی کو کھانے میں استعمال کرتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن اگریہ پانی پھینک دیتے ہیں توکھانے کی ساری غذائیت ذائع ہو جائیگی۔ کھانے کو دیر تک پکانے یا ابالنے کے بجائے اگر اسے مائیکرو ویو میں بنا لیا جائے۔تو کافی حد تک غذائیت کو ذرائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مائیکرو ویو میں بہت مختصر وقت میں کھانا تیار ہو جاتا ہے مثال کے طور پر اگر آپ کوئی چیز اوون میں ۵۴ منٹ میں پکاتے ہیں تو وہی چیز مائیکرو ویو میں پکنے کے لئے ۷ سے 10 منٹ لے گی۔


زیادہ پکانے سے کھانا فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور اس کے اثرات ناصرف کھانے کی غذائیت،شکل اوررنگ پر پڑتے ہیں بلکہ یہ خطرناک بیماریوں کا بھی باعث بن سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2016-04-20

Your Thoughts and Comments