بند کریں
صحت مضامینمضامینخو شبو سے سرطان کا علاج

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خو شبو سے سرطان کا علاج
آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ بعض خو شبوؤں کے سونگھنے سے فر حت اور سکون کا احساس ہوتا ہے تو بعض سے دوران خون میں اضافہ اور جسم میں حرارت یا گرمی کا احساس ہوتا ہے۔جس طرح بعض چیزوں کو دیکھنے سے منھ میں پانی آتا ہے، اسی طرح بعض خو شبوؤں سے بھوک بھی چمک جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ بعض خو شبوؤں کے سونگھنے سے فر حت اور سکون کا احساس ہوتا ہے تو بعض سے دوران خون میں اضافہ اور جسم میں حرارت یا گرمی کا احساس ہوتا ہے۔جس طرح بعض چیزوں کو دیکھنے سے منھ میں پانی آتا ہے، اسی طرح بعض خو شبوؤں سے بھوک بھی چمک جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ اشیا ء ہمارے جسم میں مختلف کیمیائی مادے تیار کرنے کے عمل کو تحریک دیتی ہیں۔املی اور آلو بخارے کو دیکھ کر تُھوک کے غدود اپنا کام تیز کر دیتے ہیں، لہسن،پودینے اور دیگر مسالوں کی خو شبو معدے کی رطوبات میں اضافہ کرکے بھوک بڑھا دیتی ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خوشبوو آواز سے مختلف اور مخصوص کیمیائی اجزا کی تیاری پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔
حیدر آباد کن کے ضلع رائچور میں ایک نابینا حکیم اپنی حذاقت کے لیے مشہور تھے۔ان کے مطب میں ایک ہندو بنیے کو لایا گیا، جو بھوک نہ لگنے کا شاکی تھا۔فقدانِ اشتہا کا اس نے بہت علاج کروایا،لیکن کوئی کارگر ثابت نہ ہوا۔ حکیم صاحب نے اس کی نبض دیکھی اور سوالات کیے۔اس نے یہ قرار کیا کہ یہ من پسند غذائیں بھی نہیں کھا سکتا، کیوں کہ اسے قطعاََ کوئی اشتہا نہیں ہوتی۔ وہ ہندو کٹر قسم کا تھا اور بجز سبزی کو کوئی چیز کھانے پر آمادہ نہ تھا۔
حکیم صاحب نے اس شرط پر اس کا علاج منظور کیاکہ وہ دن میں دو با ران کے مطب آئے۔ مر تا کیانہ کرتا کے مصداق وہ راضی ہوگیا۔
اگلی صبح انھوں نے بکری کا معدہ اور آنتیں خوب صاف کروا کر اُ نھیں اشتہا انگیز مسالوں کے ساتھ پکوایا اور ایک پیالے میں نکلواکر اس پر چھلنی ڈھک کر مریض کو اس کی خو شبو دار بھاپ سونگھنے کی ہدایت کی۔ شام میں ابھی یہی عمل دہرایا گیا۔ ہفتے عشرے کے اس خو شبو سے علاج نے مریض کے خفتہ معدے کو بیدار کر دیا۔ ہاضم رطوبتیں ایک بار پھر اپنا کام کرنے لگیں۔ اور محض اس علاج سے اس کی بھوک رفتہ رفتہ بحال ہوگی۔
اسی طرح کا تجربہ افعال الاعضا کے روسی ماہر پاولوف(pavlov)کر چکے تھے۔ انھوں نے کھانے سے پہلے گھنٹی بجا کر کتے کو کھانا دینے کا معمول بنایا۔گھنٹی کی آواز سنتے ہی کتے کے لعابی غدود متحرک ہو جاتے اور اس کو منھ سے رال ٹپکنے لگتی۔ اس تجربے میں آواز تحریک کا باعث قرار پائی۔
امریکا کی البا مایونی ورسٹی میں تحقیق کاروں نے چوہوں پر خو شبو کے اثرات کے تجربات کیے۔انھوں نے ہر تیسرے دن چار گھنٹوں تک زیر تجربہ چوہوں کو کافور سنگھایا اور اس سے پہلے انھیں ایک اایسے کیمیائی مرکب کے ٹیکے لگاتے رہے۔جس سے جسم میں انٹرفیرون کی تیاری میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ حیاتیاتی کیمیائی جزو ہمارے جسم میں ان خلیات (سیلز) کو مستعد اور چوکس کر دیتا ہے ،جو سرطانی خلیات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ طبی تحقیق کے مطابق یہ سرطان کے خلاف ہمارے جسم کی گویا پہلی دفاعی لائن ہوتی ہے۔
ان تجربات کو نو مرتبہ دہرانے کے بعد انھوں نے چوہوں کو تین دن آرام کرنے دیا اور چوتھے دن ان میں سے بعض کو دوبارہ صرف کا فور سنگھائی یعنی انٹر فیرون کو تحریک دینے والا ٹیکا نہیں لگایا، لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان میں محض کا فور کے سونگھنے سے انٹر فیرون کی افزایش میں تین گنا ضافہ ہوگیا۔
مشاہدات اور سائنسی تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ کہ رنج و غم،دکھ ،درد،ذہنی دباؤ اور مسرت وشادمانی جیسے جذبات جسم میں مختلف کیمیائی مادوں کو تحریک دیتے ہے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کا تعلق مرکزی اعصابی نظام سے ہے۔ ان تجربات سے اب یہ بات بھی واضح ہوتی جارہی ہے۔کہ خو شبو اور آواز وغیرہ سے جسم میں کیمیائی ردعمل پیدا کیا جاسکتا ہے۔البامایونی ورسٹی کے تحقیق کاروں کے مطابق ان کا اصل کام لوگوں کے مدافعتی نطام کی تربیت اور تحریک کا ایک ایسا طریقہ تلاشک کرنا ہے۔جو سرطان دوائیں کرتی ہیں۔ جسم کو اس قسم کی تحریک پہنچا کر خود مدافعتی پر آمادہ کرنا محفوط بھی ہوگااورسستا بھی۔
اس ذیل میں طبی دواؤں پر غور کرنا چاہیے اور ان کی افادیت کا مطالعہ اس اصول پر کرنا چاہیے۔مطب کے اکثر مرکبات خوش ذائقہ اور خو شبو دار ہوتے ہیں۔کیوڑہ،گلاب،بید مشک۔(ایک خو شبودار پودا) کا شمار بہترین خو شبوؤں میں ہوتا ہے۔اور عرقیات طبی دواوں میں اہمیت کے حامل ہیں۔اسی طرح زفران،عنبرمشک کی خو شبوؤں پر غور کرنا چاہیے کہ یہ طبی مرکبات میں اہمیت کی حامل ہیں،طبی نسحہ جات یقینا اسی نوع کو تجربات پر مشتمل ہیں۔آج ہم بہ آسانی ان سائنسی توجیہ کر سکتے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے