Maade K Masail Se Nijat Kaise

معدے کے مسائل سے نجات کیسے؟

Maade K Masail Se Nijat Kaise
راحیلہ مغل
بیشتر افراد کو زندگی میں کسی وقت پیٹ پھولنے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے ۔ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب پیٹ بھرا ہوا اور سخت محسوس ہوتا ہے اور غذائی نالی میں گیس کا اجتماع اس کا باعث بنتاہے۔ پیٹ پھولنے پر معمول سے زیادہ بڑا نظر آنے لگتا ہے اورتکلیف کا احساس بھی ہو سکتا ہے،جسم میں سیال کا اجتماع بھی اس کا باعث ہو سکتا ہے۔

تو سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے جیسے نظام ہاضمہ کے مسئلے یعنی قبض ،کھانے سے الرجی یا مخصوص اجزاء کو جسم کا ہضم کرنے سے انکار پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتا ہے۔بہت زیادہ سافٹ ڈرنکس ،نمک یا چینی کا استعمال جبکہ غذا میں فائبر کا نہ ہونا بھی اس کی وجہ ہے۔مگر اچھی بات یہ ہے کہ طرز زندگی کی چند عام چیزوں سے پیٹ پھولنے کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ فوری ریلیف بھی ممکن ہے۔

(جاری ہے)


چہل قدمی
جسمانی سر گرمی سے آنتوں کی سر گرمیاں معمول پر آتی ہیں جس سے اضافی گیس اور فضلے کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔آنتوں کے افعال معمول پر لانا قبض کے شکار افراد کے لیے بہت ضروری ہوتاہے ،کچھ دیر کی چہل قدمی پیٹ پھولنے اور گیس کے دباؤ سے تیزی سے ریلیف میں مدد دے سکتاہے۔
یوگا
یوگا کے مخصوص پوز شکم کے مسلز کو غذائی نالی میں موجود اضافی گیس کے اخراج میں مدد دے سکتے ہیں ،جس سے پیٹ پھولنے کا مسئلہ بھی کم ہوجاتاہے۔

اس حوالے سے کسی ماہر سے مشورہ کیا جا سکتاہے۔
پودینے کے تیل کے کیپسول
پودینے کے تیل کے کیپسول بھی بدہضمی اور گیس کے حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اور پیٹ پھولنے کے مسئلے سے ریلیف حاصل کر سکتے ہیں،پودینا آنتوں کے مسلز کو سکون پہنچا کر گیس اور فضلے کو گزرنے میں مدد دیتا ہے،تاہم سینے میں جلن کی شکایت رہتی ہے تو پھرپو دینے سے گریز کرنا بہتر ہے۔


گیس ریلیف کیپسول
بازار میں ایسے کیپسول آسانی سے مل جاتے ہیں جو آپ ڈاکٹر کے مشورے سے خرید کر لاسکتے ہیں جو غذائی نالی میں موجود اضافی ہوا کے اخراج کو یقینی بناتے ہیں۔
پیٹ کی مالش
پیٹ کی مالش بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہو سکتی ہے،اس مقصد کے لیے دائیں کو لہے کی ہڈی پر ہاتھ رکھیں اور پھر سر کولرموشن میں ہلکے دباؤ کے ساتھ دائیں جانب کی پسلیوں تک مالش کریں،اس کے بعد پیٹ کے اوپری حصے پر بائیں جانب کی پسلیوں تک مالش کریں،پھر آہستگی سے بائیں کولہے کی ہڈی تک ہاتھ لے جائیں،ضرورت پڑنے پر یہ عمل دہرائیں۔

اگر مالش کے دوران تکلیف ہوتو بہتر ہے کہ اسے نہ کریں۔
گرم پانی سے نہانا
گرم پانی سے نہانے پر پیٹ کو گرمائش ملتی ہے جس سے اس پر دباؤ کم ہوتا ہے اور غذائی نالی زیادہ موثر طریقے سے کام کر سکتی ہے جس سے پیٹ پھولنے میں کمی لانا ممکن ہوجاتاہے۔اب وہ تبدیلیاں جانیں جو طویل المعیاد بنیادوں پر اس مسئلے سے بچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔


فائبر کا استعمال بتدریج بڑھائیں
زیادہ فائبر کا استعمال قبض اور پیٹ پھولنے کی روک تھام کرتا ہے،مردوں کو روزانہ 38گرام جبکہ خواتین کو 25گرام فائبر جزوبدن بنانے کا مشورہ دیا جاتاہے ،مگر یہ بھی ذہن میں رہے کہ بہت زیادہ فائبر کھانا یا بہت کم وقت میں زیادہ کھانا شروع کر دینا زیادہ گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتا ہے ،تو فائبر کی مقدار میں بتدریج اضافہ چند ہفتوں میں کرنا چاہیے تاکہ جسم اس سے مطابقت حاصل کر سکے۔


پانی کو ترجیح
سوڈا،کاربونیٹڈ مشروبات میں گیس ہوتی ہے جو پیٹ میں اکٹھی ہو جاتی ہے،اس کو بنانے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال ہوتا ہے جو پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے ،چینی یا مصنوعی مٹھاس والی غذا بھی گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے،تو ان مشروبات کی جگہ پانی کو دے دینا تمام مسائل سے بچا لیتا ہے جبکہ قبض سے نجات بھی ممکن ہو جاتی ہے۔


چیونگم سے گریز
چیونگم چبانے کے دوران ہوا بھی پیٹ میں چلی جاتی ہے جو ممکنہ طور پر پیٹ پھولنے اور گیس کا باعث بن سکتی ہے،اگر پیٹ پھولنے کے مسئلے کا اکثر سامنا ہوتا ہے تو چیونگم سے گریز ہی بہتر ہے۔
جسمانی طور پر متحرک ہونا
ورزش جسم کو گیس اور قبض سے بچانے میں مدد دیتی ہے کیونکہ اس سے آنتوں کے افعال ٹھیک ہونے کا امکان بڑھتا ہے ۔

ورزش سے جسم میں پسینے کے ذریعے اضافی سوڈیم کا اخراج ہوتا ہے جو سیال کےاجتماع کو دور کرنے میں مدد دیتاہے۔ورزش کرنے سے پہلے اور بعد میں پانی پینا مت بھولیں ،کیونکہ جسم میں پانی کی کمی قبض کو بدتر بناسکتی ہے۔
کھانے کے اوقات میں مناسب وقفہ
بیشتر افراد کو زیادہ کھانے پر پیٹ پھولنے کا سامنا ہوتا ہے تو اس سے بچنا بھی آسان ہے اور وہ یہ کہ کھانے کے اوقات میں مناسب وقفہ رکھیں اور کم مقدار میں کھائیں ،تاکہ نظام ہاضمہ متحرک رکھنے میں مدد مل سکے۔

کھانے کو بہت تیزی سے نکلنا غذائی نالی میں ہوا کو بھرتا ہے ،اسٹراسے مشروب پینا لوگوں کو زیادہ ہوا نگلنے پر مجبور کرتا ہے ،جو گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بن جاتاہے،پیٹ پھولنے کے شکار افراد کو اسٹراسے گریز کرنا چاہیے اور کھانا آرام سے کھانا عادت بنالینا چاہیے۔
پروبائیوٹکس
پروبائیوٹکس آنتوں میں مقیم اچھے بیکٹیریا پر مبنی ہوتے ہیں ،پروبائیوٹیک سپلیمنٹ آنتوں کے بیکٹیریا کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتے ہیں۔


زیادہ نمک سے گریز
بہت زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں جسم میں پانی اکٹھاہونے لگتا ہے جس سے پیٹ پھولنے کا احساس ہوتا ہے مگر یہ مسئلہ ہاتھوں اور پیروں میں بھی سامنے آسکتا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر ایسا امکان بہت کم ہوتا ہے مگر پیٹ پھولنا اور شکم میں سوجن کئی بار کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے،جیسے جگر کے امراض ،آنتوں کے ورم کے امراض،ہارٹ فیلیئر ،گردوں کے مسائل اور کچھ اقسام کے کینسر سے بھی یہ مسئلہ در پیش ہوتاہے۔اگر پیٹ پھولنے کامسئلہ کئی دن یاہفتے تک بر قراررہے تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ درست تشخیص ہوسکے۔
تاریخ اشاعت: 2019-10-12

Your Thoughts and Comments