Meede Ki Karkardagi Aur Nizaam E Inhizam - Article No. 2312

معدے کی کارکردگی اور نظامِ انہضام - تحریر نمبر 2312

بدھ 1 دسمبر 2021

Meede Ki Karkardagi Aur Nizaam E Inhizam - Article No. 2312
معدہ انہضامی نالی کا وہ جز ہے جس میں غذا کو جزو بدن بنانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔معدہ ابتدائی چھوٹی آنت (Oesophagus) ایسوفیگس کے درمیان واقع ہاضمی نلی کا سب سے کشادہ حصہ ہے۔یہ غذا کو جزوئے بدن بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔یہ ایک ذخیرہ کرنے والے عضلاتی تھیلے نما ہوتا ہے‘جہاں غذا چند گھنٹوں کیلئے ذخیرہ ہوتی ہے۔معدہ میں موجود خامرے (Enzymes) اور گیسٹرک تیزاب (Hydrochloric Acid) غذا کو توڑ پھوڑ کر اس کا مرکب بناتے ہیں۔

معدہ کی دیواروں کی تہہ میں موجود خلیات (Hydrochloric Acid HCL) پیدا کرتے ہیں۔معدے کے تیزابی ماحول میں پہنچ کر خامروں (Enzymes) کے عمل کا اختتام ہو جاتا ہے جو منہ کے لعاب دہن (Saliva) سے شروع ہوتا ہے۔لعاب دہن یا تھوک کے غدود (Salivary Glands) نشاستہ (Starch) کو توڑنے پھوڑنے کا عمل منہ سے ہی شروع کر دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں معدہ کا تیزابی ماحول ان جراثیم (Bacteria) کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو ہماری غذا میں شامل ہو جاتے ہیں۔

معدے میں موجود خامرے (Enzymes) غذا میں موجود نشاستہ دار اجزاء کے توڑ پھوڑ کے عمل کی ابتداء کرتے ہیں۔معدہ کا نظام ہاضم روغنی اجزاء کو ہضم نہیں کر سکتا۔
الکحل (Alcohol) بہت آسانی سے معدے میں جذب ہو کر خون کے بہاؤ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ان کے جذب ہونے کی رفتار اور تیز ہو جاتی ہے اگر آپ کا معدہ غذا سے خالی ہو یا پھر آپ کا مشروب کوئی بلبلے دار مشروب ہے جیسے لیمن جوس یا سوڈا وغیرہ۔


بیشتر غذائیں معدے میں کئی گھنٹوں تک موجود رہتی ہیں‘اس وجہ سے ہمیں دیر تک بھوک کا احساس نہیں ہوتا۔خصوصاً وہ غذائیں جو پروٹین (Protein) سے بھرپور ہوں یا جن میں روغنی اجزاء (Fats) زیادہ مقدار میں شامل ہوں‘زیادہ دیر تک معدہ میں موجود رہتی ہیں۔جبکہ ایسی غذا جو کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates) پر مشتمل‘ہو زود ہضم ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ہم کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates) پر مشتمل غذا لیتے ہیں‘مثلاً چاول‘سبزیاں‘فروٹ وغیرہ تو جلد ہی دوبارہ بھوک کا احساس ہونے لگتا ہے۔اس کے بالکل برعکس بہت زیادہ مرغن غذائیں (جو کہ دیر سے ہضم ہوتی ہیں) کئی گھنٹوں تک آپ کو بے چین اور بے آرام رکھتی ہیں اور معدہ میں بھاری پن کا احساس دلاتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-12-01

Your Thoughts and Comments