بند کریں
صحت مضامینمضامینآدھے سرکادرد

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آدھے سرکادرد
مردوں کی نسبت خواتین اس کازیادہ شکار ہیں
زائمہ اشرف:
جدید دور کے تحائف میں سے مائیگرین یاآدھے سرکادرد ایک تکلیف وہ بیماری ہے ہر تیسرا فرد کسی نہ کسی انداز میں مائیگرین کی علامات کی شکایت لیے پھرتا ہے۔مائیگرین والا دردسرخون کی شریانوں کے بڑھنے اور اعصاب سے کیمیاوی مادوں کے ان شریانوں میں ملنے سے پیداہوتا ہے۔اس کے دورے کے دوران ہوتا یہ ہے کہ کنپٹی کے مقام پرجلد کے نیچے رگ پھول جاتی ہے۔اس کے نتیجے میں کچھ کیمیاوی مادے پیدا ہوکرسوجن،درد کے ذریعے رگ کواور پھلادیتے ہیں جس سے دفاع میں اعصابی نظام متلی،پیٹ کی خرابی اور قے کااحساس پیداکرتا ہے اس کے علاوہ اس کی وجہ سے خوراک کے ہضم ہونے کاعمل بھی ست پڑجاتا ہے۔دوران خون کے ست پڑنے سے ہاتھ اور پاؤں ٹھنڈے پڑسکتے ہیں اور روشنی اور آواز کی حساسیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔جسم کو ایک طرف کمزوری کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔اس مرض میں مبتلا کچھ افراد تو اپنے درد کو پہچان لیتے ہیں لیکن سب ایسا نہیں کرسکتے۔یہ الرجی کااثر بھی ہوسکتا ہے،تیز روشنیوں کا بھی،بے حد شور کابھی کچھ ناخوشگوار خوشبوؤں کا استعمال ، جسمانی اور جذباتی تناؤ یانیند کی عادت میں تبدیلی،سگریٹ نوشی یا دھوئیں میں رہنا،کھانے کے وقت کاچھوٹ جانا،یاروزہ بھی اس کاباعث بن سکتا ہے۔عام سر درد اور مائیگرین میں کیسے فرق کیا جاسکتا ہے عام سردرد وہ درد ہے جو کبھی کبھار ہوتا ہے لیکن اصل میں بیماری نہیں ہوتا۔پچاسی فیصد مائیگرین زدہ لوگ دل کی ہردھڑکن کے ساتھ سرمیں دھماکے محسوس کرتے ہیں یوں لگتا ہے جیسے کوئی سر میں مسلسل چاقوزنی کررہاہو۔یہ مرض مردوں کی بہ نسبت خواتین میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔
مائیگرین کی روک تھام اور علاج کے حوالے سے علامات کا علاج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس میں پیراسیٹامول،اسپرین اور کیفین کے مرکبات کے ساتھ ساتھ سردرد متلی اور ڈپیریشن کی روک تھام کی کوشش کی جاتی ہے۔جڑی بوٹیوں میں بھنگ اور خشخاش ،خشک دھنیا،سبز ہڑیرکالی مرچ اور اسطخدوس کے مرکبات یا سفوف بھی استعمال کیے جاتے ہیں ،کالی مرچوں کوگرم توے پر ڈال کر اس کت بخارات سانس کے ذریعے اندرلے جانا بھی کافی بہتر نتائج دے سکتا ہے۔آلوپنکچر کرکے علاوہ،سپائنل کارڈ پر تیل کامساج بھی مفیدہے۔اگر کافی کا ایک کپ پی لیا جائے تو یہ سب سے آسان اور سستا علاج ہے۔کافی خون کی شریانوں کودباتی ہے جس سے درد کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے۔
وہ لوگ جو صبح ناشتہ کرنے کے عادی نہیں ہیں۔ان پر سردرد کے دوروں کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اگر ہفتے میں دو مرتبہ مساج کرا لیا جائے تو مائیگرین کے حملے آدھے رہ جائیں گے۔ اپنے لائف سٹائل اور روز مرہ خوراک میں فائبروالی سبزیوں کے استعمال سے ڈپریشن اور ذہنی تناؤ بھی کمی آتی ہے۔بعض افراد میں مائیگرین شروع ہونے کی علامات نظر کے دھندلے پن سے ہوتی ہے جو تقریباََ پندرہ ست بیس منٹ تک رہتی ہے پھر سردرد شروع ہونے سے پہلے سکون کاایک وقفہ آتا ہے۔ پھرقے کی کیفیت شروع ہوجاتی ہے،جسمانی کمزوری کے ساتھ الفاظ کی واضح ادائیگی میں مشکل ہوتی ہے کچھ افراد کا تجربہ یوں ہوتا ہے کہ نظر کاتوازن درست نہیں رہتا، کچھ حالات میں درد دوتین گھنٹے کے بعد خودبخود خاتم ہوجاتا ہے۔درد کے وقت تاریک اور ٹھنڈی جگہ پرجانے سے سکون ملتا ہے۔آنکھ میں ڈیلے اور دماغ کی اوپری سطح پر برف کی ٹکور کرنے اور ٹھنڈایخ پانی پینے سے بھی افاقہ محسوس ہوتاہے۔
وائی فائی آلات،ریموٹ کنٹرول چیزیں،لیپ ٹاپ،راؤٹر،ہمارے مزاج اور صحت پراثر ڈال رہے ہیں موبائل فون کے استعمال کو بھی مائیگرین کی ایک وجہ سمجھ کر ریسرچ کی گئی ہے۔اور یہ سامنے آیا ہے کہ اس قسم کے آلات استعمال کرنے والوں کو الیکڑومیگنیٹک فیلڈ کے اثرات کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے کینسر ،الزائمر،دماغی رسولی (حاملہ خواتین کے بچوں میں آٹزم) شدید ذہنی دباؤ،خوف پریشان خیالی،طلباء کی پڑھائی میں عدم دلچسپی،یاداشت کی کمزوری توجہ کی کمی جیسی ان گنت تکالیف سامنے آرہی ہیں۔
تحقیقات کے نتیجے میں موبائل فون کا کثرت سے استعمال کرنے والوں میں (دوران استعمال) متلی،قے مائیگرین کے درد کے اثرات سامنے آئے ہیں۔ریڈیوفریکوئینسی ریڈی ایشن کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خاص معیار سے کم کی ریڈیوفریکوئینسی ریڈی ایشن کی وجہ سے مائیگرین کا عارضہ ہوسکتا ہے۔ٹرین ،کوچ،کاریا ہوائی سفر کے دوران بھی مائیگرین کاتجربہ ہوسکتا ہے۔مائیگرین چاہے جس قسم کی علامات سے وابستہ ہو،ہمیں اپنی جسمانی روحانی اور نفسیاتی صحت کاخود خیال کرنا ہے۔ اس کے لیے اگر ڈائری بنا کر ساری علامات کو مانیٹر کیا جائے تو بہت سی آسانیاں پیدا ہوجائیں گی۔سمجھ دار خواتین تو پنی فیملی کی میڈیکل ہسٹری ایک نوٹ بک پر لکھتی جاتی ہیں۔وہ ان کے جیون ساتھی اور پیاری اولادوں کے لیے بھی نعمت ثابت ہوسکتی ہے۔

(2) ووٹ وصول ہوئے