Nafakh Ya Uphara

نفخ یا اَپھارا

منگل جنوری

Nafakh Ya Uphara
حسن ذکی کا ظمی
ہاضمے کی شکایات دنیا بھر میں خاصی عام ہیں۔ایسے لوگ بھی ہیں،جو خاموشی سے ان شکایات کو برداشت کرتے رہتے ہیں۔مردوں کی نسبت خواتین کو یہ شکایات زیادہ ،بلکہ تقریباً دگنی لاحق ہوتی ہیں۔ان شکایات میں ایک عام شکایت اَپھارے یا ریاح رک جانے کی ہے،جو کافی تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ نفخ یا اَپھارے کی شکایت کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے،لیکن عمر میں جتنا اضافہ ہوتا جاتاہے،یہ شکایت بھی اس لحاظ سے کچھ بڑھ جاتی ہے۔

بعض لوگوں کو اَپھارے کی شکایت رفتہ رفتہ کئی برس میں بڑھتی ہے،لیکن بعض لوگوں کو یہ شکایت اچانک ہی ہو جاتی ہے۔ابتداء میں آپ یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ یہ تکلیف کتنی شدت اختیار کرے گی۔
پیٹ میں ریاح کا رہ جانا،خود اپنی جگہ سخت تکلیف کا باعث ہو سکتاہے اور بعض اوقات اس کی وجہ سے بدہضمی اور پیٹ پھولنے کی شکایت بھی ہوجاتی ہے۔

(جاری ہے)

پیٹ میں ہوا بھر جائے تو خواہ آپ نے کچھ نہ کھایا ہو،لیکن کمر بند یا پتلون کی پیٹی(بیلٹ)کسنے لگتی ہے،بے چینی بڑھتی جاتی ہے اور پیٹ میں گڑ گڑ کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔

ہاضمے کے عمل کے دوران معدے میں ہوا کے ننھے ننھے بلبلوں کا بننا معمول کے عین مطابق ہے،لیکن جب یہی بلبلے بہت زیادہ بن جائیں اور جسم انھیں ٹھیک طرح پھاڑ نہ سکے تو یہ مسئلہ بن جاتے ہیں۔اگر اسی مرحلے پر ان بلبلوں کا علاج نہ کیا جائے تو یہ معدے سے آنتوں میں منتقل ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور درد و بے چینی کا باعث ہوتے ہیں۔اگر ہوا کے یہ بلبلے ایک بار آنتوں میں پہنچ جائیں تو ان کے اخراج کا ایک ہی طریقہ ہے،جو انسان کے لئے باعث شر مندگی بھی ہو سکتاہے،لہٰذا بہتر یہی ہے کہ شروع ہی میں اس کا علاج کرلیا جائے۔

معدے میں ریاح اٹک جانے اور اَپھارا ہونے کی مختلف لوگوں میں مختلف وجوہ ہو سکتی ہیں ،جن میں سب سے عام یہ ہیں:
(1) کھانے پینے کی اشیاء اَپھارے کی اہم وجہ ہو سکتی ہیں،لیکن اکثر بغیر کچھ کھائے بھی یہ شکایت ہو جاتی ہے۔
(2)کھانے پینے کے طریقے اور اوقات بھی ایک وجہ ہو سکتے ہیں،مثلاً بہت جلدی یا بہت آہستہ کھانا، کھانے کے اوقات کی پابندی نہ کرنا،بے وقت کھانا اور غلط انداز میں بیٹھ کر کھانا۔


(3) اگر ایسا لباس پہنا جائے،جو کمر پر تنگ ہوتو پیٹ پر دباؤ زیادہ ہو جاتاہے اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔اکثر کسی ہوئی پیٹی سے بھی ایسا ہوتاہے۔
(4) اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ دباؤ کی وجہ سے اَپھارے کی شکایت پیدا ہوتی ہے اور ذہنی دباؤ کی اس صورت حال سے بچنا ممکن نہیں تو پھر اس صورت حال سے دو چار ہونے سے قبل ہی کچھ سکون حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔

حفظ ماتقدم کے طور پر سکون کے حصول کی یہ کوشش آپ کی تکلیف کے امکان کو کچھ کم کر دے گی۔اکثریوں بھی ہوتاہے کہ نفسیاتی دباؤ اور شرمندگی کے خوف کی وجہ سے بھی اس شکایت میں اضافہ ہو جاتاہے۔
اَپھارے کی وجہ سے جو درد اور بے چینی ہوتی ہے،وہ اپنی جگہ تو تکلیف دہ ہے ہی ،لیکن اس سے انسان اس وقت اور بھی پریشان ہو جاتاہے،جب وہ دفتر میں کام کررہا ہویا لوگوں سے میل ملاقات میں مصروف ہو ،کیونکہ اس وقت یہ باعث شرمندگی بھی ہو سکتی ہے۔

اس سلسلے میں بنیادی بات تو یہ ہے کہ اپنے تجربے سے اس شکایت کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کیجیے اور اگر اس میں کامیابی ہو جائے تو حتی الامکان اس صور ت حال سے بچنے کی کوشش کیجیے اور ان باتوں کا خیال رکھیے:کھانے میں وقت کی پابندی کیجیے ۔
جلدی جلدی نہ کھائیے۔
جن غذائی اشیاء کا تجربہ ہے کہ وہ اَپھارے کا سبب بنتی ہیں،ان سے پرہیز کیجیے۔
چُست اور کسا ہوا لباس کم ہی پہنیے،خصوصاً کھاتے وقت اس سے جتنا بچ سکیں،اتنا ہی اچھا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-28

Your Thoughts and Comments