بند کریں
صحت مضامینمضامینپسینے کی بو سے مچھر ماریے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پسینے کی بو سے مچھر ماریے
ڈچ اور کینیا کے سائنس دانوں نے ایک ایسا منفرد آلہ ایجاد کیا ہے، جس سے مچھر مارے جاتے ہیں۔ اس آلے میں انسانی پسینے کی بواستعمال کی جاتی ہے۔ اس بوپر ملیریا کے جراثیم سے آلودہ مچھر آتے ہیں اور ٹکراکرختم ہوجاتے ہیں۔
ڈچ اور کینیا کے سائنس دانوں نے ایک ایسا منفرد آلہ ایجاد کیا ہے، جس سے مچھر مارے جاتے ہیں۔ اس آلے میں انسانی پسینے کی بواستعمال کی جاتی ہے۔ اس بوپر ملیریا کے جراثیم سے آلودہ مچھر آتے ہیں اور ٹکراکرختم ہوجاتے ہیں۔
کینیا میں تین سال کی تحقیق کے بعدیہ آلہ ایجاد کیاگیا ہے،جس سے خارج ہونے والی بو کی وجہ سے 70 فیصد ملیریا مچھر اس کی طرف لپکتے اور ہلاک ہوجاتے ہیں۔ وہ افراد جو اس آلے کو استعمال کرتے ہیں، مچھروں سے 30فیصد تک محفوظ رہتے ہیں۔
یہ تحقیق رسالہ لینسٹ میں شائع ہوئی ہے، جوکینیا کے جزیرے روسنگار کی گئی اور اس میں25000افراد پر تجربات کیے گئے ۔ انسانی جسم کی بو سے ڈینگی اور زیکا وائرس پر بھی قابو پایاجاسکتا ہے، اس لیے کہ ڈینگی اور زیکا ایک مچھر کے ذریعے سے ہی پھیلتے ہیں۔ یہ مچھر بھی انسانی بوسے رغبت رکھتے ہیں ۔
یہ آلہ اس ضرورت کو بھی گھٹا دیتا ہے کہ ہم مچھروں پرقابو پانے کے لیے جراثین کش ادویہ پر انحصار کریں کیڑے ماریا حشرات کش ادویہ استعمال کرنے سے زراعت کو نقصان پہنچتا ہے ۔
نیدرلینڈ کی ایک یونیورسٹی کے ماہرکاکہنا ہے، ملیریا کے جراثیم کوادویہ کے بغیر ہلاک کرنا میری سب سے بڑی خواہش ہے ۔
جھیل وکٹوریہ کے جزیرے پر یہ آلہ جوسمشی توانائی کی مدد سے کام کرتا ہے اور جس میں انسانی پسینے کی بو استعمال کی جاتی ہے، گھرو ں کے باہر اندر لگایاجاسکتا ہے، مچھردانیاں اور دافع ملیریا ادویہ بھی اس بیماری کے خاتمے کے لیے استعمال کی جارہی ہیں ۔
اس آلے کو استعمال کرنے کے لیے بجلی کی ضرورت پڑتی ہے۔ چوں کہ اس جزیرے میں بجلی نہیں ہے، چنانچہ سمشی توانائی سے بجلی کے دوبلب روشن کیے جاسکتے ہیں اور موبائل فون کوبھی چارج کیا جاسکتا ہے۔
ڈچ یونیورسٹی کے ایک ماہر نے کہا : ہرمنٹ میں ایک بچہ ملیریا کاشکار ہوکراپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اس بیماری کو ختم کرنے کے لیے افریقی حکومت سالانہ خطیررقم خرچ کررہی ہے ۔
مادہ مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے ملیریا خون چوسنے والے حشرات کے ذریعے سے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعددوشمار کے مطابق گزشتہ برس 438000افراد ملیریا کے باعث موت کا شکار ہوگئے ، کیوں کہ ہسپتالوں میں ا س مرض کی دوائیں نہیں تھیں ۔ زیادہ تر اموات پانچ برس سے کم عمر بچوں کی ہوئیں ، جو صحار (افریقہ ) میں آباد تھے ۔ یونیورسٹی کے ماہرین کاکہنا ہے کہ وہ ملیریا سے ہونے والی اموات کو 2030ء تک 90فیصد ختم کردیں گے ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے