بند کریں
صحت مضامینمضامینپتھری ناکارہ پتا میں بنتی ہے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پتھری ناکارہ پتا میں بنتی ہے
یہ کہنا مکمل طور پر غلط ہو گا کہ پتے سے پتھری کسی بھی طرح نکالی جاسکتی ہے۔ بہت سے لوگ آپریشن کے بغیر پتے کی پتھری کے علاج کے بہانے لوٹ مار کر رہے ہیں
محمد ریاض اختر:
راولپنڈی میں سرجیکل ڈیپارٹمنٹ یونٹ ون میں پروفیسرآف سرجری کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ پیشہ وارانہ مہارت اور حسن اخلاق کے باعث وہ اپنے ہم عصر معالجین اور میڈیکل سٹوڈنٹس میں یکساں طور مقبول ہیں۔ انہوں نے راولپنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ بے نظیر بھٹو ہسپتال سے ہاوٴس جاب کرنے کے بعد کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی فیلو شپ کے دوران سرجری میں سپیشلائزیشن ،گلاسگو، یو کے اور امریکن کالج آف سرجنز کی فیلو شپ لی اور راولپنڈ ی میڈیکل کالج سے طبی درس و تدریس کے لئے ڈپلومہ اِن میڈیکل ایجوکیشن حاصل کیا۔ڈاکٹر جہانگیر سرور نے لپروسکوپک سرجری میں بھی مہارت حاصل کی اور اب تک بے شمار نوجوان ڈاکٹروں کواس شعبے میں تربیت فراہم کر چکے ہیں۔ وہ بے نظیر بھٹو ہسپتال ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور ہولی فیملی ہسپتال میں تعینات رہے ہیں۔پاکستان گرین ٹاسک فورس کے روح رواں ہیں ۔ ماحولیاتی بہتری ،صاف ستھرائی اور شجر کاری کے لئے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ۔ تعلیم ، صحت اور ماحولیاتی شعبوں میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی ہے۔سرجری اور اہم بیماریوں کی تشخیص ، علاج اور مریضوں کیلئے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ڈاکٹر جہانگیر سرور سے ایک نشست ہوئی اس دوران ہونے والی بات چیت نذر قارئین ہے۔
جنرل سرجری اور دیگر شعبوں کی سرجری میں کیا فرق ہے؟
ج:جنرل سرجری میں سب کچھ آتا ہے لیکن آجکل سپیشلائزیشن کا دور ہے۔ آرتھو پیڈک ، وسیکولر سرجری اور سرجری کی دیگر برانچز میں سپیشلائزیشن کی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ بجٹ محدود ہوتا ہے اس لئے جنرل سرجری میں ہر چیز کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ یورالوجی میں زیادہ مریض آتے ہیں اس لئے اس کا الگ شعبہ قائم ہے۔
پتے کی پتھری کا مستقل علاج کیا ہے ، پتے کی پتھری نکالی جاسکتی ہے؟
ج :پتے میں پتھری اسی وقت بنتی ہے جب پتا کام نہیں کررہا ہوتا۔ قدرت نے پتے سے پتھری نکلنے کا راستہ نہیں بنایا۔ پتھری کی صورت میں آپریشن کرکے پتا نکالنا پڑتاہے۔ یہ کہنا مکمل طور پر غلط ہو گا کہ پتے سے پتھری کسی بھی طرح نکالی جاسکتی ہے۔ بہت سے لوگ آپریشن کے بغیر پتے کی پتھری کے علاج کے بہانے لوٹ مار کر رہے ہیں۔ہمارے پاس ایسے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جو اس قسم کے علاج کے بعد مجبور ہو کر سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اگر وقت پر آپریشن نہ ہو تو لبلبے کی سوزش کی صورت میں بڑا آپریشن کرنا پڑتا ہے۔ پانچ سے دس سال پتے میں پتھری رہے تو پتے کاکینسر ہو سکتا ہے جس کا کوئی علاج نہیں ۔ امریکہ یورپ جیسے ترقی یافتہ ملکوں میں اس کا علاج نہیں ہے۔ پتے کے کینسر سے موت واقع ہو سکتی ہے۔
پتے کا جسم میں کیا کردار ہوتا ہے؟
ج :پتا جگر کی رطوبتوں کو سٹور کرتا ہے جسم جس وقت خوراک نہیں لیتا، یہ خوراک چھوٹی آنت میںآ جاتی ہے۔ پتا ہاضمے میں مدد گار ثابت ہو تا ہے۔جب پتے میں رطوبت جمنا شروع ہو جائے تووہ پتھریوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ رطوبت چکناہٹ کی صورت میں ہوتی ہے۔ پتھری کی علامات میں ہاضمے کی خراجی، پیٹ کا پھولنا ، کھٹی ڈکاریں ہیں۔ میں نے آڑھائی ہزار لپروسکوپک پروسیجرز کئے ہیں۔اس طریقے سے جسم میں معمولی قطر کے چار سے پانچ سوراخ کئے جاتے ہیں۔اسے لیزر ، راڈ یا کیمرے والا آپریشن بھی کہتے ہیں۔ جسم میں ہول کرکے کیمرہ ڈالتے ہیں اور کیمرے کی مدد سے پتھری سمیت پتا دوسرے سوراخ سے باہر نکال لیا جاتا ہے۔ ا س طرح ون سینٹی میٹر ہول سے پندرہ سے بیس منٹ میں آپریشن مکمل کرلیا جاتا ہے۔ آپریشن کرنے کے بعد اسی دن مریض کو گھر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ پتے کی خرابی پہلے چالیس سال کے بعد خواتین میں ظاہر ہوتی تھی لیکن اب تو پندرہ، سولہ سالہ بچیوں کے پتے میں پتھری ظاہر ہو رہی ہے۔
پتے کی پتھری کے علاج کے بعد عمر بھر پرہیزی کھانوں پر گزارہ کرنا پڑتا ہے؟
ج: لپروسکوپک سرجری سے پہلے ایسا ہوتا تھا۔اوپن سرجری کے بعد گھی والا سالن ، گوشت نہیں کھایا جاتا تھا ،دودھ دہی کا پرہیز تھا۔ لیکن اب لپروسکوپک سرجری کے بعد پرہیزی کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مریض نارمل کھاناکھا سکتے ہیں ہر قسم کا گوشت کھایا جاسکتاہے۔ہم نے اب تک لپروسکوپک سرجری کے چھبیس سو آپریشن کئے ہیں اور بڑ ی تعداد میں ڈاکٹروں کو بھی ٹرینڈ کیا ہے۔ اس موضوع پر میرے انٹرنیشنل جرنلز میں آٹھ پیپرز شائع ہو چکے ہیں۔اپنے یونٹ میں پندرہ لوگوں کو ٹرینڈ کیا ہے۔ہولی فیملی میں آزاد کشمیر، کے پی کے ،گلگت سکردو سے بھی مریض آتے ہیں۔ مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جبکہ ہمارے پاس یونٹ میں بیڈز کی تعداد وارڈ میں صرف پچاس ہے۔
چھاتی کا کینسر پاکستان میں بہت زیادہ ہے اس کی کیا وجوہات ہیں؟
ج : چھاتی کا کینسر پاکستان میں بہت عام ہے۔ آٹھ یا نو خواتین میں سے ایک کو زندگی کے کسی بھی حصے میں چھاتی کا کیسنر ہوتا ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ چالیس سے پچاس ہزار خواتین چھاتی کے کینسر سے جاں بحق ہو جاتی ہیں۔ یہ شرح اموات ہمارے لئے ایک لمحہ فکر ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی سے پچاس ہزارافراد جاں بحق ہو چکے ہیں لیکن یہاں تو صرف ایک سال میں اس قدر قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔چھاتی کا کینسر والدہ ، خالہ ، بہن سے بھی منتقل ہوتا ہے اس لئے فرسٹ کزن میرج سے گریز کرنا چاہیے۔
اس کینسر کی کیا پہچان ہے؟
ج:چھاتی میں ایسی گلٹی کا ہونا جس میں دردمحسوس نہ ہو اگر یہ گلٹی قائم رہے اور یہ بغل تک بڑھتی رہے تو اس سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ شرم و حیا اور معاشرتی رویوں کی وجہ سے خواتین اس گلٹی کو چھپاتی ہیں جس سے مرض شدت اختیار کر جاتا ہے اور پھر ایک مرحلے پر پہنچ کر یہ لا علاج ہو جاتا ہے۔
اس کینسرکے علاج کے لیے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں؟
ج: سرجیکل یونٹ ون میں بریسٹ کلینک قائم کر دیا ہے جہاں لیڈی ڈاکٹرز معائنہ کرتی ہیں۔ مریضوں کو ٹیسٹ اور علاج کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ چھاتی کے کیسنرکے چار مرحلے ہوتے ہیں۔ ہم نے ایک ہزار کیسزکا مشاہدہ کیا اور یہ بات افسوسناک تھی کہ ان میں سے 67 خواتین میں کینسر ایڈوانس سٹیج پر تھا۔
اس کینسر کا ابتدائی علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
ج:آپریشن بھی ہوتا ہے قیمو تھراپی اورریڈو تھراپی بھی کی جاتی ہے۔ کیونکہ گلٹی میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی اس لئے خواتین علاج میں تاخیر کرتی ہیں۔ پڑھی لکھی اورصاحب ثروت خواتین بھی سْستی اور غفلت کا مظاہرہ کرتی ہیں اوربعد میں انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھوتا پڑتا ہے۔
خواتین کس طرح جان سکتی ہیں کہ انہیں چھاتی کا کینسر ہوسکتا ہے؟
ج:اس کا طریقہ کار بڑا سادہ ہے۔ ہسپتالو ں میں عام طور پر اس طرح کی سہولیات بھی کم ہوتی ہیں کہ خواتین اپنا طبی معائنہ کراسکیں ان حالات میں خواتین خود اپنے طور پر اپنی جسمانی ساخت کا جائزہ لے کر گلٹی کی صورت میں لیڈی ڈاکٹرز سے رجوع کر سکتی ہیں۔ ہم نے اسی لئے ہولی فیملی ہسپتال میں یہ تمام سہولیات جن میں لیبارٹری ٹیسٹ ، ادویات مفت ، آپریشن کا سامان اور سیلانی ٹرسٹ کراچی کے تعاون سے مریضوں کو ناشتہ کھانے کی بھی سہولیات فراہم کی ہیں۔ علاج کے بعد خواتین کو کینسر کے اثرات کے خاتمے کے لئے شعاوں یا ٹیکے لگوانے کے لئے نوری ہسپتال اسلا م آباد میں ریفر کر دیا جاتا ہے۔
گلہٹر کا مرض بھی بہت عام ہے اس کی کیا وجوہات ہیں؟
ج:جسم میںآ ئیوڈین کی کمی سے گلہٹرکا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔ بارشوں سے مٹی، سبزیوں اور پھلوں میں آئیوڈین کی مقدار بہت کم ہو جاتی ہے جس سے گلے اور پھیپھڑوں میں گلٹیاں بن جاتی ہیں جس سے بعض اوقات ٹی بی ہو جاتی ہے۔ جراثیم حلق میں جاکر غدودبنانے میں معاون ثابت ہو تے ہیں جوں ہی اس کی تکلیف محسوس ہو فوری طور پر تمام ٹیسٹ کرانے کے بعد پہلے مرحلے میں تھائروکسن کی گولیوں سے بھی علاج ہو جاتا ہے۔ لیکن دیر ہو جانے پر تھرائیڈ کینسر کی صورت میں آپریشن کرکے شعائیں لگائی جاتی ہیں۔
ہرنیہ کس حد تک قابل علاج ہے؟
ج:یہ سو فیصد قابل علاج ہے۔ بعض اوقات علاج لیٹ کرنے سے وہ آنت جوباہر نکلی ہوتی ہے پھنس جاتی ہے اور پھر ایمرجنسی میں آپریشن کرنا پڑتاہے جو کہ پیچیدہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپریشن وقت پر نہ ہو تو زندگی کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ اب ہم پتے کی پتھری کا کلینک بھی شروع کر رہے ہیں۔ اس وقت روزانہ دو سو مریض او پی ڈی میں آتے ہیں۔ ہولی فیملی ہسپتال میں13 لاکھ مریض سال 2013 میں آچکے ہیں، اس قدر رش کے باوجودصفائی اور بہتر علاج کے لئے ہم کوشاں ہیں۔ بعض اوقات لوگ مطمئن بھی نہیں ہوتے تاہم ان سے تعاون کی درخواست کرکے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے پر مسلسل توجہ دے رہے ہیں۔ ایمرجنسی میں بھی روزانہ سرجری سے متعلق دو سو مریض آتے ہیں۔ پچاس سے زائد سرجن ٹریننگ مکمل کر چکے ہیں
آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج: بیماری سے نہ ڈریں اور فوری علاج کرائیں۔خاندان میں مشورے دینے والوں کی کمی نہیں ہوتی، قابل علاج امراض کی سرکاری ہسپتالو ں میں بہترین سہولیات موجود ہیں جہاں مفت علاج ہوتا ہے اس خوف سے کہ ٹیسٹ کے بعد جانے کیا بیماری نکل آئے علاج سے دور ی نہ رکھی جائے۔ کیونکہ دیر سے تشخیص کی صورت میں علاج کی ہر تدبیر ناکام ہو جاتی ہیں اورانسانی غفلت ، کوتاہی اورسُستی سے مریض کی جان چلی جاتی ہے۔

(2) ووٹ وصول ہوئے