Pneumonia Aik Khatarnaak Bemari

نمونیا ایک خطرناک بیماری

منگل اپریل

Pneumonia Aik Khatarnaak Bemari

نمونیا پھیپھڑوں کی خطرناک بیماری ہے۔ عام طور پر بچے اور عمر رسیدہ افراد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ فنگس ،بیکٹریا اور وائرس کے سبب پھیلتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 80 ہزار سے زائد بچے نمونیا کا شکار ہو کر انتقال کر جاتے ہیں۔ نمونیا کے خطرے کی زد میں فالج‘ کینسر‘ شوگر اور ایڈز کا شکار مریض زیادہ آتے ہیں۔ اس کے ساتھ تمباکو نوشی‘ شراب نوشی اور منشیات کا استعمال کرنے والے افراد بھی بڑھاپے میں اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 5 لاکھ عمر رسیدہ افراد اس مرض کی وجہ سے جانبر نہیں ہو پاتے۔نمونیا نظام تنفس کے ذیلی راستے میں انفیکشن ہونے سے ہوتا ہے جسے پھیپھڑوں کا انفیکشن کہا جاتاہے۔ نمونیا کے زیادہ تر کیس وائرس کے سبب ہوتے ہیں اور یہ نزلہ و زکام کی علامات کے بعد ظاہر ہو سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

بیکٹیریا کے سبب نمونیا کے کیسوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔

بچوں میں نمونیا کی علامات مختلف ہو تی ہیں۔ نمونیا کی عام نشانیوں اور علامات میں تیز بخار‘ کھانسی آنا‘ سانس کا تیز تیز چلنا‘ سانس لینے میں دشواری پیش آنا‘ بھوک کا نہ لگنا‘ کھانسی یا بلغم کو نگلنے کی وجہ سے قے ہونا‘ عام طور پر تھکن سے چور ،ذہنی‘ جسمانی کمزوری محسوس کرنا اور معدہ (پیٹ) کا درد شامل ہے۔پانچ سال سے کم عمر جتنے بچوں کی موت واقع ہوتی ہے ان میں سے 30 فیصد اموات کی وجہ نمونیہ ہے جبکہ ایک سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں سے 33 فی صد کی وجہ نمونیا ہوتا ہے۔

بچوں میں نمونیا کو حفاظتی ٹیکے لگانے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اگر اس کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس شروع کروا لیا جائے تو بچوں کو نمونیا اور اس طرح کی دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔جن دس بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے بچوں کو لگائے جاتے ہیں ان ٹیکوں میں نمونیا سے بچاؤ کا بھی ٹیکہ ہے۔ حکومت پاکستان یہ ویکسین لوگوں کو مفت فراہم کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اپنے بچوں کوحفاظتی ٹیکے نہیں لگواتے۔

پاکستان میں حفاظتی ٹیکے لگانے کی شرح انتہائی کم ہے۔ کراچی جیسے شہری علاقوں میں اوسطاً شرح صرف 29 فیصد ہے حالانکہ کراچی ایک بڑا شہر ہے۔ جہاں چھوٹے بڑے سینکڑوں ہسپتال ہیں۔ دیہی علاقوں میں تو یہ شرح انتہائی کم ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں حفاظتی ٹیکے لگانے کی یہ شرح صرف 16 فیصد تک رہ جاتی ہے حالانکہ دیہی علاقوں میں بھی بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) موجود ہوتے ہیں جہاں یہ ٹیکے بچوں کو مفت لگائے جاتے ہیں۔ نمونیا دراصل انفیکشن ہی کی ایک شکل ہے۔ دنیا بھر میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی تعداد 2015ء میں 920,000 تھی یعنی روزانہ 25,00 بچے موت کی آغوش میں چلے جاتے تھے۔ جن میں زیادہ تعداد جنوب ایشیا اور افریقی صحرائے اعظم کے جنوبی ممالک کے بچوں کی تھی۔

تاریخ اشاعت: 2018-04-17

Your Thoughts and Comments