بند کریں
صحت مضامینمضامینسر کی چوٹ کی تشخیص ہیڈبینڈ سے ہوگی

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سر کی چوٹ کی تشخیص ہیڈبینڈ سے ہوگی
نت نئی سائنسی تحقیقات نے دنیا میں ایک تہلکہ سا مچایا ہواہے۔ طبی میدان میں بھی خاص پیش رفت ہورہی ہے۔ حال ہی میں آسٹریلیا کے محققین نے سرکی انجریزکی فوری معلومات حاصل کرنے کے لیے ہیڈبینڈ تیار کر لیا ہے۔
نت نئی سائنسی تحقیقات نے دنیا میں ایک تہلکہ سا مچایا ہواہے۔ طبی میدان میں بھی خاص پیش رفت ہورہی ہے۔ حال ہی میں آسٹریلیا کے محققین نے سرکی انجریزکی فوری معلومات حاصل کرنے کے لیے ہیڈبینڈ تیارکرلیاہے۔ سرکے زخموں کی فوری جانچ کے لیے یہ اپنی نوعیت کا پہلا ہیڈبینڈ ہے۔
آسٹریلیا کے محققین کی کاوش سے تیارکیے جانے والے ہیڈبینڈ کو بنیادی طورپر برین بینڈٹیکنالوجی کا تجرباتی عمل قراردیاگیا ہے۔ یہ ہیڈبینڈ اپنی نوعیت کا پہلا ہینڈ ہے جو خاص طور پر کھیل کے دوران کھلاڑیوں کو لگنے والی چوٹوں کے دماغ پر ظاہر ہونے والے اثرات کاجائزہ لے کر تصاویرروانہ کرسکے گا۔ فٹ بال اور رگبی کی کھیلوں میں کھلاڑیوں کو خاصی چوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ ہیڈ بینڈ ان کھیلوں کے علاوہ اگر سرپرکوئی چوٹ لگے گی تو اس کے بھی اثرات ریکارڈ کر سکے گا اور یہ ریکارڈنگ کو جزطبی عملے اور ریفریوں کو فوری طور دستیاب ہوسکے گی۔
نیوروسائنسدان ایلن پیئرس کاکہنا ہے کہ یہ آلہ اس صورت میں بھی مدددے گا جب ایک چوٹ کے بعد تعین کیاجائے گا کہ کھلاڑی میچ کے لیے پوری طرح فٹ بھی ہے کیونکہ ہیڈبینڈ دماغ کی اندرونی سوچ کو ریکارڈ کرکے ماہرین کو مطلع کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ ہیڈبینڈ کی تیاری کاعمل آسٹریلوی ریاست وکٹوریا کے شہر میلیورن میں قائم سون برن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں مکمل کیاگیا۔ ریسرچ کے سربراہ ایلن پیئرس بھی اسی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔اُن کے مطابق چوٹ لگنے کے بعد فوری طور پر کوئی بھی اُس کی شدت کااندازہ نہیں کرسکتا اور ہیڈ بینڈ کی موجودگی میں یہ سہولت دستیاب ہوسکے گی۔
محقق پیئرس نے واضح کیا کہ جس کھلاڑی نے یہ ہیڈبینڈپہنا ہوگا اُس کو دوران کھیل لگنے والی چوٹ کا فوری طور پر اندازہ کیاجاسکے گا اور اس جائزے سے چوٹ کا علاج بھی احسن طریقے سے ممکن ہوسکے گا۔ اُن کے مطابق کھیل کے دوران میدان سے باہر بیٹھے کو چزبھی اندازہ لگاسکیں گے کہ کون سا کھلاڑی غیر معمولی طور پر تھکن محسوس کرتے ہوئے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کررہاہے اور اس طرح اُس کو تبدیل کرنے میں بھی آسانی حاصل ہوگی۔ ہیڈبینڈ پرایک چھوٹی سی مگر تیز روشنی بھی نصب ہوگی جو شدید چوٹ لگنے کی صورت میں جل اٹھے گی۔
پیئرس کے مطابق ہیڈبینڈ کاایک اور بڑافائدہ یہ ہوگا کہ کسی ویک اینڈ پر میچ کے دوراں کھلاڑی کوگرنے سے سرپر چوٹ آئی ہے تو ہسپتال منتقل کرنے پر چوٹ لگنے اور ہسپتال پہنچانے کے دوران چوٹ کی تمام کیفیت اس ہیڈبینڈ میں ریکارڈ ہوگی اور معالج فوری طور پر اس ڈیٹا سے علاج شروع کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ ہیڈبینڈ کاابھی اولین نمونہ تیارکیاگیا ہے اور آج کاآسٹریلیا میں رگبی کے شوقیہ کھیلاڑیوں میں اس کاآزمائشی عمل شروع ہے۔ ابتدائی آزمائشی مرحلے کے دوران جوبھی خامیاں معلوم ہورہی ہیں، اُن کے تناظر میں سون برن یونیورسٹی کے ریسرچرزہیڈبینڈ میں تبدیلیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے