Saree Al Asar Kaloonji - Mutadad Amraz Main Mufeed Hai - Article No. 1954

سریع الاثر کلونجی متعدد امراض میں مفید ہے - تحریر نمبر 1954

پیر ستمبر

Saree Al Asar Kaloonji - Mutadad Amraz Main Mufeed Hai - Article No. 1954
محمد اقبال
کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔اس کا پودا سونف سے مشابہ،خودرو اور چالیس سینٹی میٹر بلند ہوتا ہے۔پھول زردی مائل،بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا ہی بیج سمجھتے ہیں۔کلونجی کے بیجوں کی بو تیز اور شفائی تاثیر سات سال تک قائم رہتی ہے۔صحیح کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ دھبے لگ جاتے ہیں۔

کلونجی کے بیج خوشبو دار اور ذائقے کے لئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں اور اچار اور چٹنی میں پڑے ہوئے چھوٹے چھوٹے تکونے سیاہ بیج کلونجی ہی کے ہوتے ہیں،جو اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتے ہیں یہ سریع الاثر،یعنی بہت جلد اثر کرتے ہیں۔

(جاری ہے)


اطبائے قدیم کلونجی اور اس کے بیجوں کے استعمال سے خوب واقف تھے۔معلوم تاریخ میں رومی ان کا استعمال کرتے تھے قدیم یونانی اور عرب حکماء نے کلونجی کو روم ہی سے حاصل کیا اور پھر یہ پوری دنیا میں کاشت اور استعمال ہونے لگی۔

طبی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم یونانی اطباء کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض،مثلاً ریاح،گیس کا ہونا،آنتوں کا درد،کثرت ایام،استسقا،نسیان(یادداشت کی کمی) رعشہ،دماغی کمزوری،فالج اور افزائش دودھ کے لئے استعمال کراتے رہے ہیں۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کتب سیرت میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی شہد کے شربت کے ساتھ کلونجی استعمال فرماتے تھے۔


کلونجی کی یہ ایک اہم خاصیت ہے کہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے ،جب کہ اس کی اپنی تاثیر گرم ہے اور سردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے،کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ریاح،گیس اور بد ہضمی میں اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔وہ لوگ جن کو کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن،گیس یا ریاح بھر جانے اور اپھارے کی شکایت محسوس ہوتی ہو، کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کے بعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدے کی اصلاح بھی ہو گی۔


اگر دانتوں میں ٹھنڈا پانی لگنے کی شکایت ہو تو کلونجی کو سرکے میں جوش دے کر کلیاں کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔چہرے کی رنگت میں نکھار اور جلد صاف کرنے کے لئے کلونجی کو باریک پیس کر گھی میں ملا کر چہرے پر لیپ کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔اگر روغن زیتون میں ملا کر استعمال کیا جائے تو اور زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔آج کل نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں کیل،دانوں اور مہاسوں کی شکایت عام ہے۔

وہ مختلف بازاری کریمیں استعمال کرکے چہرے کی جلد کو مزید خراب کر لیتے ہیں۔ایسے نوجوان بچے بچیاں کلونجی باریک پیس کر ،سرکے میں ملا کر سونے سے پہلے چہرے پر لیپ کریں اور صبح چہرہ دھو لیا کریں۔چند دنوں میں بڑے اچھے اثرات سامنے آئیں گے اس طرح لیپ کرنے سے نہ صرف چہرے کی رنگت صاف و شفاف ہو گی اور مہاسے ختم ہوں گے بلکہ جلد میں نکھار بھی آئے گا۔

جلدی امراض میں کلونجی کا استعمال عام ہے جلد پر زخم ہونے کی صورت میں کلونجی کو توے پر بھون کر روغن مہندی میں ملا کر لگانے سے نہ صرف زخم مند مل ہو جائیں گے بلکہ نشان دھبے بھی جاتے رہیں گے۔
آج کی مشینی زندگی اور جدید لوازمات نے انسان کو اعصابی طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا ہے اور ہر دوسرا انسان اعصابی دباؤ اور تناؤ میں مبتلا ہے ۔ایسے لوگ کلونجی کے چند دانے روزانہ شہد کے ساتھ استعمال کرلیا کریں،چند دنوں میں خود کو بہتر محسوس کریں گے پیٹ اور معدے کے امراض،پھیپھڑوں کی تکالیف اور خصوصا دمے کے مرض میں کلونجی بہت مفید ہے۔

کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل ہمراہ شہد استعمال کروایا جاتا ہے۔یہ پرانی پیچش میں بھی مفید ہوتا ہے جن لوگوں کو ہچکیاں آتی ہوں وہ کلونجی کو سفوف تین گرام،کھانے کے ایک چمچ مکھن میں ملا کر استعمال کریں تو فائدہ ہوتا ہے۔
کلونجی سے نکلنے والا تیل دو قسم کا ہوتا ہے ایک سیاہ رنگ میں خوشبو دار جو ہوا میں اٹھنے سے اڑنے لگتا ہے اور دوسری قسم انٹروی کے تیل جیسا جس کے دوائی اثرات بہت زیاد ہ ہوتے ہیں،یہ تیل بیرونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور بہت سے جلدی امراض میں مفید ہے۔

یہ تیل بال خورہ کی شکایت میں بہت فائدہ دیتا ہے۔بالخورہ میں بال اڑ جاتے ہیں اور دائرے کی صورت میں نشان بن جاتا ہے پھر دائرہ دن بدن بڑھتا ہے اور عجیب سی ناخوشگواری کا احساس ہوتا ہے۔یہ تیل سر کے گنج کو دور کرنے اور بال اگانے میں بھی مفید ہے۔مزید یہ کہ اس تیل کے استعمال سے بال جلد سفید نہیں ہوتے اور اس تیل کو مختلف طریقوں سے داد،اگزیما میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اگر جسم کا کوئی حصہ بے حس ہو جائے تو یہ تیل مفید ہے۔کان کے ورم اور نسیان میں بھی یہ تیل مفید ہے۔
کلونجی کو مختلف طریقوں سے زہر کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔پاگل کتے کے کاٹنے یا بھڑ کے کاٹنے کے بعد کلونجی کا استعمال مفید ہے۔کلونجی میں ورموں کو تحلیل کرنے اور گلٹیوں کو گھلانے کی بھی صفت ہے۔برص بڑا ہٹیلا مرض ہے۔اس کے سفید داغ جسم کو بد صورت بنا دیتے ہیں۔

اگر برص کے مریض کلونجی اور ہالون برابر برابر وزن لے کر توے پر بھون کر تھوڑا سرکہ ملا کر مرہم بنا کر مسلسل تین چار ماہ برص کے نشانوں پر لگاتے رہیں اور کلونجی اور ہالون کا باریک سفوف شہد کے ساتھ روزانہ نہار منہ استعمال کیا کریں تو جلد فائدہ ہوگا۔ کلونجی کی دھونی سے گھر میں پائے جانے والے کیڑے مکوڑے ہلاک ہو جاتے ہیں۔اسی خصوصیت کے سبب کلونجی کو گھروں میں قیمتی کپڑوں میں رکھا جاتا ہے تاہم کلونجی کے استعمال میں یہ امر پیش نظر رہے کہ یہ طویل عرصہ اور زیادہ مقدار میں استعمال نہ کی جائے کیونکہ اس میں کچھ مادے ایسے بھی ہوتے ہیں جو صحت کے لئے مضر ہو سکتے ہیں۔


البتہ وقفہ دے کر پھر سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ویسے بھی اعتدال مناسب راہ عمل ہے۔وٹامن ڈی ایک انتہائی اہم غذائی جزو ہے جو انسان کی ہڈیاں،دانتوں اور قوت مدافعت کی افزائش کے لئے بے حد ضروری ہے۔ان کے علاوہ بھی وٹامن ڈی کے بے حد فوائد ہیں لہٰذا اس کو اپنی غذا میں باقاعدگی سے استعمال کرنا لازمی ہے۔ماہرین نے حالیہ تحقیق میں پیٹ کے گرد جمی چربی کو وٹامن ڈی کی کمی کا سبب قرار دے دیا۔

دی امیریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک ہیلتھ رپورٹ کے مطابق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ وٹامن ڈی کمی ناصرف ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہیں بلکہ چربی جمنے کی وجہ بھی وٹامن ڈی کی کمی ہے جبکہ یہ قوت مدافعت کی کمزوری کا باعث بھی بنتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی مطلوبہ مقدار کا خواتین کے جسم میں ہونا بہت ضروری ہے۔

واضح رہے کہ ماہرین نے کورونا وائرس کا جلد شکار ہونے والے افراد سے متعلق کہا تھا کہ جن افراد میں وٹامن ڈی کی کمی ہو وہ بہت جلد کورونا سے متاثر ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے۔وٹامن ڈی کی کمی دور کرنے کے لئے صبح 10بجے سے پہلے تک اور شام 4بجے کے بعد 10سے 15 منٹ تک دھوپ سیکیں۔اپنی غذا میں وٹامن ڈی سے بھرپور غذاؤں کا استعمال کریں جنا میں گھمبیاں،دودھ،دلیہ،دہی،مچھلی،انڈہ،پنیر،مٹر اور پالک شامل ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-14

Your Thoughts and Comments